سوال و جواب – مارچ 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 سوال و جواب 

ابویحییٰ

درود شریف اور ذکر الٰہی 

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ اللہ کی رحمت سے خیر و عافیت سے ہو نگے۔ سر مجھے آپ سے کچھ رہنمائی چاہیے تھی۔ سر میں اپنے علم کی کمی اور عمل کے نا قص ہونے کی وجہ سے آپ سے یہ پو چھ رہی ہوں ۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں پورے شعورسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھوں۔ ویسے بھی ایک مسئلے کی وجہ سے کسی نے وظیفہ بتایا ہے درود ابراہیمی پڑھنے کا، مسئلہ یہ ہے کہ مجھے شیطان کی طرف سے وسوسہ آتا ہے کہ درود پڑھنے سے اللہ کی تعریف تو نہیں ہوتی تو کثرت سے درود پڑھنے کے بجائے اللہ کی حمدو ثنا کے کلمات پڑھوں۔ یعنی پورے یقین اور دل کے اطمینان کے ساتھ نہیں پڑھ پاتی، میں اس کیفیت سے نکلنے کے لئے کیا کروں ؟ اگر صرف درود ہی کثرت سے پڑھا جائے تو اللہ کے ذکر میں کمی والی بات تو نہیں ہے نا؟ میرا دل چاہتا ہے میں پوری محبت اور دل کی حاضری کے ساتھ پڑھوں لیکن کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ مجھے درود ابراہیمی کی فضیلت والی احادیث کا بھی علم ہے۔اہمیت کا بھی علم ہے لیکن دل کی کیفیت سے عاجز ہوں۔ رہنمائی فرمائیے ۔

فائزہ خان 

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

درود بھی ذکر ہی کی ایک شکل ہے کیونکہ اصل میں یہ اللہ سے مانگی جانے والی ایک دعا ہے ۔ یہ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف ہے کہ اس نے ہم پر کرم کر کے اپنے محبوب کو ہمارے درمیان بھیجا اور ان کے ذریعے سے ہم نے ہدایت پائی۔ اب ہم ایک دعا کے ذریعے سے اللہ کی اس عظیم نعمت پر اس ہستی کے لیے دعا کی درخواست اور اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے درود پڑھتے ہوئے کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اللہ کی حمد ، تسبیح و تکبیر خود نبی کریم کا سکھایا ہوا طریقہ اور قرآن کا حکم ہے ۔ اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ اس لیے دردو بھی پڑھیں اور ذکر الہی بھی کر لیں ۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمرہ و حج میں دل کی کیفیت 

سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ:

الحمد للہ، اللہ نے دو ہفتے پہلے عمرے کی سعادت نصیب کی۔ لیکن سر میں آپ سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتی ہوں۔ ہوا یوں کہ میں جن کیفیات اور محسوسات کا اندازہ کر کے وہاں گئی تھی وہاں جا کے میری کیفیت وہ نہ ہوئی۔ میں جب تک گئی نہ تھی تو بیت اللہ کا تصور کر کے اور اس کے بارے میں سن کر مجھے بہت رونا آتا تھا اور میں اللہ کے احساس اور اس جگہ کا تصور کر کے روتی تھی محبت میں سوچتی تھی جب آنکھوں سے دیکھوں گی تو کیا حالت ہو گی۔ لیکن جب میں وہاں گئی اور بیت اللہ کو دیکھا تو کوئی خاص احساس نہ جا گا۔ نہ بہت دل دھڑکا نہ بہت رونا آیا۔ اور میں بہت ڈر گئی کہ ایسا کیوں ہوا۔ شدت سے گنا ہوں کا احساس ہوا۔ پہلے دن کے بعد پھر فرق آ گیا، مطلوبہ کیفیت نصیب ہو گئی، لیکن کیفیت بدلتی بھی رہی کبھی مایوسی اور بیزاری کبھی اللہ کا قرب دعاؤں کی قبولیت کا احساس۔ لیکن میں یہ سوچ کے گئی تھی کہ وہاں تو اللہ کی خاص رحمت کے سایہ میں خود کو محسوس کروں گی۔ دل ہر وقت اللہ کے قرب کو محسوس کرے گا۔ جو دعا مانگوں گی قبول ہو گی لیکن وہاں پر بھی میں بے چین ہوئی وسوسے آتے کے اللہ قبول نہیں کرے گا کچھ بھی۔ اور کبھی بہت سکون ہوتا ، اللہ کی رحمت محسوس ہوتی تو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ دل بدل کیوں جاتا ہے ، اللہ کا گھر، اسکا قرب اور میرا دل اتنا بند، الجھا ہوا۔ اور ایک خاص دعا جس کے لئے میں گئی تھی وہ مانگتے ہوے بھی دل الٹتا پلٹتا رہتا، کبھی دل کو یقین آ جاتا کہ ہو گئی قبول، کبھی بے یقینیکہ نہیں ہو گی۔ میں بہت خوفزدہ رہی وہاں ۔ اور یہ بھی کہ لوگ کہتے ہیں وہاں اللہ کی رحمت ہوتی ہے مجھے تو وہاں اللہ سے ڈر زیادہ محسوس ہوا، مجھے اللہ کی بے نیازی محسوس ہوئی کے اللہ کو میری ضرورت نہیں ہے وہ مجھ سے بہت بے نیاز ہے ، ہاں یہ ضرور سمجھ آ گئی کہ میرا اس کے سوا کوئی نہیں۔ میں نے بہت توبہ بھی کی ہے اللہ سے معافی مانگی ہے۔ واپس آتے ہوئے پھر دل بند محسوس ہوا۔ میں نے اللہ سے بہت دعا کی کے مجھے تھوڑ ا سا احسا س دے دیں کے میری دعائیں قبول ہو جائیں گی، لیکن دل کے اندر کوئی احساس نہیں جاگ رہا تھا، مجھے لگا میں مجرموں کی طرح واپس آ رہی ہوں ۔خوفزدہ اور بے چین۔

واپس آ کر الحمد للہ کچھ افا قہ ہے۔ نمازیں بھی کچھ اچھی ہوئی ہیں ، دعاؤں میں بھی دل لگاہے، اللہ سے تعلق بھی محسوس ہو رہا ہے ۔ پھر جا نے کو بھی دل مچل رہا ہے، مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ وہاں جو میری کیفیت تھی وہ میرے گناہوں کا وبال تھا یا وہاں ایسی کیفیت باقی لوگ بھی محسوس کرتے ہیں۔ مجھے وہاں اللہ کا نیا انداز پتہ چلا، بے نیازی کا اور میں چاہتی ہوں اللہ مجھ سے بے نیاز نہ ہو مجھ پر رحمت کرے۔ میں اب اللہ کو راضی کرنے کی کوششوں میں ہوں میرے لیے دعا کریں ۔

فائزہ خان

جواب: وعلیکم السلام

بیت اللہ کی حاضری کو قران مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود موضوع بنالیا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے اپنے احساسات و کیفیات اصل معیار نہیں بلکہ قران مجید کے الفاظ معیار ہیں ۔ قران کریم میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر بیان فرماتے ہیں کہ اس موقع پر جو نیکی کے کام تم کرو گے اللہ ان سے واقف ہے ، (البقرہ197:2)۔ آیت 158 میں واضح ہے کہ اس موقع پر فرائض کے علاوہ جو نیکی کا کام انسان اضافی طور پر خوش دلی سے کرے توجان لے کہ اللہ تعالیٰ بہت قدردان اور علم والے ہیں۔ سورہ حج آیت 36 میں اسی پس منظر میں واضح طور پر ایسے نیکوکاروں کو خوش خبری سنائی گئی ہے ۔

آپ اور ہر زائر کو چاہیے کہ حج و عمرہ کے موقع پر اپنے دل کو معیار بنانے کے بجائے قرآن کریم کے ان بیانات کو معیار بنائے۔ اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جس ہستی کے لیے وہ بیت اللہ گیا ہے وہ اس کے ایک ایک عمل سے واقف ہے۔ نہ صرف واقف ہے بلکہ بڑا قدردان بھی ہے ۔ اور اسی لیے خوشخبری دے رہا ہے کہ ایسے نیکوکاروں کا اجر کسی صورت ضائع نہیں جائے گا بلکہ جنت کا بدلہ ان کا منتظر ہے ۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to سوال و جواب – مارچ 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

  2. Gulrayz says:

    Wonderful explanation about “Aurtoun ki Zimmedariyan”. Hamare muashre me is baat ko phelane ki be-inteha zaroorat hay. Great work Janab, Jazak Allah.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *