سوال و جواب – اپریل 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سوال و جواب

ابویحییٰ 

مسلمانوں کا خدا نظر کیوں نہیں آتا؟

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جب میں کینیڈا میں آئی تو میری عمر 21 سال تھی۔ ایک دن میرے خاوند کے دوست اپنی بیوی گیتا کے ساتھ ہمارے گھر آئے۔ گیتا نے مجھ سے دوستی کرنی چاہی اور کہا کہ کیا میں تمہارے بھگوان کو دیکھ سکتی ہوں؟ مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی۔ یہ میرا کسی غیر مسلم سے ملنے کا پہلا تجربہ تھا۔ اس سوال پر میں بہت کنفیوژ ہوئی اور اس سے کہا کہ شائد تم ہماری مقدس کتاب کو دیکھنا چاہتی ہو؟ اس پر اس نے کہا کہ نہیں میں تمہارے بھگوان کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ کیا وہ تمہاری  الماری (closet) میں ہے؟ اور کیا تم وہ مجھے نہیں دکھانا چاہتی ؟ اس پر وہ اداس بھی ہوئی۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ تم اپنے بھگوان کو دیکھ سکتی ہو لیکن میں اپنے اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ وہ حیرانی کے عالم میں کہنے لگی یہ تو ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ تمہارا بھگوان تمہیں نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ وہ نہ تو حرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی آنکھیں کھول سکتا ہے۔ لیکن میرا اللہ مجھے دیکھ سکتا ہے پر میں اس کو نہیں دیکھ سکتی۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی لیکن اس نے میری بات پر یقین ہی نہیں کیا۔ اور وہ میرے اللہ کو دیکھنے پر اصرار کرتی رہی۔ اس پر اس کے خاوند نے اس کو کہا کہ میں تمہیں گھر جا کر یہ بات وضاحت سے سمجھاؤں گا۔ اس کے بعد اس نے کبھی میرے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔    عارفہ ڈار ۔ 

جواب:

محترمہ عارفہ ڈار صاحبہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا خدا نظر کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان جس خدا کو مانتے ہیں وہ تمام کائنات کا خالق ہے ۔ آج کے دن تک انسان اس پوری کائنات کو تو دیکھ نہیں سکے اور سائنس بتاتی ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں کہ انسان اس پوری کائنات کو کبھی دیکھ سکیں گے۔ جب مخلوق کا احاطہ کرنے کی انسان میں صلاحیت نہیں تو انسان خالق کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں ہرحقیقت کو براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا۔ مثلاً اس وقت میں اور آپ جس کمرے میں بیٹھے ہیں اس میں ہر طرف آکسیجن ہے جس کے بغیر ہم ایک لمحے میں مر جائیں گے ۔ مگر غور کیجیے کہ وہ بھی نظر نہیں آتی ۔ وہ قوت کشش ( Gravity) جس کو سائنسدان اب ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر بیا ن کرتے ہیں وہ بھی نظر نہیں آتی۔

اس لیے خدا کا نظر نہ آنا عجیب نہیں ہے۔ عجیب یہ ہے کہ ایک ایسے بت کو خدا بنایا جائے جو نہ بول سکتا ہے نہ سن سکتا ہے۔ اس کو الماری سے اٹھا کر آپ گٹر میں پھینک دیں ، اس کے ہاتھ، پاؤں اور ناک توڑ دیں ، وہ بے چارہ خدا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ وہ آپ کو نہیں سنبھال سکتا آپ اس کو سنبھال کر احتیاط سے رکھتے ہیں۔ لوگ بے شک ان کی پوجا کریں ، انھیں نذرانے چڑھائیں لیکن ایک مکھی بھی ان کی مٹھائی کا کوئی ذرہ لے کر بھاگ جائے تو وہ اس مکھی کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ چنانچہ جو خدا اس دنیا میں نظر آتے ہیں ان سب کے ساتھ یہ مسائل ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے جو نظر نہیں آتا مگر کائنات میں ہر جگہ اپنی صناعی اور تخلیق میں یہ بتاتا ہے کہ وہ موجود ہے ۔ انسانوں کا وجود میں آنا، درخت کا اگنا، بارش کا ہونا ہر چیز یہ بتاتی ہے کہ اللہ موجود ہے ۔ مگر اتنے غیر معمولی کام کرنے والے خدا کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اسے کسی الماری میں بند کر کے رکھا جا سکے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Permalink.

5 Responses to سوال و جواب – اپریل 2014 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. anonymous says:

    jazak-Allah …

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  3. Nazish says:

    Wawoo……..

  4. Dr Abid says:

    Hamari aqal kaafi hai ALLAH ko uski SANAI(MUSAWARI V TAKHLIQUE) aur cheezoon ki androoni TARTIB O FUNCTIONAL CAPACITY se pahchan len.
    QURAN 1435 saal se tafkur ka kahe raha he. Intihai mukhtasr sa jawab diya hai.

  5. Afia Jahan says:

    Thank you for the detailed article on this topic!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *