شاباش اہل پاکستان شاباش (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

شاباش اہل پاکستان شاباش۔

یہ صرف پھلوں کی خریداری سے رکنے کی بات نہیں۔ یہ سماجی شعور کے ارتقا کا معاملہ ہے۔ اس لیے اس معاملے کی کچھ تفصیل کرنا پڑے گی۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے لیے اٹھایا گیا۔ کبھی ترکوں کے لیے، کبھی عربوں کے لیے اور کبھی افغانوں کے لیے۔ ان کے لیے ہم نے دنیا کی طاقتور اقوام کی دشمنیاں مول لے لیں۔ اپنے گھر میں ہر طرح کا فساد گوارا کیا۔ ۔ ۔ اور ہاتھ کیا آیا؟

کیا اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے؟

ہم نے ہمیشہ تحریکیں حکمرانوں کو ہٹانے کے لیے چلائیں۔ کبھی کسی حکمران کو’’ کتا‘‘ قرار دے کر، کبھی کسی ’’گنجے‘‘ کے سر پر ہل چلا کر (نوجوان قارئین کو غلط فہمی میں پڑنے سے بچانے کے لیے تلمیحات کی بلاغت کو قربان کر کے ان کا مطلب بیان کرنا شاید ضروری ہے۔ جرنل ایوب کے خلاف چلائی گئی عوامی تحریک کا پاپولر نعرہ ’’ایوب کتا ہائے ہائے‘‘  تھا جبکہ بھٹو صاحب کے خلاف تحریک کا عوامی نعرہ ’’گنجے کے سر پہ ہل چلے گا، گنجا سر کے بل چلے گا‘‘ تھا۔)۔ ۔ ۔ باقی تو ماضی قریب کی باتیں ہیں ۔ ۔ ۔ کیا یاد دلانے کی کوئی ضرورت ہے؟

یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اہل پاکستان کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے اٹھے ہیں۔ اپنے ایک اہم اور بنیادی مسئلے یعنی تاجروں کی پیدا کردہ سفاکانہ مہنگائی کے خلاف اٹھے ہیں۔ کوئی تشدد نہیں، کوئی توڑ پھوڑ نہیں، کوئی احتجاجی جلسہ جلوس نہیں۔ وہ پرامن انداز میں ایک ظالم کو اس کے ظلم کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سماجی ارتقا کی بہت بڑی نشانی ہے اور سوشل میڈیا اس شعور کو پیدا کرنے پر مبارک باد کا مستحق ہے۔

سماجی شعور کے ارتقا کی ایک دوسری علامت یہ ہے کہ اپنی تقدیر بدلنے کے لیے ہمیشہ سے ایک نجات دہندہ کی منتظر قوم کسی لیڈر کا انتظار کیے بغیر اپنے حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہت سادہ مزاج ہیں وہ لوگ جو اسے محض پھل اور ریڑھی والوں کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے قومی مزاج میں بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ مزاج اگر آگے بڑھا تو مہنگائی تک ہی نہیں رکے گا۔ یہ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم کے خلاف آواز اٹھاتا چلا جائے گا۔

اس لیے ہر باشعور پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھے اور ان لوگوں کا ساتھ دے جنھوں نے قوم کے شعور کو ایک پرامن مگر انتہائی موثر راستہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تین دن تک فروٹ نہ خریدنے کا معاملہ نہیں، یہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ یہ انتظار کی نفسیات میں جینے سے نکل کر عمل کی دنیا میں قدم رکھنے کا معاملہ ہے۔

یہ تحریک اگر ناکام ہوبھی گئی تب بھی یہ ایک نئے سنگ میل کا آغاز ثابت ہو گی۔یہ ایک نئے پاکستان کا نقطہ آغاز ہو گی جس میں عوام دوسروں کے لیے نہیں ، اپنے لیے جدوجہد کرنا سیکھیں گے۔ جس میں لیڈروں کا انتظار کرنے کے بجائے لوگ اپنے اوپر بھروسہ کر کے اپنے مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کرنا سیکھیں گے۔

اس تحریک کا تصور ہی اہل پاکستا ن کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ شاباش اہل پاکستان شاباش۔

پس نوشت

یہ تحریک الحمدللہ مثبت نتائج کے ساتھ کامیاب ہوئی۔اب اگلا قدم کیا ہو، اس کا جواب ایک تفصیلی مضمون کا تقاضہ کرتا ہے، مگر ایک جملے میں کرنے کا کام یہ ہے کہ الیکشن میں اصلاحات وہ بنیادی قدم ہے، جو قوم کو اس کا حقیقی حق حکمرانی دلوا سکتا ہے ۔ اب کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to شاباش اہل پاکستان شاباش (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Tufail says:

    Please do comment on PANAMA issue where 340 defaulters were listed but one punished and remaining cleared by court {baa izzat barree}, These 339 people should disqualify for next election; election rules should be amended as such.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *