2014 سوال وجواب – فروری (Abu Yahya ابو یحییٰ )

Download PDF

جنسی بے راہ روی کا حل

سوال: السلام علیکم

میں ایک سافٹ وئیر انجینئر ہوں اور اسی وجہ سے زیادہ  تر وقت انٹرنیٹ پر ہی گزرتا ہے ۔ میں جنسی خواہشات کو ابھارنے والی بلیو فلمیں دیکھنے کی بری عادت کا بری طرح شکار ہوں اور اسی کی وجہ سے جب بھی میری نظر کسی لڑکی پر پڑتی ہے تو میرا تقویٰ اور خوف خدا بالکل اسی طرح غائب ہو جاتا ہے جیسے کہ میں سرے سے مسلمان ہی نہیں۔ میں اپنی اس عادت کی وجہ سے عذاب، قبر، سکرات الموت اور اس کی سختی سے بہت ڈرتا ہوں برائے کرم میری اس معاملے میں مدد فرمائیے ، (سائل کا نام حذف کر دیا گیا ہے )۔

جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا مسئلہ ناقابل علاج نہیں ہے ۔ خاص کر اس وجہ سے کہ آپ ایک بری عادت کو برا سمجھتے ہیں اور اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ آپ کو بس اپنی عادات کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ پھر آپ کی جان ان چیزوں سے چھوٹ جائے گی۔

دیکھیے سب سے پہلے تو کوشش کیجیے کہ انٹرنیٹ کو صرف انتہائی مجبوری میں استعمال کریں کیونکہ یہی اس وقت جنسی مواد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ بہتر ہو گا کہ اپنا کمپیوٹر ایسی جگہ رکھیں جہاں دوسرے لوگوں کی نگاہ  پڑتی رہے ۔ اس سے آپ مجبور ہوجائیں گے کہ کوئی بھی ایسی فلم نہ دیکھیں ۔ اسی طرح موبائل بالکل سادہ رکھیں جس پر کوئی فلم وغیرہ نہ چل سکے۔

کوشش کریں کہ کسی قسم کی کوئی بھی فلم نہ دیکھیں ۔ کیونکہ شیطان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جب انسان بڑ ے گناہ سے رکتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طر ف انسان کو لے کر جاتا ہے اور پھر وہاں سے مزید خواہش کو بیدار کر کے انسان پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

جہاں تک لڑ کیوں کو دیکھ کر خوف خدا کو بھولنے کا سوال ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ جیسے ہی کسی نامحرم لڑ کی پر نگاہ پڑے فوراً اپنی نظر کو پھیر لیں۔ آپ کو شروع میں کچھ مشقت ہو گی مگر زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ آپ کو اس کام میں اتنا مزہ آئے گا کہ کچھ حد نہیں۔ انسان کا سب سے بڑا لطف فتح حاصل کرنے میں ہوتا ہے۔ نظر پھیرنا ایک نوجوان کی سب سے بڑی فتح ہے ۔ اس کا مزہ ایک دفعہ آپ نے چکھ لیا تو اسے چھوڑیں گے نہیں۔

منگنی کے رشتے کو جلد از جلد شادی میں بدلیے۔ اس مسئلے کا حقیقی حل یہی ہے۔ باقی سارے حل کسی بھی وقت فیل ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے شادی میں جلدی کریں ۔

ان سب کے باوجود کبھی غلطی ہوجائے تو مایوس مت ہوں ۔ فوراً توبہ  کر کے آئندہ بچنے کا عزم کریں ۔ یاد رکھیں توبہ کبھی گناہ کو انسان پر حاوی نہیں  ہونے دیتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب, ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

5 Responses to 2014 سوال وجواب – فروری (Abu Yahya ابو یحییٰ )

  1. anonymous says:

    jazak-Allah …

  2. HMZ says:

    Also because nobody is perfect except our dearest Prophet Muhammad PBUH; if that is the case, nobody will be able to extend D’awah.
    Brother Abu Yahya you are right!

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  4. Ghias says:

    Masha Allah bohat acha jawab diya aap nay – I would like to add few more things to do.
    1- Keep your own ardent desires (Nafas) in front as the neediest while inviting others with full conviction that I am the neediest what I am inviting others for.
    2- Try your best to act upon what you believe is good for others; it must be good for you too.
    3- Always think that my ears are closer to my tong than others, my heart must pay attention to what my own ears are listing.
    4- Most important of all, ask Allah Tala (Do’a) for steadfastness and guidance (Toufeek).
    5- Doing computation (Mohasbah karna) every day, and punishing Nafas for its weakness and failures by giving charity, praying extra Nafal Salat, observing fasting, reading Al-Quran & Zikar more than daily routine.
    Number 5 is very heavy on Nafas and best to bring it under control.

  5. Gulrayz says:

    Jazak Allah Sir…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *