سیکولرازم اور ہم (Abu Yahya ابویحییٰ)

مغرب کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ مغرب میں سیکولر ازم کے فروغ کا ایک اہم سبب چرچ کا رویہ تھا۔ پاپائیت کے اندھیروں کے خلاف علم کی روشنی جب پھیلنا شروع ہوئی توچرچ نے ہر ممکن حربہ استعمال کر کے اسے دبانا چاہا۔ شروع شروع میں تو ان کو کچھ کامیابی نصیب ہوئی، مگر وہ زمانہ کے انداز میں آنے والی تبدیلی کا اندازہ نہیں کرسکے ۔

اہل علم کو مختلف سزائیں دینے سے لے کر ان کو جلاوطن کرنے، ان کے نظریات پر پابندی لگوانے، ان کی کتابیں سرعام جلانے، ان کے خلاف نفرت پھیلانے جیسے سارے اقدامات وقت کی تبدیل شدہ لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی تھے۔ چنانچہ آہستہ آہستہ چرچ کی گرفت ڈھیلی ہونا شروع ہوئی اورایک وقت آیا کہ اقتدار کے ایوان سے لے کر گھر کے آنگن تک ہر جگہ سے مذہب کو دیس نکالا مل گیا اور سیکولرازم غالب ہو گیا۔

اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ مغرب میں سیکولر ازم اپنی فکری قوت کی بنیاد پر کم اور اہل مذہب کی اخلاقی اور فکری کمزوریوں کی بنا پر زیادہ فروغ پایا۔ کچھ جزوی تبدیلیوں کے ساتھ یہی معرکہ عالم اسلام کے مختلف خطوں میں برپا رہا ہے اور اب ہمیں اس کا سامنا ہے۔ ہمارے ہاں بھی سیکولر ازم اگر پھیل رہا ہے تو اس کی وجہ اس کی فکری قوت نہیں، اہل مذہب کی اخلاقی اور فکری کمزوری ہے ۔

ہمارے ہاں اہل مذہب نے کھل کردہشت گردی کا ساتھ دیا ہے یا اس کی خاموش حمایت کی ہے۔ جن لوگوں سے اختلاف تھا، ہم نے ان کے خلاف بھرپور نفرت انگیز مہمیں چلائیں ۔ خدا کی بات پہنچانے والوں کو قتل کر دیا یا ان کو ملک اور گھر چھوڑ نے پر مجبور کیا ہے۔ اس کے بعد تاریخ بتاتی ہے کہ سیکولرازم آتا ہے اور مذہب بتاتا ہے کہ خدا کا عذاب آتا ہے۔ آج ہم نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے توبہ نہیں کی تو سیکولرازم یا خدا کے عذاب میں سے کوئی ایک چیز ہماری طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس کے سوا ہمارا کوئی مستقبل نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *