شاید کوئی مل جائے (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کیا ہے؟ عدم سے وجود پانے والی ایک ناقابل تذکرہ ہستی۔ جو کل شروع ہوا تو ایک قطرہ آب تھا۔ جس کا آج نجاستوں اور غلاظتوں سے بھرا ایک حیوانی وجود ہے۔ جس کا کل قبر کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر ہو گا۔ انسان زندہ رہے تو اس کائنات کو کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ مرجائے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ سچ کہوں توکچھ نہیں ۔

مگراس بے وقعت وجود کو قیمتی بنادینے والی صرف ایک چیز ہے۔ وہ یہ کہ نجاستوں کا یہ ڈھیر؛ خون، بدبو اور حیوانیت کا یہ مجموعہ؛ اپنی تمام تر کثافت کے اندر ایک لطافت رکھتا ہے۔ یہ لطافت اس احساس کی لطافت ہے جو جب کبھی ظاہرہوتی ہے، معجزے تخلیق کرتی ہے۔

انسان اس احساس سے تاج محل کو تخلیق کرتا ہے۔ وہ شاہکار غزلیں، لافانی داستانیں، بے مثال فن پارے اور بے پناہ تاثر کے حامل نغمے بکھیرسکتا ہے۔ آہ!مگر اس انسان کا المیہ یہ ہے کہ احساس کی یہ ساری لطافت اپنے جیسے انسانوں کے لیے جنم لیتی ہے۔ کوئی انسان کے عشق میں اسیر ہوجاتا ہے اور کوئی انسانوں کی عظمتوں میں گم ہوجاتا ہے۔

یہ حق تو صرف رب عظیم کا تھا کہ احساس کا ہر جوہر اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتا۔ اعتراف کا ہر جذبہ اس کی بڑائی کے سامنے سرنگوں رہتا۔ محبت کا ہر رنگ اس کی عنایات کا احسان مند رہتا۔

لوگ غیب میں پوشیدہ خدا کی ان مہربانیوں کو تلاش کرتے جو ہر جگہ عیاں ہیں۔ لوگ آنکھوں کی گرفت اور حد ادراک سے بلند خدا کو اپنی نعمتوں کے عکس میں ڈھونڈتے اور نہاں خانہ دل میں اس کے حضور شکرگزاری کی نذر چڑھاتے۔

مگرافسوس! انسان اس بلندی پر تو کیا چڑھتا، پستی کا یہ مکیں گرنے پر آتا ہے تو گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیسا لطیف احساس تھا جو انسان کو دیا گیا تھا۔ مگر انسان اپنے اس جمال کو زوال کے گڑھے میں پھینک دیتے ہیں۔ اپنے ذوق کی اس لطافت کو اخلاق کی غلاظت سے بھر دیتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کو نفرت انانیت اور تعصب سے، اپنی زبان کو جھوٹ، بہتان اور لغویات سے، اپنے عمل کو ظلم، حق تلفی اور زیادتی سے آلودہ کر دیتے ہیں ۔

اس سے بڑا ستم یہ ہے کہ چارسو پھیلی اس گمراہی میں جن لوگوں کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ صحیح بات کی طرف رہنمائی کریں، وہی سب سے بڑھ کر اندھیرے پھیلا رہے ہیں۔ جن لوگوں کو چراغ دیے گئے تھے کہ روشنی کریں، وہ ان چراغوں سے شہر کو آگ لگا رہے ہیں۔

ایسے میں ۔۔۔ مذہبی انتہا پسندی اور ظاہر پرستی کے اس دور میں لطیف احساس کے مالک ایسے اعلیٰ انسانوں کو کہاں ڈھونڈا جائے؟ فرقہ واریت اور قوم پرستی کے مارے ہوؤں میں سچے خدا پرستوں کو کہاں تلاش کیا جائے؟ مفاد پرستوں اور اکابر پرستوں کے بیچ میں وہ عبادالرحمن کہاں سے پاؤں جو تعصبات، خواہشات اور مفادات سے بلند ہو چکے ہوں؟

مگر پھر بھی ڈھونڈتا ہوں۔ اس لیے کہ یہی لوگ حاصل تخلیق ہیں۔ شاید کہیں دور کوئی بنت حوا، کوئی ابن آدم اپنی کثافتوں سے نکل کر لطافتوں کی اس دنیا میں آنے کو تیار ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی گوشے میں کوئی متلاشی حق موجود ہو۔ کوئی ہو جو شیطانوں کی غلیظ دنیا سے نکل کر فرشتوں کی پاکیزہ دنیا میں آنا چاہتا ہو۔ جوانسانی عظمت کو سجدہ کرنے کے بجائے خدائی عظمت کے سامنے پیشانی ٹیکنے کو تیار ہوجائے۔ کوئی ہو جو حمد، تسبیح، تمجید کے موتی اور عجز، محبت، شکرگزاری کے آنسو خدائے ذوالجلال کو پیش کرنا چاہتا ہو۔ کوئی ہو جو خدا کی محبت اور کردار کی عظمت کے نبوی نمونے کو اپنانے کے لیے تیار ہو۔ کوئی ہو جو صبر، خدمت اور محبت کا نمونہ بننے کے لیے تیار ہو۔

بس اسی تلاش میں زندگی گزگئی۔۔۔ اور اسی تلاش میں زندگی گزر رہی ہے۔۔۔ شاید کوئی مل جائے ۔۔۔ اسی لیے لکھتا ہوں ۔۔۔ اسی لیے بولتا ہوں ۔۔۔ شاید کوئی مل جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *