سوال و جواب – مئ – 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

 سوال و جواب

ابویحییٰ

شیر سے بھاگنے والے گدھے

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

چونکہ آپ ماشاء اللہ قرآنیات میں بہت ذوق رکھتے ہیں ، اس لیے یہ سوال آپ سے دریافت کرنے کا خیال آیا۔ بات یہ ہے کہ آج کل ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ قرآن مجید نے نصیحت کی باتوں سے جان چھڑانے والوں کو شیر سے بدکے ہوئے گدھوں سے تشبیہ دی ہے ۔ مگر شکاریات کے ضمن میں میرے خیال میں یہ تمثیل عجیب محسوس ہو گی کیونکہ گدھے کو شیر سے بدکنے کا موقع ہی کب ملے گا۔اللہ تعالی آپ پر اپنی خصوصی رحمت فرمائیں ۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جس آیہ مبارکہ کی طرف آ پ نے اشارہ کیا ہے وہ سورہ مدثر کی درج ذیل آیت ہے ۔

’’ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں۔ گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں ۔

(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں ۔‘‘، (المدثر49-51)

یہاں کفار کے قرآن مجید سے اعراض کے رویے کے بیان کے لیے دراصل تمثیل کا اسلوب استعمال ہوا ہے ۔ تمثیل میں ہمیشہ وہی پہلو متعلق ہوتا ہے جو اصل صورتحال میں موجود ہوتا ہے نہ کہ تمثیل کے تمام پہلو۔ یہاں اصل میں چونکہ قرآن کی قرات سن کر اس سے کترا جانے ، دور دور رہنے بلکہ الٹا پلٹ جانے کو بیان کرنا مقصود ہے اس لیے تمثیل میں شیر کے گدھے کو شکار کر لینے یا اس کا تعاقب کر لینے کا نہیں بلکہ دور ہی سے اس کی دھاڑ سن کر گدھوں کے بھاگ جانے اور اس سمت پلٹ کر نہ جانے کا پہلو مراد لیا جائے گا۔ یہ گفتگو یہاں نہیں ہو سکتی کہ شیر کو سامنے دیکھ کر گدھے کو بھاگنے کا موقع کب ملے گا، یا شیر کی رفتار گدھے سے زیادہ ہوتی ہے ۔ ادب کو منطق سے نہیں سمجھا جاتا۔ تمثیل میں یہی بات مراد لی جائے گی کہ گدھے دور سے بھی شیر کی آ واز سن لیں تو کبھی اس سمت نہیں بڑھتے جہاں سے آواز آئی ہے بلکہ الٹا بھاگ نکلتے ہیں ۔ امید ہے بات واضح ہوگئی ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی حد سے بڑھ کر دعا مانگنا

سوال:

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہُ !

سر! قرآن پاک کی سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 55 کا ترجمہ پڑھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں ابھرا ہے ، آیت کا ترجمہ ہے کہ :

تم اپنے پرودگار سے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے سے دعا کیا کرو۔ بلا شبہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اس کی تفسیر دیکھی تو لکھا تھا کہ حد کے اندر دعائیں مانگنے کا حکم ہے ، اپنی حیثیت سے بڑھ کرمانگنا حد سے بڑھنا ہے۔ یہ حد کے اندر دعا سے کیا مراد ہے؟ یہ دعا مانگتے وقت کی کیفیت کا ذکر ہے یا الفاظ کا مطلب کہ جو دعا مانگی جا رہی ہے ہم اس کے قابل ہیں یا نہیں ؟ یوں تو ہم گنہگار رب کریم سے جنت الفردوس کا سوال بھی کرتے ہیں جبکہ ہم اس کے قابل نہیں ہیں ۔

والسلام۔ راحت عباس

جواب:

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جس آیت کے بارے میں یہ اشکال پیدا ہوا ہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں :

انہ لا یحب المعتدین  یعنی  اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرنا۔

یہاں ’’معتدین‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سرکشی اور تکبر کا شکار ہیں اور اس روش کی بنا پر بندگی کی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا سے مانگنے کے بجائے اپنے زورِبازو اور علم و صلاحیت کو اپنی ہر نعمت کی بنیاد سمجھتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال قارون ہے جو اپنے مال و دولت کو اپنی صلاحیت کا نتیجہ سمجھتا تھا۔

اس وضاحت کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اس خاص جملے میں دعا کی کیفیت یا حدود کا بیان ہے ۔ دعا کی کیفیت تو پچھلے جملے میں بیان ہو چکی یہاں دعا کی حدود نہیں بلکہ بندے کی حدود بیان کی جا رہی ہیں کہ پروردگار ایک بلند و عظیم  ہستی ہیں جو کائنات کے خالق و مالک ہیں جبکہ باقی سب مخلوق ہیں۔ تو انہی سے مانگنا چاہیے، بڑے عجز سے مانگنا چاہیے ۔ کیونکہ وہ اکڑنے  سرکشی کرنے اور بندگی کی حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔

باقی آپ کو اللہ سے جو مانگنا ہے وہ مانگیں جنت الفردوس مانگیں ۔ بلاشبہ وہ مانگنے کی چیز ہے ۔ دعا میں جس چیز کی ممانعت ہے وہ ظلم و زیادتی پر مبنی کسی چیز کا مانگنا ہے ۔ کیونکہ یہ چیز اخلاقی طور پر سخت ناپسندیدہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی اصلاح کا آغاز

سوال: السلام علیکم!

سر انسان کو اپنی اصلاح کا آغاز کس بنیادی نکتے سے کرنا چاہئیے؟ مطلب مثال کے طور پر مجھ میں بہت ساری برائیاں ہیں اور میں اپنی اصلاح کی خواہاں ہوں تو سب سے پہلے کیا چیز ہونی چاہئیے جس پر فوکس ہو کر اس کو ٹھیک کرنے یا اس کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

جواب:

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اپنی اصلاح کے آغاز کا لائحہ عمل ہر شخص کے لیے کچھ مختلف ہو سکتا ہے ۔ تاہم عمومی طور پر اس میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ جن برائیوں کا چھوڑنا آسان ہو پہلے ان سے شروع کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد ان برائیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے جن کو چھوڑ نے میں دقت پیش آتی ہے ۔

دوسری بات یہ کہ اس کے ساتھ اپنے علم کی سطح کو بڑھاتے رہنا چاہیے خاص کر وہ علم جس کا مقصد اصلاح و تربیت ہے ۔ اس مقصد کے لیے آپ ہمارے تربیتی کورس جوائن کرسکتی ہیں ۔ اس علم سے آپ کو معلوم ہو گا کہ کون سی غلطیاں اور برائیاں ہم میں موجود ہیں مگر ہم ان کو برا نہیں جانتے ۔ انشاء اللہ اس طرح آپ کے اندر اصلاح اور بہتری کا ایک مسلسل عمل شروع ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لایعنی بحثیں

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے نہیں گئے ۔ وہ آج بھی اس دنیا میں ہیں ۔ اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ جب معراج کا واقعہ پیش آیا تھا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین سے آسمانوں کی طرف گئے تھے تو یہ کائنات اور اس کا نظام رک گیا تھا ۔ اور جب واپس زمین پر آئے تھے تو سب کچھ وہیں سے شروع ہوا جہاں سے وہ چھوڑ کر گئے تھے ۔ اور وہ کائنات آج بھی چل رہی ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہیں اس دنیا میں۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور مانتے ہیں اللہ کا۔ جب کہ قرآن میں ان کے بشر ہونے کی کئی آیات ہیں ۔ ان لوگوں کو کیسے قائل کیا جائے جو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور نور ہیں ؟

جواب:

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایسے لوگوں کو قرآن مجید کے مطالعے کی طرف راغب کریں ۔ اگر بحث کریں گی تو تلخی پیدا ہو گی۔ ایسی بحثوں نے ایک زمانے میں لوگوں میں بڑی نفرتیں پیدا کی ہیں ۔ ان سے بچنا چاہیے ۔ لوگوں پر واضح کرنا چاہیے کہ ہم سے اصل مطالبہ آپ کی اطاعت اور پیروی کا ہے ۔ اسی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی وہ سوال ہے جو قیامت کے دن ہم سے کیا جائے گا۔ نہ کہ آپ کے نور و بشر ، حاضر و ناظر ہونے کے متعلق۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in QnA سوال و جواب, ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to سوال و جواب – مئ – 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amjad Hussain. says:

    Jazakallah.bahout hi khubsoorat andaz ha jwabat ka.

  2. Alam zeb says:

    Very great & appreciable

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  4. Muhammad Zahid says:

    ASSALAM O ALAIKUM WR WB,,,,,ma sha Allah logog ki islah o tarbiyyat aur unhan Qur’aan o Sunnat ki taraf ragib karnay ka jo andaz Allah Taala nay aapko ata kiya hai,,woh bohat khubsurat aur dil-nasheen hai.Allah aapki jumlah hasanaat aur khidmaat ko sharaf e quboliyyat say nawazay,,Aameen.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *