سلسلہ روز و شب – ہمارا تعلیمی نظام (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

ہمارا تعلیمی نظام

 

قارئین کرام! آج میں آپ سے ایک ایسے اہم موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پر ہماری قوم کے مستبقل کا انحصار ہے اور جس کی اہمیت کو نہ سمجھنے کی بنا پر ہمارا ماضی ناقابل رشک اور حال مختلف بحرانوں سے عبارت ہے ۔ یہ مسئلہ ہمارے نظام تعلیم کا ہے ۔ تاہم اس سے قبل کے میں پاکستان کے تعلیمی نظام کے مسائل پر کوئی بات کروں ، گفتگو کے آغاز میں ہمیں مختصراً کچھ اصولی چیزیں سمجھنی ہوں گی۔ ان کو سمجھے بغیر ہمارے اندر اپنے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کا کوئی داعیہ پیدا ہو سکتا ہے اور نہ ہماری لیڈرشپ اور عوام اس کو اپنا مسئلہ بنائیں گے ۔

انسانی تاریخ کے مختلف مراحل

ہم انسانی تاریخ کے چوتھے دور میں زند ہ ہیں ۔ انسانی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جس میں انسان شکار کر کے اور پھل وغیرہ چن کر اپنی معیشت کا بندوبست کیا کرتا تھا۔ اسے شکار کا دور بھی کہا جا سکتا ہے ۔ دوسرا دور وہ ہے جسے زرعی دور سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ نام سے اندازہ کیا جا سکتا ہے ، اس دور میں انسانی معیشت کا انحصار زراعت پر تھا۔ ان دونوں ابتدائی ادوار کی اہم ترین مشترکہ خصوصیت یہ تھی کہ ان میں افراد، گروہوں اور معاشروں کی قوت و طاقت کا انحصار اصلاً عددی قوت اور جسمانی طاقت پر تھا۔

ان دونوں ادوار میں انسانوں نے حیوانات کو تو بڑی حد تک مسخر کر لیا تھا لیکن فطرت کی طاقتوں اور مادی قوتوں پر اس کو بہت کم قابو ملا تھا ۔ علم میں ترقی اس وقت بھی ہوئی تھی، مگر یہ ترقی کچھ افراد اور محدود عرصے کے لیے کچھ اقوام تک محدود رہی اور اس علم کو تعلیم کی شکل میں اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا باقاعدہ نظام وجود میں نہیں آیا۔ اس لیے جہاں کہیں بھی کوئی علمی ترقی ہوئی وہ اگلی نسلوں اور دیگر اقوام تک منتقل نہیں ہو سکی۔ اس دور میں نظام تعلیم اساتذہ کے حلقہ درس تک محدود تھا اور Academy اور  Lyceum جیسے تعلیمی ادارے بھی افلاطون اور ارسطو کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ تھے اور ان کے بعد اپنی قدرو قیمت کھو بیٹھے ۔ یہ مسلمانوں کا اعزاز ہے کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی دفعہ علم کو تعلیم کے سانچے میں ڈھالا اور ایک تعلیمی عمل کے ذریعے سے علم کی آگے منتقلی کا اہتمام کیا۔ نظامیہ، مستنصریہ اور الازہر جیسے اعلیٰ تعلیم کے باقاعدہ ، منظم اور سرکاری سر پرستی میں چلنے والے ادارے انسانیت کو مسلمانوں ہی کی دین تھے ۔ تاہم مسلمانوں کی عمومی توجہ زیادہ تر دینی تعلیم تک رہی۔ دنیوی علوم میں مسلمانوں نے جو کچھ ترقی کی، اسے نظام تعلیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ زیادہ تر انفرادی طور پر مسلم سائنسدانوں تک محدود رہی۔

قرون وسطیٰ میں اہل یورپ کا واسطہ جب مسلمانوں سے پڑا تو انھوں نے نہ صرف نظام تعلیم مسلمانوں سے لیا بلکہ دنیوی سائنسی علم کو بھی نظام تعلیم کا حصہ بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں کچھ ہی صدیوں میں انسانی تاریخ کے تیسرے دور یعنی صنعتی دور کا آغاز ہوا۔ اس دور میں انسان نے مادہ کوایک شکل سے دوسری شکل میں بدلنا سیکھ لیا اور فطرت کی طاقتوں کو پوری طرح مسخر کر لیا۔ جسمانی اور حیوانی طاقت کی جگہ مشینی طاقت نے لے لی اور نت نئی ایجادات نے زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ اس ہمہ گیر اور تیز رفتار ترقی کے پیچھے کارفرما اصل سبب یہی تھا کہ انسانی سماج نے علم کو تعلیم کی شکل میں اگلی نسلوں تک باقاعدہ منتقل کرنے کا نظام بنالیا تھا۔ چنانچہ جس جس قوم نے اپنے نظام تعلیم کو اس پہلو سے دیکھا کہ یہ علم کی منتقلی کا ذریعہ ہے وہ تیزی کے ساتھ ترقی کر کے صنعتی دور کی بڑی طاقتوں میں شامل ہوگئی۔

بیسویں صدی کے آخری عشرے سے انسانی تاریخ کے چوتھے دور یعنی انفارمیشن ایج کا آغاز ہوا۔ یہ دراصل صنعتی دور ہی کی مزید ترقی یافتہ شکل ہے۔ مگر اس دور کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی ترویج کے انتہائی تیز رفتار اور عالمی ذرائع وجود میں آ گئے ہیں ۔ جس کے بعد کمزور گروہوں اور اقوام کے لیے یہ موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ علم میں اپنی کمی کو تیزی کے ساتھ پورا کر کے ترقی یافتہ اقوام  کی صفوں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ تاہم یہ موقع صرف انھی افراد، اقوام اور گروہوں کے لیے ہے جو اس بات کو سمجھتے ہوں کہ نظام تعلیم اصل میں اگلی نسلوں کو علم کی منتقلی کا سب سے منظم اور موثر ذریعہ ہے ۔

پاکستان کا قومی تشخص

یہ وہ پہلی بنیاد ہے جس پر ہماری قوم کو سب سے بڑھ کر اپنے نظام تعلیم کو بہتر بنانے اور اسے اپنا سب سے بڑا مسئلہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی ترجیحات اور بجٹ کا صرف دس فیصد حصہ تعلیم کے لیے وقف کر دیں تو دس سے پندرہ برس میں پاکستان کا شمار ترقی یافتہ اقوام میں ہونے لگے گا۔ تاہم نظام تعلیم ایک دوسرے پہلو سے پاکستان کے قومی تشخص کی تشکیل کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کے تقریباً ستر برس بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے ۔ کالاباغ ڈیم جیسی بنیادی قومی ضرورت ہو یا چھوٹے صوبوں جیسی اہم انتظامی ضرورت، ہم کہیں اتفاق رائے پیدا نہیں کرپاتے ۔ یہاں بھی نظام تعلیم ہی ہمارے مسائل کو حل کرسکتا ہے ۔ تاہم اس بات کو سمجھنے کے لیے بھی کچھ پس منظر جاننا ضروری ہے ۔

پاکستان 1947 میں مذہب کے نام پر وجود میں آیا۔ یہ ایک ایسے زمانے میں ہوا جب کہ ہر طرف نیشنل اسٹیٹ کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ یہ نیشنل اسٹیٹ جغرافیہ، تاریخ ، زبان اور ثقافت وغیرہ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔ ان بنیادوں پر مسلمانان ہند کے لیے ایک الگ ریاست کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔ چنانچہ بانیان پاکستان علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا مقدمہ لڑا تو انھوں نے زبان، تہذہب، جغرافیہ اور تاریخ کے بجائے مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کی ملت اسلامیہ کا کیس پیش کیا اور اسی بنیاد پر الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔

تاہم یہ ایک حقیقت تھی کہ مذہب کے نام پر وطن کا مطالبہ خاص ہندوستان کے پس منظر میں تھا۔ ذرائع مواصلات کی ترقی کے اس دور میں جب سفر کرنا بے حد آسان ہے ، دنیا کے کسی ملک کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی سرحدیں لا محدود طور پر کھول دے ۔ چنانچہ آزادی کے وقت پاکستان کی سرحدیں صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کھلیں اور تھوڑے عرصے کے بعد بند کر دی گئیں ۔ اب نہ تو ہندوستان کا کوئی مسلمان اور نہ کسی اور علاقے ہی کا مسلمان پاکستان کی شہریت کا دعویٰ کرسکتا ہے ۔

دوسری طرف جب قیام پاکستان کے وقت صورتحال یہ تھی کہ نہ ملک کا جغرافیہ ایک تھا نہ تاریخ، نہ زبان ایک تھی اور نہ تہذیب و ثقافت۔ چنانچہ جب وطن آزاد ہو گیا اور اس ہندو اکثریت سے براہ راست کوئی تعلق نہ رہا تو وہ سارے تضادات ابھر کر سامنے آ گئے جو ہندوؤں کے غلبے کے اندیشے سے دب گئے تھے ۔ایسے میں اس بات کی بے حد ضرورت تھی کہ اس نئی قوم کو ایک نیا قومی تشخص دینے کے لیے فوراً ایک نظام تعلیم دیا جاتا جو اس میں پائے جانے والے لسانی، جغرافیائی، ثقافتی اختلافات کو ایک نئی مشترکہ شناخت میں ڈھالتا۔ یوں لوگوں میں ایک قومی وژن، اجتماعی مفاد کا احساس، اپنی ذمہ داریوں کا شعور اور قومی اتحاد کا جذبہ پیدا ہوتا۔ دوسری طرف علم کی وہ روایت بھی آگے منتقل کرتا جو دور جدید میں قوموں کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے ۔

بدقسمتی سے پاکستان میں علم و دانش کی کوئی ایسی روایت نہ تھی جو اس سنگین ترین مسئلے کو سمجھ سکی۔ رہی سیاسی قیادت تو وہ اس سے کہیں زیادہ آسان اور سطحی معاملات کو سمجھنے میں ناکام رہی، کجا یہ کہ وہ اتنی گہری بات کو سمجھ سکتے ۔ اس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ آزادی کے پچیس برس بعد ہی ملک کا آدھے سے زیادہ حصہ الگ ہو گیا۔ باقی آدھے کا بھی معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حوالوں سے جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔

پاکستان کا موجودہ نظام تعلیم

نظام تعلیم سے متعلق یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک آج کے دن تک کسی کو نہیں ہو سکا۔ یعنی کسی قوم کی تعمیر ہو یا اس کی ترقی ، اس کا تمام تر انحصار نظام تعلیم پر ہے ۔ قومی تشخص کی تشکیل ہو یا اس کی نئی نسلوں تک منتقلی، علم و اقدار کی روایت کا احیا ہو یا نئی نسلوں میں ان کی آبیاری ؛ان میں سے ہر چیز کا انحصار قومی نظام تعلیم پر ہوتا ہے ۔ یہ بات نہ آج تک کسی سیاستدان کو سمجھ میں آ سکی اور نہ کسی مفکر نے قومی نظام تعلیم کی اس اہمیت کو واضح کیا۔ آج بھی ہم تعلیم کو چھوڑ کرانتہائی سطحی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔اس برس (15-2014) کے بجٹ میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2 فیصد تعلیم کے لیے وقف ہے ۔ تاہم اس رقم کو تو چھوڑیے تعلیم کے نام پر جو کچھ عملاً ہورہا ہے اس کے لیے سمجھ میں نہیں آتا کہ المیہ کا لفظ زیادہ موزوں ہے یا لطیفے کا۔ یہ المیہ یا لطیفہ جو بھی ہے ، اس کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں کیونکہ یہ پہلے سے تقسیم شدہ قوم میں مزید نت نئی تقسیم کے بیج بورہا ہے ۔

کسی قوم کا قومی نظام تعلیم ابتدائی تعلیم کا نظام ہوتا ہے ۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں بچوں کو لکھنے پڑھنے اور حساب و کتاب ، بنیادی سائنسی اور سماجی علوم کے ساتھ ساتھ اقدار، تہذیب روایات اور قومی امنگوں اور نظریات کا سبق سکھایا جاتا ہے ۔ بچے نے ذاتی حیثیت ہی میں نہیں قوم کے ایک فرد کے طور پر بھی جو کچھ بننا ہوتا ہے وہ اسی عمر میں بن جاتا ہے ۔ لیکن دیکھیے کہ اس دور کی تعلیم کے لیے بھی ہمارے ملک میں کتنے نظام تعلیم ہیں جو اپنے اپنے طریقے پر الگ الگ قسم کے لوگ پیدا کر رہے ہیں ۔

’’چھوٹا ‘‘ اسکول سسٹم

ابتدائی تعلیم کا سب سے پہلا نظام تعلیم ’’چھوٹا ‘‘ اسکول سسٹم ہے ۔ اس ’’چھوٹا‘‘ اسکول سسٹم میں بچوں کو اسکول ہی نہیں بھیجا جاتا۔ ان کے والدین اپنی غربت کی بنا پر بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر کے کسی دکان، ورکشاپ یا کارخانے میں ’’چھوٹے ‘‘ کے طور پر بھیج دیتے ہیں جہاں صبح سے لے کر رات گئے تک لگاتار محنت کرنے کے علاوہ معصوم ذہن صرف غلیظ گالیاں ، استاد کی ڈانٹ پھٹکار ، بے ہودہ گفتگو اور کام میں ڈنڈی مارنے کے طریقے سیکھتا ہے ۔ ضرورت کا کچھ حساب کتاب، کچھ گنتی اور برا بھلا نام لکھنے جیسی چیزیں بھی یہی استاد اسے سکھا دیتا ہے ۔ بچہ کچھ کام اور ہنر بھی سیکھ لیتا ہے جو مستقبل میں فاقہ کشی سے اسے بچالیتا ہے اور ماں باپ کو بھی کچھ نہ کچھ پیسے مل جاتے ہیں ۔ معاشرے کو سستی، ماہراور اکثر بے ایمان لیبر مل جاتی ہے ۔ مگر قومی تعمیر اور ترقی میں اس ’’چھوٹا ‘‘ اسکول سسٹم کا حصہ کچھ نہیں ۔

تعلیم کا سرکاری نظام

اس کے بعد دوسرا نظام تعلیم سرکاری نظام تعلیم ہے جسے عام طور پر پیلے اسکولوں کا نظام کہا جاتا ہے ۔ اس میں عام طور پر ملک کے غریب اور لوئر مڈل کلاس کے بچے پڑھتے ہیں ۔ اس نظام کی کئی خصوصیات ہے۔ پہلی یہ کہ بارہا اس سسٹم کے اسکول اور اساتذہ گھوسٹ ہوتے ہیں ۔ اس تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ کاغذی سطح پر اسکول قائم ہوتا ہے ، بجٹ جا رہا ہوتا ہے لیکن عملاً کوئی تعلیم نہیں ہوتی۔ جبکہ گھوسٹ اساتذہ کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ اسکول قائم ہوتا ہے ، عمارت بھی ہوتی ہے ، بچے بھی پڑھنے آتے ہیں لیکن ان کو پڑھانے والے اساتذہ ، تنخواہ لینے کے علاوہ اسکول تشریف نہیں لاتے ۔ یا آتے ہیں توکلاس میں نہیں جاتے اور جانا پڑے تو دن میں ایک آدھ گھنٹے کلاس میں جا کر تھوڑا بہت پڑھا لیتے ہیں ۔

اس سسٹم کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کرپشن گورنمٹ کے دوسرے اداروں سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ ملازمت انھی کو ملتی ہے جو پیسے دے کر ملازمت خرید سکیں ۔ایسے لوگ اکثر نا اہل ہوتے ہیں اور اچھی تنخواہ، مراعات اور سہولیات کے باوجود ان میں طلبا کو پڑھانے اور سکھانے کی کوئی صلاحیت ہوتی ہے نہ خواہش۔ جس طرح باقی سرکاری محکموں کے ملازمین وقت گزاری کرتے ہیں ، یہاں بھی یہی کچھ ہوتا ہے ۔ یہاں میرٹ کے بجائے رشوت کی بنیاد پر ترقیاں مل جاتی ہیں اور اس طرح ترقی پا کر ہیڈماسٹر اور ہیڈ مسٹریس بننے والے اسکول کے بجٹ کا بڑا حصہ خردبرد کر کے کھا جاتے ہیں ۔ اسکول کا ڈسپلن اور طلبا کی بہتر تعلیم وتربیت بھی ان کا مسئلہ نہیں بن پاتی۔

اس سسٹم کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں بچے سیکھنے کے بجائے سوالوں کے جواب رٹ کے اگلے درجہ میں پہنچتے رہتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں نہ وہ حقیقی معنوں میں کچھ سیکھ پاتے ہیں اور نہ ا ن کی سیکھنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے ۔ چنانچہ ایک اچھا نصاب ہونے کے باوجود یہ نظام تعلیم اچھے شہری پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے ۔

مزید یہ کہ یہ سسٹم باصلاحیت بچوں کے مقتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اول تو یہاں آتے ہی غریب بچے ہیں جن کے والدین جلد یا بدیر بچوں کو اسکول سے نکال کر ’’چھوٹا‘‘ اسکول سسٹم میں بھیج دیتے ہیں ۔ وہ یہ نہ بھی کریں اور خود ساری مشقت جھیل کر بچوں کو پڑھائیں تب بھی مذکورہ بالا صورتحال میں کیسے کسی بچے کی کوئی صلاحیت پنپ سکتی ہے ۔ نصیب سے کوئی باصلاحیت اور اچھا استاد یہاں آجائے تو اس سبجیکٹ کی حد تک بچہ کچھ سیکھ لیتا ہے ، مگر مجموعی طور پر اس کے سیکھنے کا عمل اتنا کم ہوتا ہے کہ میٹرک انٹر کربھی لے تو اعلیٰ تعلیم کے مشکل مراحل سے نمٹنے کی کوئی صلاحیت اس میں نہیں ہوتی۔ جس کے بعد بغیر صلاحیت کے ملازمت کے امیدواروں کی ایک طویل قطار کے سوا معاشرے کو کچھ نہیں ملتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو ہر طرح کے حالات کے باجود اپنی جگہ بنالیتے ہیں ، مگر یہ استثنائی مثالیں ہوتی ہیں ۔

Posted in Uncategorized, سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to سلسلہ روز و شب – ہمارا تعلیمی نظام (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Muslim says:

    This artical is land mark of our country.Aslo we need to have a think tank.
    As you wrote our politicla system is collasped totally.what is the remedy to resolve our
    politcal system to spend our 10% of budget.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *