سوال و جواب – جولائی 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

 سوال و جواب-جولائی 2014

ابویحییٰ

شب قدر اور چاند کی تاریخ کا فرق

سوال:

السلام علیکم۔ ابویحییٰ صاحب۔ اگر کسی اور صاحب علم سے یہ سوال پوچھوں تو ہو سکتا ہے وہ مجھ پر کفر کا فتویٰ لگا دیں ۔ لیکن ہمارا دین تو سوال پوچھنے سے روکتا نہیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت اور بڑائی سے ہرگز ہرگز انکار نہیں ۔ وہ عظیم ہیں وہ کریم ہیں ۔ جو چاہتے ہیں بے شک کر سکتے ہیں ۔ سوال بس اتنا سا ہے کہ ہر سال چاند کا نکلنا اور نہ نکلنا ایک معمہ بنا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہم بائی چانس لیلۃ القدر کو ضائع کر سکتے ہیں ۔ جو اللہ کے نیک بندے ہیں ان کو تو علامات نظر آ جاتی ہیں ۔ جو مجھ جیسے گناہگار ہیں وہ تو خسارے میں رہ گئے ۔ بالفرض عرب میں لیلۃ القدر 25 رمضان کو ہوئی۔ پاکستان میں وہ 24 کو ہو گئی۔ میں تو بس یہی سوچ رہی تھی کہ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو اس کو پا لے وہ بڑا خوش قسمت ہے ۔ جو اس کو ڈھونڈھتا ڈھونڈھتا کسی اور رات میں آہ و زاری کرتا رہے اس کے لیے کیا معاملہ ہے ؟ دعا کی کیفیت کسی وقت بہت اچھی ہوتی ہے ۔کبھی اس قدر اچھی نہیں ہوتی۔

یہ قیمتی راتیں ہیں ۔ میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتی۔ جب آپ مناسب سمجھیں جواب دیں ۔ بشرط زندگی اگلے سال رمضان میں آپ کا جواب میرے لیے کار آمد ثابت ہو سکتا ہے ۔ جزاک اللہ خیراً کثیراً

سارہ

جواب:

شب قدر کو قرآن مجید میں جس حیثیت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام میں اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ وہ رات ہے جس میں تمام پرحکمت فیصلے فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں ۔ اپنے فیوض و برکات کی بنا پر یہ رات ہزار ماہ سے افضل ہے ۔ اس میں قرآن مجید جیسی اعلیٰ کتاب کا نزول شروع ہوا۔ اس پس منظر کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں عبادت پر خصوصی توجہ دیتے تھے ۔ مگر یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ شب قدر کس خاص رات میں ہوتی ہے ۔ بعض روایات میں رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

اس پس منظر میں ہمیں طاق راتوں میں عبادت سے اللہ کا قرب ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ مگر اصل با ت یہ ہے کہ جس وقت آ پ پر کیفیت طاری ہو وہی آپ کے لیے شب قدر ہے ۔ کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ انتہائی توجہ سے آپ کی بات سنتے ہیں ۔

ہمیں اصول یہ بنانا چاہیے کہ ان راتوں میں ممکنہ حد تک عبادت سے اللہ کا قرب تلاش کریں ۔ اگر ہمیں یہ رات مل بھی گئی تو ہمیں پتا نہیں چلے گا۔ اس لیے علامات و نتائج سے بے پروا ہو کر سیرت طیبہ کی پیروی کرنی چاہیے ۔ کیفیت طاری ہوجائے تو اچھی بات ہے ورنہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو اللہ کے حضور حاضر ہو گیا وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔

باقی بات یہ رہی کہ رویت ہلال کے اختلاف کی وجہ سے یا جغرافیائی فرق کی وجہ سے 25 یا 24 تاریخ کا فرق ہو گا تو کیا ہو گا۔ اس حوالے سے عرض یہ ہے کہ دراصل یہ معاملہ کس طرح ہوتا ہے یہ امور متشابہات کی نوعیت کی چیز ہے ۔مسئلہ 24 یا 25 ہی کا نہیں ہم تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جس وقت دنیا کے ایک حصے میں رات ہوتی ہے عین اسی وقت دوسرے میں دن ہوتا ہے ۔ شاید اسی لیے ہمیں اس کی کوئی متعین تاریخ یا دن نہیں بتایا گیا۔ یہ تعبیرات ہمیں سمجھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں ۔ اصل معاملہ اللہ ہی جانتا ہے ۔ ہمیں تو اپنی طرف سے حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ جو سیرتِ رسول علیہ السلام ہے اسی کی پیروی کریں ۔ باقی معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اطمینان رکھیے وہ کسی کی سعی نہ رائگاں جانے دیتا ہے نہ کسی کے ساتھ  ذرہ برابر زیادتی ہی کرتا ہے ۔

والسلام علیکم

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دین میں اختلافات اور فرقہ واریت

سوال:

قرآن اور شریعت کے احکامات اتنے واضح نہیں ہیں کہ اس میں کوئی بحث کی گنجائش ہی نہ ہو اور یہ فرقے اور مسلک نہ ہوں ۔ ان فرقوں اور مسالک کی اسلام کو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا اللہ کو کیوں ضرورت پیش آئی جب کہ اسلام ایک فائنل دین ہے ۔ یہ شک و شبہات کیوں رکھے گئے ؟ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ان تفرقات کا بتایا کہ ایسا ہو گا۔ مگر کیوں ؟

جواب :

محترم بھائی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہ تاثر کہ اسلام کے احکام یا شریعت واضح نہیں اور ان کی بنا پر مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے یا فرقہ بندی ہوتی ہے ، درست نہیں ۔ میں نے اپنی ’’کتاب قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں وہ سارے احکام جمع کر دیے ہیں جو ایک عام فرد سے مطلوب ہیں اور جن کی بنیاد پر قیامت کے دن اس کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ایسے تمام احکام میں ذرہ برابر نہ اختلاف ہے نہ کوئی شک اور الجھن۔ مثلا اعتقادات یعنی توحید، رسالت اور آخرت، عبادات، اخلاقیات وغیرہ جو اصل میں سزا جزا کی اساس ہیں اس میں اس امت میں سرے سے کوئی اختلاف نہیں ۔ کوئی گروہ اگر اختلاف کرتا بھی ہے تو قرآن کریم ان میں اتنا واضح ہے کہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اختلاف کرنے والے قرآن کے بجائے خواہش نفس کی پیروی کر رہے ہیں ۔

جہاں تک معاملہ بعض جزوی احکام کا ہے تو اطمینان رکھیے ان کی بنیاد پر قیامت کی جوابدہی نہیں ہو گی۔ یہ علمی نوعیت کے مسائل ہیں ۔ ہمارے ہاں غلطی یہ ہوئی ہے کہ ان علمی اور فروعی مسائل کو عوام الناس میں لے جایا جاتا ہے اور انہی کو دین کا اصل مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عوام ان کو نہیں سمجھ سکتے لیکن ان کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوجاتا ہے کہ دین کے بنیادی مسائل میں بہت اختلاف ہے ۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے فروعی مسائل کو بنیاد بنانے کے بجائے دین پر عمل کے لیے ایمان ، عبادات اور اخلاقیات کی نوعیت کے احکام پر توجہ کرنا چاہیے ۔ اسی طرح جب جب شریعت کے کسی حکم پر عمل کا موقع ہو جیسے وراثت کی تقسیم یا نکاح طلاق اور دیگر معاملات تو ان تمام امور پر شریعت کی روشنی میں عمل کرنا چاہیے ۔ اس کے لیے ضروری علم دین حاصل کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد کوئی الجھن انشاء اللہ باقی نہیں رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to سوال و جواب – جولائی 2014 (Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. emad says:

    Jazak Allah khair

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *