سلسلہ روز و شب – لونڈیاں ، ان کا ستر اور ہمارے اسلاف (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

لونڈیاں ، ان کا ستر اور ہمارے اسلاف

ایک اخلاقی جرم کی نشان دہی

 

معروف عالم اور ماہنامہ الشریعہ کے مدیر محترم عمار خان ناصر نے اپنی فیس بک وال پر لونڈیوں کے ستر کے حوالے سے قدیم فقہا کی آرا نقل فرمائیں جن میں یہ بیان کیا گیا کہ لونڈیوں کا ستر گھٹنوں سے ناف تک ہے۔ نیز آثار وفقہا کی آرا کی روشنی میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ اگر لونڈی خریدنے کا ارادہ ہو تو اسلاف کے نزدیک لونڈیوں کے ستر کے علاوہ حصے کو چھوا بھی جا سکتا ہے ۔

ان تصریحات کا پس منظر اس اخلاقی رویے پر توجہ دلانا تھا جو لوگوں نے ایک عالم کی اس رائے کے سامنے آنے کے بعد اختیار کیا کہ غیر محرم سے مصافحہ جائز ہے۔ عمار صاحب کو اس رائے سے اختلاف تھا اور اس خاکسار کو بھی ہے ۔ مگر انھوں نے قدیم فقہا کے اقوال نقل کر کے اسلام کے نام پر ساری اخلاقی حدود پامال کرجانے والے لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ کیا وہ اس بداخلاقی کا مظاہرہ اسلاف کے معاملے میں بھی کریں گے۔ یہ گویا ایک لطیف طریقے سے ایک اخلاقی جرم کی نشان دہی تھی۔

تاہم اس سے ایک دوسرا مسئلہ یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ قدیم علم سے ناواقف جدید ذہن کے لوگ اسلاف اور صحابہ سے بدگمان ہونے لگے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں کچھ معروضات میں نے تحریر کی تھیں جو رسالے کے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ خیال رہے کہ لونڈیوں اور غلامی کے مسئلے پر اتنے سوالات ہیں کہ بار بار مختلف پہلوؤں سے بات واضح کرنا ہوتی ہے ۔ اب میں نے یہ طے کیا ہے کہ اس حوالے سے پچھلے برسوں میں جو کچھ لکھا ہے اسے ایک کتابچے کی شکل میں شایع کر دیا جائے ۔ انشاء اللہ اس سے سنجیدہ لوگوں کو ان کے سوالات کا جواب مل جائے گا۔ رہے وہ لوگ جو بات سمجھنا نہیں چاہتے ان کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس تمہید کے بعد میری تحریر ملاحظہ فرمائیے ۔

لونڈیوں کا ستر

برادر عزیز عمار خان ناصر نے فیس بک پر اپنی پے در پے پوسٹوں سے جو بحث اٹھا دی ہے، اس کے کئی پہلو ہیں ۔ ان میں سے ایک اہم پہلو لونڈیوں کا ستراور ان کے حوالے سے بیان کردہ بعض رویوں سے متعلق ہے۔ ان چیزوں کو پڑھ کر بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا دین اسلام لونڈیوں کوانسان نہیں سمجھتا تھا۔ اوریہ کہ ہمارے قابل احترام اسلاف کی کتب میں اس طرح کی چیزیں کیوں ملتی ہیں جو بظاہر اخلاقی طور پر قابل اعتراض لگتی ہیں ۔

اس کی وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ بات صرف اسلاف کے علمی ذخیرے تک ہی محدود نہیں ، بلکہ قرآن اور خاص کر احادیث پر اسی پہلو سے بعض سنگین اعتراضات کیے جاتے ہیں ۔ گرچہ ہمارے جیسے طالب علم ان کی بنیاد پر مستشرقین کے اسلام، قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے سے واقف ہیں اور ان کا جواب دیتے رہتے ہیں ، مگر عام لوگ ان چیزوں سے واقف نہیں ۔ جب دیگر ذرائع سے ان تک ایسی چیزیں پہنچتی ہیں تو ان کا اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے ۔ نیز احادیث میں اسی نوعیت کی بعض چیزوں کو دیکھ کر انکار حدیث کا ایک ذہن پیدا ہوجاتا ہے ۔

میں آغاز کلام میں اس حوالے سے اپنا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا جس کی وجہ سے بالکل ابتدئی زمانے ہی میں مجھے اس مسئلے کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کا موقع مل گیا تھا۔ تقریباً ربع صدی قبل میں علوم اسلامی کی تعلیم کے زمانے میں اصلاحی دروس دیا کرتا تھا۔ ان دروس میں میری دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے میرے کلاس فیلو اور جونیئر طلبا و طالبات شریک ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ مجھ سے بہت عزت اور محبت کا تعلق رکھتے تھے۔ کسی موقع پر میں نے درس میں ایک حدیث بیان کر دی جس میں بدکاری کی شناعت کو ذرا کھل کر بیان کیا گیا تھا۔ اس حدیث کے بیان کرنے پر درس میں موجود کچھ طالبات نے مجھ سے احتجاج کیا۔

یہیں سے میں نے پہلی دفعہ اس پر سوچنا شروع کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے بنیادی علمی ذخیرے میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا بیان کرنا یا سننا بھی ہمارے مروجہ معیارات کے مطابق درست نہیں۔ اتفاق سے ہمارے نصاب میں سورہ قیامہ موجود تھی۔ ہر کلاس کے سارے لڑکے لڑکیاں ایک مرد استاد سے اس سورت کی آیت أَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّن مَّنِیٍّ یُمْنَی (کیا انسان ایک قطرہ منی نہ تھا جو ٹپکادی جاتی ہے) کی تشریح و تفسیر پڑھتے تھے۔ ان طالبات کو تو میں نے اس پس منظر میں بات سمجھا دی ، لیکن خود اپنے اندرسوالات کی ایک دنیا پیدا ہو چکی تھی۔ چلیں وہاں تو مخلوط تعلیم پر لعنت بھیج کر اس مسئلے سے جان چھڑائی جا سکتی تھی، مگر اُس وقت تک میں عمرہ ادا کر چکا تھا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسجد الحرام میں سب مرد و زن موجود ہوتے اور امام صاحب قرآن کی یہی سورتیں پڑھا رہے ہوتے تھے ۔

عربوں کا ثقافتی پس منظر

چنانچہ اصل مسئلہ یہ سامنے آیا کہ بات حدیث کی بھی نہیں ہے ۔ قرآن کی ہے ۔ اس کو تو نمازوں میں پڑھایا جاتا ہے ۔ زمانہ رسالت میں تو مردوں کے پیچھے ہی خواتین کی صفیں ہوتی تھیں ۔ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ(انسان کو ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا)، نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُواْ حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ (تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں تو جہاں سے چا ہو اپنی کھیتیوں میں آؤ)، فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً(پس جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھالیا ) اور ان جیسی کئی آیات قرآن ہی میں موجود ہیں ۔انھیں پڑھا بھی جاتا اورسنا بھی جاتا ہو گا۔ اچھا! ماننے والوں کو چھوڑ دیجیے منکرین کا کیا کریں گے ۔ کفار مکہ کے خلاف قرآن مجید نے پوری چارج شیٹ عائد کی ہے ۔ ان کی فکری، عملی اور اخلاقی کمزوریوں کو کھل کر نشانہ بنایا۔ جواب میں انھوں نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ مگر قرآن مجید پر یہ الزام نہیں لگایا کہ اس میں اخلاقی طور پر کوئی معیوب بات ہے۔ حالانکہ ان کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ قرآن اور صاحب قرآن کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کی آیات کو بنیاد بنا کر یہ بات اچھالیں کہ قرآن مجید کی تماثیل اورمضامین اخلاق اور ادب کے معیارات سے گرے ہوئے ہیں ۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عربوں کے مزاج اور معاشرت میں اس طرح کی باتیں معیوب نہ تھیں۔ احادیث کے ذخیرے میں جو بعض واقعات، مکالمات نظر آتے ہیں، وہ بھی اسی عرب کلچر کی عکاسی کرتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے عربی قصائد کو جانے دیجیے کہ شاعری اخلاقیات کی پابند نہیں ہوتی۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ بہرحال موجود ہے کہ شاعری ان کے ہاں خواص تک محدود نہ تھی بلکہ پورے معاشرے کا شغل تھا۔ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ہیں جو میر سے لے کر مصحفی جیسے کلاسیکل شعراء کے ہاں پائے جانے والے معاملہ بندی کے اس رنگ کو جانتے ہیں جس میں عشق کی چنگاری کے بجائے جنس کی آگ بھڑکتی ہے۔ جن کو یہ اشعار آتے ہیں وہ کسی مہذب مجلس میں ان کو نہیں پڑھ سکتے جبکہ اہل ذوق جانتے ہیں کہ امراء القیس کا معلقہ کیا تھا ، اس کے بعض اشعار کی نوعیت کیا تھی اور یہ کہ وہ بطور اعزازخانہ کعبہ میں لٹکا ہوا تھا۔ اس سے کم از کم عرب کی معاشرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک کھلا ہوا معاشرہ تھا۔

تاہم میری بات کا کوئی غلط مطلب نہ نکالیے گا۔عربوں کے ہاں عہد جاہلی کے ادب میں جو اخلاقی گراوٹ تھی، قرآن مجید کسی پہلو سے اس کا کوئی شائبہ بھی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ قرآن مجید ادب عالیہ کا شاہکار ہونے کے باوجود ہر قسم کی اخلاقی گندگی سے بہت بلند ہے۔ ہاں بند معاشروں میں جو غیر فطری پابندیاں زبان و بیان پر بھی عائد ہوجاتی اور تہذیب سے گری ہوئی سمجھی جاتی ہیں ، قرآن مجید ان پابندیوں کو قبول نہیں کرتا۔ بلکہ زندگی کے حقائق کو ایک فطری دائرے میں رہتے ہوئے بیان کر دیتا ہے ۔ یوں یہ ہماری حدود کا تعین بھی کر دیتا ہے ۔

احادیث کا ذکر میں اس وقت اس لیے نہیں کروں گا کہ وہ اس وقت اصلاً زیر بحث نہیں ہیں۔ تاہم جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان میں بیان کردہ بعض واقعات اور مکالمات کو بھی عرب کی اُس وقت کے کلچر کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ بعض نادان اس بات کو نہیں سمجھتے ۔ اپنے عجمی پس منظر میں ان روایات کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی ناشائستہ چیزوں کا بیان کس طرح ان مقدس شخصیات کے حوالے سے درست ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ اعتراض اس پس منظر سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے جسے ابھی ہم نے بیان کیا ہے ۔

تین بنیادی چیزیں

عربوں کے اس ثقافتی پس منظر کو واضح کرنے کے بعد اب ہم اس مواد کی طرف آتے ہیں جس کا کچھ حصہ جب سامنے آیا تو تہلکہ مچ گیا۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اس طرح کے مواد کو سامنے آنا ہی نہیں چاہیے ۔ مگر انفارمیشن ایج میں اب کچھ بھی چھپانا ممکن نہیں رہا ہے۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ یہ اشاعت فاحشہ ہے ۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ ہم اس کی تفصیل ابھی کیے دیتے ہیں ۔

فقہا کی اس طرح کی عبارتوں سے جو توحش پیدا ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے لوگ تین چیزوں سے واقف نہیں ہیں ۔ ایک وہی جس کا ذکر اوپر ہوا یعنی عرب ثقافت ہماری طرح بند نہ تھی بلکہ وہ ایک فطری معاشرہ تھا۔اسلام کے آنے کے بعد اخلاقی گراوٹ گرچہ ختم ہوگئی مگر جو فطری آزادیاں انھیں اسلام سے قبل حاصل تھیں ، وہ اسلام کے بعد بھی حاصل رہیں ۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ جنسی معاملات ان کے ہاں ایسی ناگفتنی چیز نہ تھے ، جیسے ہمارے جیسے بند معاشروں میں سمجھے جاتے ہیں ۔

فقہا کا طرز بیان

دوسری چیز جس سے لوگ واقف نہیں وہ ہمارے فقہا کا طرز بیان ہے۔ جس پہلو سے ہمارے ہاں اسلام کوایک مکمل ضابطہ حیات سمجھا جاتا ہے ، یہ حیثیت اصل میں ہمارے فقہا کے کام کو حاصل ہے ۔ یعنی وہ زندگی کے ہر شعبے اور ہر معاملے کے ہر ممکنہ جزوی پہلو پر بھی انتہائی تفصیل اور وضاحت سے گفتگو کرتے ہیں۔ پھر فقیہ چونکہ قانون دان ہوتا ہے تو وہ ہر چیز کی قانونی حدود طے کرتا ہے ۔ یہ قانونی حدود مروجہ اخلاقی حدود میں رہ کر بیان نہیں ہو سکتیں ۔ اس کے لیے تو پھر بغیر کسی ابہام کے قطعیت کے ساتھ بات بیا ن کرنا پڑتی ہے ۔

اس حوالے سے ایک لطیفہ بھی سنتے چلیں ۔ کسی ملک کے قانون میں فحاشی کو قابل تعزیر جرم کی حیثیت دی گئی تو یہ بیان کرنا ناگزیر ہو گیا کہ فحاشی کیا ہوتی ہے۔ جب فحاشی کی قانونی تعریف مکمل کر کے لکھ دی گئی تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ فحش چیز وجود میں آ چکی ہے ۔

بہرحال بات یہ ہے کہ قانونی معاملات کا زاویہ الگ ہوتا ہے ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں مقاربت کا معاملہ ہو یا طہارت کا، جنس کا ہو یا عورتوں کا، ہمارے فقہا بال کی کھال اتارتے ہوئے آخری تفصیل بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی بحثوں کو اخلاقی دائرے یا شائستگی کے مسلمہ پیمانے پر نہیں ناپنا چاہیے ۔ یہ کام ہی غلط ہے۔ نہ اس سے یہ تاثر لینا چاہیے کہ ہر ہر شخص ہر موقع پر یہی کام کر رہا ہوتا تھا جو فقہا بیان کرتے ہیں۔ مثلاً فقہا بیان کرتے ہیں کہ آزاد عورت کا ستر آزاد عورت کے لیے وہی ہے جو لونڈی کا نامحرم کے لیے ہے۔ یعنی ناف سے گھٹنوں تک۔ مگر کیا ساری خواتین ہر وقت دیگر خواتین کے سامنے اسی حلیے میں گھومتی رہتی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ اب کبھی ہو سکتا ہے۔ یہ بیان قانون ہوتا ہے بیان واقعہ نہیں ۔

اسی کے ذیل میں دو اور باتیں بھی سمجھ لینا چاہییں ۔ ایک یہ کہ احادیث کی کتابیں بھی اصلاً فقہی کتابیں ہی ہیں ۔ ان میں بیان ہونے والے احادیث کی اصل نوعیت دراصل محدثین کے اپنے نقطہ نظر کے اثبات کے لیے بیان کیے ہوئے دلائل کی تھی۔ یعنی کسی مسئلے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر ثابت کرنے کے لیے آثار و روایات کو پیش کیا جاتا تھا۔ دوسری یہ کہ محدثین ہوں یا فقہا ان کا کام علمی نوعیت کا ہے۔ انھوں نے زندگی کے علم کو مدون کیا ہے ۔ نابالغ بچوں کے لیے کورس کی کتابیں نہیں لکھیں کہ ان کی اس نوعیت کی چیزوں پر اعتراض کیا جائے یا ان سے حسن ظن ختم کر دیاجائے ۔

غلامی کی وسعت اور نوعیت

تیسری اور سب سے اہم بات غلامی کے ادارے کو سمجھنا ہے ۔ آج کل کے لوگ اس کا کوئی معمولی سا اندازہ بھی نہیں کرسکتے کہ زمانہ قدیم میں غلامی کا ادارہ کتنا ہمہ گیر اور معاشرتی زندگی کا کیسا ناگزیر حصہ تھا۔ میں اس کو سمجھانے کے لیے ہمیشہ موجودہ دور کی سروس انڈسٹری سے دیتا ہوں ۔ جیسے آج کل کی ملازمت معاشرت کا ناگزیر حصہ ہے جس کے بغیر کوئی گھر اور دفتر، دکان اور منڈی نہیں چل سکتی، اسی طرح زمانہ قدیم کے زرعی دور میں زندگی غلامی پر منحصر تھی۔

ہم جو ملازمت کرتے ہیں وہ آٹھ گھنٹے کی ایک محدود غلامی ہی ہوتی ہے۔ ہماری نفسیات نے اس کو قبول کر لیا ہے ۔ زمانہ قدیم میں غلامی کو انسانی معاشروں نے ایسے ہی قبول کر لیا تھا۔ لونڈی غلام وہاں انسان نہیں بلکہ چیزیں سمجھے جاتے تھے ۔ لونڈیاں اس ادارے کا آدھا حصہ تھیں جن کا غلاموں کی بنسبت دہرا کردار تھا۔ ایک طرف وہ ملازماؤں اور خادماؤں کا کردار ادا کرتی تھیں تو دوسری طرف وہ مردوں کی جنسی تسکین کا ایک ذریعہ بھی تھیں ۔

غلامی مسلمانوں کی ایجاد نہیں تھی۔ زرعی دور میں یہ پوری دنیا کا معاملہ تھا۔ مسلمان اسی دنیا کا حصہ تھے۔ قرآن مجید نے اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ایک پورا طریقہ کار وضع کیا تھا۔ یہ مقصد کیوں پورے طور پر حاصل نہیں ہو سکا، اس پر میں نے پچھلے برسوں میں متعدد تفصیلی مضامین لکھ کر یہ بتایا ہے کہ مسئلہ کیا ہو گیا تھا۔ ان میں سے ایک تفصیلی مضمون میری کتاب ملاقات میں ’’اسلام اور لونڈیاں ‘‘ کے عنوان سے موجود ہے۔ دلچسپی رکھنے والے قارئین اسے پڑھ سکتے ہیں۔ سردست بہت اختصار سے عرض ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں خلفائے راشدین نے غلامی کے خاتمے کا وہ تدریجی عمل جاری رکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کیا تھا۔ مگر اُس دور کی فتوحات کے نتیجے میں لاکھوں نئے غلام اسلامی معاشرے میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد جلد ہی خلافت راشدہ ختم ہوگئی اور مسلم معاشرہ آمریت کی غلامی میں چلا گیا۔ یوں ساری اصلاحات کا پہیہ پہلے رکا اور پھر الٹ گیا۔ جب پوری قوم ہی آمریت کی اسیر ہوگئی تو اس کے بعد کس کو فکر ہوتی کہ انفرادی غلامی ختم ہونی چاہیے ۔ یوں دنیا کی نئی سپر پاور یعنی مسلمانوں کے مراکز جلد ہی دنیا بھر سے آنے والے لونڈی غلاموں کی منڈیاں بن گئے ۔

لونڈی ایک تجارتی مال تھا جو بازار میں بک رہا تھا۔ مال کو تو مال کے اصول پر خریدا جاتا ہے ۔ دیکھا بھالا بھی جاتا ہے۔ فقہا کے سامنے ایک تجارتی مسئلہ آیا۔ انھوں نے اپنے قانونی طریقے پر بالکل قانونی جواب دے دیا۔ اگر معاشرے نے غلامی کو قبول کر رکھا ہے ، بازاروں میں دنیا بھر کے لونڈی غلام مہنگے داموں فروخت ہونے کے لیے لائے جا رہے ہیں ، امراء کے حرم بھرے جا رہے ہیں ، عوام کی ضروریات بھی انھی پر موقوف ہیں ، لونڈیاں ہر گھر میں موجود ہیں ، سارے کام کاج وہی کرتی ہیں تو بے چارے فقہا کیا کریں ۔ وعظ کریں کہ لونڈیوں کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کر لی جائیں ؟

باقی جہاں تک یہ سوال ہے کہ لونڈیوں کا ستر عام خواتین کے سترسے مختلف کیوں سمجھا گیا تو اس میں ایک پہلو وہی ہے جو پیچھے بیان ہوا کہ ناف سے گھٹنے تک کے ستر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ لونڈیاں ہمیشہ اپنی قمیض اتار کر گھومتی تھیں ۔ دوسرا یہ کہ لونڈیاں سروس انڈسٹری کا حصہ تھیں جنھیں وہ سارے کام کاج کرنا ہوتے تھے جن کے ساتھ وہ پابندیاں عائد کرنا جو عام مسلمان خواتین پر لگائی گئی تھیں ، عملاً ممکن نہ تھیں ۔ وہ اُس زمانے میں گھروں میں کیا جانے والا کام کاج کرتیں یا محرم نا محرم کا خیال کر کے چادر سے سر اور جسم ڈھانکتی پھرتیں۔ چنانچہ فقہا نے ان کے حوالے سے جو قانون سازی کی وہ عرف وعادت پر مبنی تھی۔ اصل خرابی فقہا کی عبارتوں میں نہیں لونڈی غلاموں کے اس نظام میں تھی جو ایک عالمگیر برائی کے طور پر زمانہ قدیم میں موجود تھا۔

ایک طالبعلمانہ مشاہدہ

تاہم اس حوالے سے میرا اپنا ایک مشاہدہ ہے جو میں دین کے سنجیدہ طالب علموں کے سامنے رکھنا چاہ رہا ہوں ۔ ہمارے ہاں ایک الزام اکثر و بیشتر دہرایا جاتا ہے کہ فلاں عالم مغرب سے متاثر ہے اور مغربی تصورات کو اسلام کے نام پر دین میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کیا کبھی کسی نے ابتدائی صدیوں میں تشکیل پانے والے فقہی ڈھانچے کا بھی اس پہلو سے جائزہ لیا ہے کہ اس نے کس حد تک اس دور کے عالمی تصورات کا اثر قبول کیا تھا۔ اسی غلامی اور لونڈیوں کے ستر کو لے لیجیے ۔ کیا ہماری فقہ میں اس کا ماخذ قرآن و سنت ہیں یا پھر اُس دور کے رائج تصورات؟ میں اس طرح کی درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں۔ جو لوگ دیانت داری کے ساتھ علم و تحقیق کا ذوق رکھتے ہیں وہ اس پر غور کریں گے تو بہت سی چیزیں واضح ہوں گی۔

میں نے اپنے علمی ذوق کو ایک کونے میں رکھ کر اپنے لیے ایک دوسرا میدان منتخب کر رکھا ہے ۔ یہ ایمان و اخلاق اور دعوت کا میدان ہے ۔ اسی کا تقاضہ ہے کہ اس مضمون کے آخر میں وہ اصل مسئلہ بیان کر دوں جہاں سے عمار صاحب نے یہ پوری بحث اٹھائی تھی۔ لوگوں نے ایک عالم سے اختلاف کرتے ہوئے اخلاق کی ہر سرحد کو پار کر لیا تھا۔ بلامبالغہ بات گھر کی خواتین تک پہنچ گئی تھی۔ لوگ جب اس حد پر چلے گئے تواللہ کی مشیت کا یہ تقاضہ ہوا کہ لوگوں کے قدموں سے اخلاقی جواز کی وہ زمین کھینچ لیں جس پر کھڑے ہوکر وہ خود ساری اخلاقی حدود پار کر رہے تھے ۔ اس کے بعد بھی لوگ باز نہیں آئے توبڑے دن کی حاضری کے وقت فیصلہ ہوجائے گا۔

ہلاکت ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے ، یہ جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کے لیے ناپتے یا تولتے ہیں تو اِس میں ڈنڈی مارتے ہیں ۔ کیا یہ نہیں سمجھتے کہ یہ اٹھائے جائیں گے؟ ایک بڑ ے دن( کی حاضری ) کے لیے۔ اس دن جب لوگ پروردگار عالم کے حضور پیشی کے لیے اٹھیں گے ،
(المطففین 84: 6-1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان، انداز فکر اور صحابہ کرام

لونڈیوں کے حوالے سے لکھے گئے مضمون میں اس عاجز نے یہ واضح کر دیا تھا کہ برادر عزیز عمار خان ناصرنے جو بحث اٹھائی ہے اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس طرح کے نازک مباحث میں انھی پہلوؤں پر قلم اٹھایا جائے جہاں لوگ سوال اٹھا دیں۔ ہم جان بوجھ کر بعض آثار کو زیر بحث نہیں لائے تھے جن میں صحابہ کرام کا ذکر کیا گیا تھا۔ مگر اب احباب نے لونڈیوں کے ساتھ بیان کیے جانے والے رویے کوباربار اٹھایا ہے تو اب اس پر بات ہو گی۔

زیر بحث آثار میں حضرت عمر کے حوالے سے یہ بیان ہوا ہے کہ وہ لونڈیوں کو سر ڈھانکنے سے روکتے تھے بلکہ اس میں سختی کرتے تھے جبکہ حضرت علی اور حضرت ابن عمر کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ لونڈیاں خریدتے وقت جسمانی جانچ کے قائل تھے ۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ ان آثار میں صحابہ کرام کے رویے کی وضاحت کی جائے ۔ یہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور یہی سوال اس مضمون کے لکھنے کا سبب ہے۔ ہم سب اپنے اپنے انداز فکر کی عدالت لگا کر دوسروں کو جواب دہی کے کٹہرے میں کھڑے کرنے کے کیوں عادی ہو چکے ہیں ۔ ممانعت اس بات کی نہیں ہے کہ سوال کیا جائے ۔ روکا اس بات سے بھی نہیں جا رہا کہ اعتراض کیا جائے ۔ کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنا تو ویسے ہی اچھی عادت ہے ۔

مگر اصل مسئلہ ہمارے انداز فکر کا ہے ۔ یہ انداز فکر یہیں پر نہیں رکتا۔ یہ آگے بڑھتا ہے ۔ ایک دوسرا شخص اٹھے گا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی اور آپ کے بعض اعمال کے حوالے سے چیزیں نکال لے گا ۔ بات یہیں تک نہیں رکے گی خود رب کائنات کی ہستی کو لوگ اسی اصول پر نشانہ بناتے ہیں ۔ ہماری زندگی انھی سوالوں کے جواب دیتے ہوئے گزرگئی ہے ۔ ہم ابھی بھی اس خدمت کو سرانجام دینے کے لیے تیار ہیں ۔

مگر حضور یہ مسئلہ یہیں تک نہیں رکتا۔ یہ آپ کے گھر تک پہنچتا ہے۔ آپ کے حلقہ احباب تک پہنچتا ہے۔ آپ کی بیوی بچوں تک پہنچتا ہے۔ ہر شخص آپ کے احتساب کی زد میں آ جاتا ہے ۔ آپ اگر مذہبی پس منظر رکھتے ہیں تو آپ جلیل القدر علمائے دین اور محققین کو بھی اپنے ناقص علم کی عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑ ا کرتے ہیں۔ ساری فرقہ واریت، تعصب اور ہٹ دھرمی اور ذاتی زندگی اور تعلقات میں بیشتر خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ چلیں اس کو تو پھر جانے دیں کہ کٹہرے میں آپ ہمیشہ دوسروں کو ہی لاتے ہیں ، مگر رکیے ! اور سنیے ! اس انداز فکر کے بعد آپ اللہ کے حضور رعایت کا ہر استحقاق کھوچکے ہیں ۔

روز قیامت اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے ۔ آپ کے زمانے ، حالات، ماحول، پس منظر کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ آپ کی ہر کمزوری کو جرم سمجھا جائے گا۔ ہر خطا کی پرسش ہو گی۔ اور ہر گناہ قابل گرفت ٹھہرے گا۔ اس لیے یہ طے کیجیے کہ آپ سوال کر کے بات سمجھنا چاہتے ہیں یا دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا شوق ہے ۔ ہمیں آپ کے اختلاف رائے کے حق کا کوئی انکار نہیں۔ ہم اللہ اور رسول کے دفاع کے علاوہ باقی کسی کے دفاع کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ لیکن یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ جتنا حسن ظن ہمیں اپنے آپ سے ہے ، اتنا دوسروں سے بھی رکھنا چاہیے۔ دوسروں کے رویے کی ہمیشہ بہتر تاویل کرنا چاہیے ۔ بس دو باتیں یاد رکھنا چاہییں ۔ ہمارا دین اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے ۔ اس کے علاوہ ہر شخص انتہائی محترم ہو سکتا ہے ، دین نہیں بن سکتا نہ اس کے کسی معاملے سے دین پر ہمارا اعتماد مجروح ہونا چاہیے ۔ دوسرے یہ کہ ہم سب انسان ہیں ۔ یہ صرف ہمارا رب ہے جو ہر عیب اور خطا سے پاک ہے ۔

اب آئیے اصل سوال کی طرف ۔ اس سوال کا جواب بہت اختصار سے پچھلے مضمون میں دیاجا چکا ہے ۔ اس کی تفصیل بار بار ہم اپنے مختلف مضامین میں کر چکے ہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور کے لوگ آزادی کے دور میں پیدا ہونے والے شہری لوگ ہیں ۔ غلامی تو دور کی بات ہے یہ تو دیہاتوں کے فیوڈل لارڈ کے ہاں مزارعوں کی حیثیت سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اگر آپ غلامی کے پھیلاؤ اور لونڈی غلاموں کی اُس دور میں حیثیت سے واقف نہیں ہیں تو آپ اس مسئلے کو سمجھ ہی نہیں سکتے ۔

اسے سمجھانے کے لیے ہم ایک دوسری مثال پیش کرتے ہیں ۔ سود کی شناعت اور قرآن و حدیث میں اس پر آنے والی وعیدوں سے ہم سب واقف ہیں۔ دوسری طرف دور جدید میں سود کا پھیلاؤ کتنا بڑھ گیا ہے۔ مگر ابھی یہ اس کا آغاز ہے ۔ دنیا بھر کی حکومتوں کا پروگرام ہے کہ ہے اگلے چند برسوں میں سوائے بینک کے کوئی خریدو فروخت نہیں ہو سکے گی۔ آپ بینک کو بیچ میں لائے بغیر کچھ خرید سکیں گے نہ بیچ سکیں گے۔ نہ ملازمت ہو گی، نہ کاروبار ہو گا نہ دکان چلے گی۔ نہ گھر ہو گا نہ شاپنگ۔ یہ کسی ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا نظام اسی اصول پر منسلک ہوجائے گا۔ ایسے میں پہلی دفعہ کہیں مغربی معاشرے میں اسلام پھیلنے لگتا ہے تو بتائیے کہ کیا ہو گا۔ کیا ہو گا کو چھوڑ یے ہم بتاتے ہیں ابھی کیا ہو رہا ہے ۔

اس وقت جب کہ ہم ایک مذہبی ملک میں موجود ہیں عام لوگوں کو تو چھوڑیں ہر مذہبی آدمی ، ہر مذہبی تنظیم کا بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔ ہر بڑی ٹرانزیکشن بینک سے ہوتی ہے ۔ بینکنگ سسٹم کی ساری طاقت اسی اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن میں ہوتی ہے۔ اس پہلو سے بینک اکاؤنٹ کھلوانا سب سے بڑا جرم ہے ۔ تو کیا ہم اس اصول پر اپنے نیک لوگوں کا احتساب شروع کر دیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم ان لوگوں پر اعتراض کرسکتے ہیں جو دن رات سود کے خلاف کالم لکھتے اور مہمیں چلاتے ہیں اور پھر بھی بینکنگ سسٹم سے ہر پہلو سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ باقی لوگوں کو اس برائی کے پھیل جانے کی بنا پر بہرحال رعایت ملے گی اور ان کے تقویٰ کا پیمانہ یہ نہیں بن سکتا کہ انھوں نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوا رکھا ہے یا بینک ٹرانزیکشن کرتے ہیں ۔

چنانچہ جب آپ بینک اکاؤنٹ کھلوائیں گے تو اپنی پسند اور سہولت دیکھیں گے۔ یہ بھی دیکھیں گے کہ کس کا لا کر محفوظ ہے اور کس کی سروس اچھی ہے۔ اس روشنی میں صحابہ کے لونڈیوں کے بارے میں طرز عمل کو دیکھیے۔ امید ہے کہ ان کے طرز عمل میں آپ کچھ حسن ظن کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر پھر بھی اطمینان نہ ہو تو پہلے اپنا بینک اکاؤنٹ بند کروائیں۔ آئندہ کسی حال میں اکاؤنٹ یا لا کر نہ کھولنے کا عزم کریں اور پھر ہم سے آ کر سوال کریں کہ وہ لونڈیوں کو خریدنے سے قبل ان کا جائزہ لینے کو کیوں روا سمجھتے تھے ۔ بندہ انشاء اللہ اُس وقت اس سوال کا جواب ضرور عرض کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to سلسلہ روز و شب – لونڈیاں ، ان کا ستر اور ہمارے اسلاف (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Haroon Zafar says:

    ابو یحیٰ صاحب آپ نے بہت ہی نازک مسئلے کو بہت آسان انداز میں سمجھایا ہے۔ میں چاہتو ہوں کہ آپ یہآرٹیکل بھی اپنے کتابچے میں شامل کریں۔ اور کتابچے میں صرف اپنے سابقہ آرٹیکل ہی نہیں بلکہ مزید غلامی کے سسٹم کی وضاحت کریں۔ اس کےلیئے مبشر نزیر صاحب کی غلامی پر کتاب بہت مفید رہے گی۔

  2. suleman khan says:

    I would like know your opinion regarding hand shaking with “Na-Maharam” women.

    If I understand correctly from the 2nd paragraph of the above article you seemed to be agreed with Amar Khan Nasir on this issue.

    Regards
    Suleman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *