سلسلہ روز و شب – نومبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

ہم جنس پرستی (2)

[پچھلے ماہ ملاقات کے کالم میں ابو یحییٰ صاحب کا ہم جنس پرستی کے موضوع پر ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا آخری حصہ ذیل میں پیش خدمت ہے ۔ادارہ]

مذہبی استدلال :’’قطع سبیل‘‘

مذہب اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہم جنس تعلق ایک بہت بڑا جرم اور فطرت کے خلاف ایک جنگ ہے۔ قران مجید اسے قوم لوط ہی کے حوالے سے ’’قطع سبیل ‘‘ یعنی فطرت کی راہ کاٹنے (العنکبوت29:29) سے تعبیر کرتا ہے ۔ یہ کس طرح فطرت کی راہ کاٹتا ہے اس کے لیے انسانی سماج کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔

انسانی سماج ایک اجتماعیت پسند سماج ہے ۔ یہ اجتماعیت تعلقات سے وجود میں آتی ہے ۔ تعلقات دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ پہلا عارضی تعلق جو بہت بڑے دائرے میں پھیلا ہوا ہے اور کم و بیش پورے سماج کا احاطہ کرتا ہے ۔ یہ تعلق ضرورت، مفاد، ذوق، نظریات اور جذبات و احسات وغیرہ کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے ۔دکاندار اور گاہک کا تعلق ضرورت کا ہے ۔ باس اور ملازم کا تعلق مفاد کا ہے ۔دوستی ذوق اور مزاج سے پھوٹی ہے ۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں لوگ نظریات کی بنیاد پر ایک تعلق پیدا کرتے ہیں ۔ کسی انسان سے محبت کا تعلق جذبات و احساسات کی پیداوار ہوتا ہے ۔

انسانی سماج انھی عارضی تعلقات سے عبارت ہے ۔ مگر ان تعلقات کی سب سے بڑ ی خرابی یہ ہے ضرورت، مفاد، ذوق، نظریات اور جذبات کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں تعلق ختم ہوجاتا یا کسی اور کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ ضرورت اور مفاد کو تو چھوڑیے لوگ ذوق، نظریہ اور جذباتی تعلق کو بھی ایسے بھولتے ہیں کہ کبھی یاد نہیں آتا۔

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑ ھ کر عزیز تھے

اب دل سے نام محو بھی اکثر کے ہوگئے

جبکہ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک نفسیاتی وجود ہے ۔اسے اپنی تشکیل، تربیت اور تکمیل کے لیے کوئی ایسا تعلق چاہیے جو مستقل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مرد و عورت کے جنسی تعلق کو بنیاد بنایا ہے ۔ اس تعلق کی پہلی خوبی یہ ہے کہ اس سے انسان وجود میں آتے ہیں ۔ دنیا میں کوئی اور تعلق انسانوں کو وجود میں نہیں لا سکتا۔ ظاہر ہے کہ نسل انسانی کا باقی رہنا انسانیت کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے ۔ مرد عورت کا جنسی تعلق سب سے پہلے اسی بنیادی انسانی ضرورت کو پورا کرتا ہے ۔

اس تعلق کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس سے وہ رشتے پیدا ہوتے ہیں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے مستقل ہوتے ہیں۔ پیدا ہونے والے بچے کی ماں اور اس کا باپ بہرحال اس کی موت تک ایک ہی رہتا ہے ۔ یہی حیثیت بہن، بھائی اور دیگر تمام رشتہ دارو ں کی ہے کہ ان سے تعلق مستقل ہوتا ہے ۔ یہی وہ رشتے ہیں جو پچپن کے عجز، بڑھاپے کے ضعف، بیماری کی مشقت، محتاجی کی ضرورت میں فطری طور پر ہمیشہ اور ہر حال میں انسان کی مدد کو آتے ہیں ۔

یہی قریبی رشتے ہیں جو اپنا وقت، محنت، پیسہ قربان کر کے انسان کے بچپن کی ناتوانی کو جوانی کی قوت دیتے ہیں۔ پھر یہی وہ رشتے ہیں جو ہر سرد و گرم میں انسان کا ذہنی، نفسیاتی، مالی اور جسمانی طور پر ساتھ دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بڑھاپے کی ناتوانی کو اپنے بازوؤں سے سہارا دیتے اور موت کے بعد اپنے کندھوں پر اٹھا کر آخری سفر پر روانہ کرتے ہیں ۔

ہم جنس پرستی اصل میں انھی بنیادی انسانی رشتوں کی جو مرد و عورت کے جنسی تعلق سے پیدا ہوتے ہیں ، جڑ کاٹ دیتی ہے۔ ایک ہم جنس پرست جوڑا کبھی اولاد جنم نہیں دے سکتا۔ یہ کام صرف میاں بیوی کرسکتے ہیں ۔ پانچ سات سال بعد میاں بیوی کا دل اگر ایک دوسرے سے بھر بھی جائے تب بھی وہ اولاد کی خاطر ساتھ رہتے اور ان کی پرورش کی ساری ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں ۔ جبکہ ہم جنس پرستی کوئی رشتہ نہیں بس ایک عارضی تعلق ہے ۔ جس روز دل بھرا، ذوق بدلا، جذبہ ٹھنڈا ہوا، احساس ختم ہوا، یہ تعلق ختم۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ نئے ہم مشرب کی تلاش۔ مگر جنس کا جذبہ تو زیادہ وقت نہیں گزرے گا ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ اس کے بعد تلاش کس بنیاد پر ہو گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہم جنس پرستی کے کسی حامی کے پاس نہیں ہے ۔

انسانوں کے ساتھ ظلم

ہم جنس پرستی دراصل خاندان کے خاتمے کا نام ہے۔ خاندان ایک مرد و عورت کے جنسی تعلق کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جنسی تعلق میں اس قدر طاقت ہی اس لیے رکھی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے انسانوں کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اولاد کو جنم دیں اور پھر اس کا بوجھ اٹھائیں ۔ مگر بدقسمتی سے مغرب کی جنسی آزادی کے تصور نے خاندان کو بہت کمزور کر دیا ہے ۔ مرد و عورت کا تعلق جو صرف جنسی کشش کی بنیاد پر قائم ہو وہ بہت کمزور ہوتا ہے ۔ یہ بار بار ٹوٹتا ہے ۔ ایسے میں کہیں اولاد ہوجائے تو سب سے زیادہ اسی کے لیے مشکل ہوجاتی ہے ۔

اولاد کا مقدر یہی ہوتا ہے کہ ماں کہیں ہو اور باپ کہیں اور۔ یو ں بچہ ماں یا باپ یا بعض اوقات دونوں کے لمس اور تربیت سے محروم رہ جاتا ہے ۔ ہم جنس پرست جوڑے یہ ستم ایک اور طرح ڈھاتے ہیں ۔ وہ اولاد کی خواہش پوری کرنے کے لیے بچہ گود لے لیتے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسے ماں کے لطیف لمس سے کون روشناس کرائے گا۔ اور اگر جوڑا خواتین کا ہے تو باپ کی نگہبانی کا احساس کون دلائے گا۔ ایک دوسرے سے دل بھرگیا تو لے پالک اولاد کا کیا ہو گا۔

چنانچہ ایسے تمام بچے شدید قسم کے نفسیاتی مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ لیکن مغرب میں یہ سسٹم برا بھلا اس لیے چل رہا ہے کہ وہاں بچوں کی معاشی ذمہ داری اور اسی طرح بزرگوں کی ذمہ داری بھی اسٹیٹ نے لے رکھی ہے ۔ معاشی فراخی کی بنا پر آج یہ ان کے لیے کرنا آسان ہے ۔ مگر جب کبھی معاشی زوال آیا تو پھر خاندان کے سوا انسان کی جائے پناہ کوئی نہیں رہے گی۔ یہ صرف خاندان ہوتا ہے جو ہر طرح کے حالات اور ماحول میں ہزاروں برس سے کمزور بچوں اور ناتواں بوڑھوں اور غریب و پریشان حال رشتہ داروں کو سنبھالتا آیا ہے ۔چنانچہ یہ بالکل واضح ہے کہ ہم جنس پرستی کا تعلق نسل انسانی اور خاندان دونوں کی جڑ کاٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسی کو قرآن مجید ’’قطع سبیل‘‘ یعنی فطرت کی راہ مارنے سے تعبیر کرتا ہے ۔

پاکستان اور ہم جنس پرستی

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہم جنس پرستی کے رجحانات عام ہیں ۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سرتاسر ایک نفسیاتی مسئلہ ہے ۔ یہ زیادہ تر بچوں کی ابتدائی تربیت کی خرابیِ، غلط ماحول اور بعض اوقات والدین کی بے توجہی اور بے رحمانہ سلوک پیدا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جس طرح کے حالات ہیں ، والدین بچوں کی تربیت سے جس طرح بے پروا ہیں ، بچوں پر تشدد عام ہے، اس میں دیگر نفسیاتی انحرافات کی طرح ہم جنس پرستی کے پھیلنے کے بڑے روشن امکانات ہیں۔ اس پر مزید مغربی اور انڈین میڈیا نیز انٹرنیٹ سے جنسی بے راہ روی کی پیہم یلغار ہے۔ اور اب اس سے آگے بڑھ کر ہم جنس پرستی کے حق میں کیے گئے پروپیگنڈے کا انٹرنیٹ کے ذریعے سے باآسانی پہنچنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ جس میں متاثرہ شخص اس مسئلے کو نفسیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اپنی فطرت سجھنے لگتا ہے ۔

اب یہ بات معلوم ہے کہ پاکستانی نوجوان لڑکے اور لڑ کیوں میں یہ مسئلہ بہت پھیل رہا ہے ۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ والدین اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں ۔ بچوں کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں ۔ تشدد اور بے اعتنائی سے پرہیز کریں ۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ بچپن اور نوعمری میں بچے کے جنسی رجحانات اپنا ظہور کرتے ہیں ۔ اس میں وہ مرد و زن کی تمیز نہیں کرتے ۔ کہیں کوئی انحراف محسوس ہو تو یہ واضح کر دیں کہ محبت اور جنسی تعلق اصل میں ہمیشہ صنف مخالف کے ساتھ قائم ہوتا ہے ۔ یہی فطرت ہے ۔

ایسا کوئی انحراف سامنے آئے تو نفرت اور غصہ کے بجائے ہمدردی کے ساتھ مسئلے کو حل کرنا چاہیے ۔ پختہ عمر کے عیش پرستوں کو چھوڑ کر نوعمر بچوں کے لیے یہ دراصل ایک نفسیاتی مسئلہ ہے ۔ اس معاملے میں مذہب کی رہنمائی کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے ۔ قرآن مجید نے چونکہ قوم لوط کے حوالے سے اس معاملے میں اللہ رب العزت کی منشا، مزاج اور مرضی کو پوری طرح واضح کیا ہے۔ اس لیے بچوں کو اس حوالے سے ایجوکیٹ کرنا چاہیے ۔ یہ سب سے بڑھ  کر والدین کی ذمہ داری ہے ۔

بہرحال اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جنسی تعلق قطعاً ایک غیر فطری تعلق ہے ۔ یہ تعلق اگر فروغ پائے گا تو سماج کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہاں درست شعور کو عام کریں اور دین کی تعلیم صحیح پس منظر میں دیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in Uncategorized | Permalink.

3 Responses to سلسلہ روز و شب – نومبر 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. محمد شمس الحق مغل says:

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، ماشاءالله آپ معاشرے کی اصلاح کے لئے بہت اچھا کررہے ہیں پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

  2. emad says:

    Masha Allah
    JazakAllah -khair

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *