سوال و جواب – ستمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

سوال و جواب

ابویحییٰ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی عالمی حیثیت

سوال:

السلام علیکم

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ اگر آپ مجھے ان آیات کا حوالہ بھیج دیں جن میں اس بات پر پختہ ایمان و یقین حاصل ہو کہ اسلام کا پیغام صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ ہر زمانے کے لوگوں اورپوری دنیا کے لوگوں ے لیے تھا تو میں آپ کا بہت مشکور ہوں گا۔ کچھ لوگ سورہ شوریٰ آیت 7 اور سورہ انعام آیت 92 اور کچھ دیگر آیات جو اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ ہر قوم کے لیے ہدایت اور شریعت تھی، کے حوالے دے کر یہ بات پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن اور پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے نہیں بلکہ صرف بنی اسماعیل کے لیے ہیں ۔

ؒؒخیر اندیش

ڈاکٹر مجاہد ظہیر

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مجید کے ابتدائی مخاطبین عرب تھے۔ یہی فطری طریقہ کار ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ ایک نبی بہرحال ایک قوم میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا پیغام اگر دنیا بھر کے لیے بھی ہے تو اسے کہیں سے تو ابتدا کرنی ہی ہو گی۔ اورسب سے زیادہ فطری طریقہ یہ ہے کہ ابتدا ہی اپنی قوم سے ہو۔ تاہم قرآن مجید اس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلام کی بعثت تمام انسانیت کی طرف تھی۔ اس ضمن کی چند آیات یہ ہیں ۔

سورہ فرقان 25:1  ، سورہ سبا 28: 34 ، سورۃ الانبیا 107: 21

اس کا طریقہ کار بھی خود قرآن نے بتا دیا کہ آپ نے اپنی قوم پر شہادت حق دی اور آپ کی قوم باقی لوگوں پر حق کی شہادت دے گی۔ درج ذیل آیات اسی بات کا بیان ہیں ۔

سورۃ البقرہ 143: 2 ، سورۃ الحج 78 :22

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:

سر میں نے آپ کے بھیجے ہوئے حوالے ایک عالم کو دکھائے لیکن اس کا اصرار ہے کہ عالمین کا مطلب پوری کائنات نہیں بلکہ اس سے مراد کسی مخصوص جگہ تک محدود لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کیونکہ قرآن عربوں کی زبان میں تھا اس لیے یہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے نہیں ہو سکتا۔

سورۃ البقرہ 143: 2 اور سورۃ الحج 78: 22 کے بارے میں جاوید صاحب کی رائے مختلف ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ ان آیات کو صرف صحابہ رضی اللہ عنہم سے خاص کرتے ہیں ۔ کیا آپ کو ان کی اس بات سے اختلاف ہے ؟

آداب

ڈاکٹر مجاہد ظہیر

جواب:

میں مزاجاً ایک داعی ہوں اور اصلاً یہی کام اپنے ذمہ لیا ہے اس لیے الحمدللہ اس معاملے پر تفصیلی تحقیق کر رکھی ہے۔ اور اس بنا پر پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن مجید آخری درجہ میں واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عالمی تھی۔ یہ اصلاً مسیحی حضرات کا موقف ہے اور جو اس سے قبل حضور کے زمانے کے یہود و نصاریٰ کا بھی موقف تھا کہ آپ کی بعثت صرف بنی اسماعیل کے عربوں کی طرف ہوئی ہے ۔

باقی جہاں تک اس نقطہ نظر کی کمزوری کا تعلق ہے تو یہ قرآن مجید کی روشنی میں بھی بالبداہت غلط ہے۔ قرآن اپنامدعا ہزار پہلوؤں سے کھولتا ہے۔ بہرحال اس خاص معاملے میں قرآن کو چھوڑ دیجیے، مسلمہ تاریخ ہی ایک دوسری کہانی سناتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضور نے اپنی زندگی میں قیصرو کسریٰ اور دیگر بادشا ہوں کو خطوط لکھ کر اسلام کی دعوت دی۔ یہ خطوط عربی میں لکھے گئے اور مترجموں نے ان کا ترجمہ کر کے بادشا ہوں کو سنا دیا۔ اس لیے یہ عربی زبان والی بات تو بالکل لایعنی ہے کہ قرآن چونکہ عربی میں تھا اس لیے اس کی دعوت صرف عربو ں کے لیے ہی ہے ۔ مزید سوال یہ ہے کہ حضور کی بعثت اگر عربوں کے لیے خاص تھی تو یہ حضور نے کیا کام کیا؟ پھر تو حضور نے معاذ اللہ اپنی حدود سے تجاوز کر دیا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ یہی نہیں ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام نے زبان کے اس فرق کے باوجود روم و ایران، مصر و شام اور اس دور کی پوری متمدن دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔ چنانچہ قرآن کے بیانات کے پیچھے پوری مسلمہ تاریخ کھڑی ہے کہ جیسا اس نے کہا تھا ٹھیک ویسا ہی ہو گیا۔ اس کا انکار کوئی نادان ہی کرسکتا ہے ۔

باقی جاوید صاحب اس بات کی نفی نہیں کرتے۔ ان دو آیات یعنی سورہ حج اور بقرہ میں ان کا مطلب یہ ہے کہ رسول تم پر گواہ ہو سے مراد میں اور آپ اور آج کا مسلمان نہیں بلکہ صحابہ کرام مراد ہیں ۔ یہی حقیقت بھی ہے ۔ چنانچہ حضور نے صحابہ پر گواہی دی اور پھر یہ صحابہ ہیں جنھوں نے باقی دنیا پر گواہی دی۔ اس بات سے تو میرے نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے، تردید نہیں ہوتی۔

یہ بھی نوٹ کیجیے سیدنا مسیح نے باصراحت اپنا دائرہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک بیان کیا تھا۔ انبیا کو جب کچھ کہنا ہوتا ہے تو بالکل صاف کہتے ہیں۔ یہ مسیحی حضرات ہیں جنھوں نے اپنے دائرے سے تجاوز کیا اور اسی کے نتیجے میں ان کے ہاں بدترین شرک در آیا۔ اس کے برعکس قرآن مجید آخری درجہ میں واضح ہے کہ حضور کی بعثت کا دائرہ تمام عالم تک وسیع ہے۔ چنانچہ اب ان آیات میں سے ایک ایک کو لے کر دیکھیے ۔

سورہ انبیا اور سورہ فرقان کی آیات میں عالمین کا لفظ آیا ہے ۔ اس کا لغوی مطلب جہان یا عالَم یا دنیا ہے۔ ان صاحب کی یہ بات ٹھیک ہے کہ یہاں یونیورس یا کائنات مراد نہیں ہے۔ ہو بھی نہیں سکتی۔ یہاں دراصل ظرف بول کر مظروف مراد ہے یعنی ترجمہ یہ ہو گا کہ ہم نے آپ کو اہل عالم کے لیے نذیر یا رحمت بنایا ہے ۔ یعنی عالم کے بجائے اہل عالم یا دنیا کے بجائے اہل دنیا ترجمہ ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ ان آیات میں کیا قرینہ ہے کہ اس عالم کا مطلب عرب لیا جائے؟ کسی لفظ کو اس کے ظاہری مفہوم سے پھیرنے یا مطلق کو محدود کرنے کے لیے واضح قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ قرینہ کہاں موجود ہے؟ قرآن کی زبان عربی تھی، یہ کوئی قرینہ نہیں ۔ کیا قرآن انگریزی میں اترنا چاہیے تھا جو اُس زمانے میں موجود ہی نہیں تھی اور آج کی سب سے بڑی عالمی زبان ہے؟ میں پچھلے ای میل میں عرض کر چکا ہوں کہ فطری طریقہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ پہلے عربوں تک اسلام پہنچتا اور پھر ان کے ذریعے سے باقی دنیا تک اسلام پہنچتا۔ یہی بات سورہ بقرہ اور حج کی ان آیات میں بیان ہوئی ہے جو پچھلے ای میل میں بیان کی گئی تھیں ۔

باقی سورہ سبا میں تو ’’کافۃ للناس‘‘ یعنی سب لوگوں کے لیے کے الفاظ ہیں ۔ یہ وہی اہل عالم والی بات کے لیے ایک دوسری تعبیر ہے ۔ باقی جاوید صاحب ہوں یا اصلاحی صاحب سب یہ مانتے ہیں کہ حضور کی بعثت تمام دنیا والوں کے لیے ہوئی ہے ۔ ان کی تفاسیر میں کئی جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے ۔

اب رہے وہ عالم تو آپ اپنی بات ان کے سامنے رکھ دیں ۔ مان لیں تو بہت اچھی بات ہے، نہیں مانتے تو ان کی خدمت میں یہ عرض کہ حضور بہت غلطی ہوئی کہ آپ تک اسلام پہنچ گیا۔ آپ کے فہم کے مطابق تو یہ اللہ کا حکم نہیں تھا۔ اس لیے آپ اس غلطی کی اصلاح فرمائیں، اسلام سے جان چھڑائیں اور دنیا کے جس مذہب کو چاہیں اختیار فرمالیں۔ بہتر ہو گا کہ باقی وقت اسلام پر تحقیق کرنے کے بجائے اس بات پر کریں کہ ان کے آبا واجداد کا مذہب کیا تھا۔ پھر اسی کو اختیار فرمالیں ۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *