شکرگزاری اور ناشکری کیا ہے؟ (Dr. Muhammad Aqil ڈاکٹر محمد عقیل)

Download PDF

 

 

خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا ہو گیا۔ عین ممکن ہے کہ ہم زبان سے خدا کا شکر کر رہے ہوں اور خدا کے ہاں ہمارا نام ناشکروں میں لکھا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو تو ہم زندگی کے آدھے امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ شکر گذاری کا اصل مفہوم کیا ہے، خدا کو کس طرح کی شکر گذاری مطلوب ہے اور شکر گذاری کے درجات کیا کیا ہیں ۔

شکر گزاری کا مفہوم

شکر گذاری یا کسی کا شکریہ ادا کرنے کے پیچھے جو محرک یا نفسیات ہوتی ہے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب کوئی شخص ہمارے ساتھ بھلائی کرتا، ہمیں نفع پہنچاتا اور ہم سے اچھا رویہ اختیار کرتا ہے تو ہم دل میں پیدا ہونے والے احسان مندی کے جذبات کے تحت اس کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ یہ شکریہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص ہماری قابلیت نہ ہونے کے باوجود ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے ہمیں ملازمت دے دیتا ہے۔ ہم پہلے مرحلے میں دل سے اس کے ممنون اور احسان مند ہوتے ہیں اور اس دلی احساس کی بنا پر زبان سے اس کی تعریف و توصیف میں شکریے کے کلمات ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو محض زبانی شکر ہے جسے اپنے عمل سے ثابت نہ کیا جائے تو یہ شکر ایک جھوٹ اور منافقانہ عمل بن جاتا ہے۔

شکر کی اصل ابتدا ہمارے عمل سے شروع ہوتی ہے جو یہ ہے کہ ہم اس کی ملازمت کے حقوق ادا ا کرتے ہوئے کام ایمانداری سے کریں، اس کے حکم کی تعمیل کریں خواہ ہمارا موڈ ہو یا نہ ہو، ہم ملازمت میں اپنی پسند و ناپسند کو اس کی مرضی کے تابع کر دیں اور آخر میں اگر کبھی مالک کو ہماری ضرورت ہو تو ہم بھی اس کی اسی طرح مدد کریں جیسے اس نے ہماری مشکل میں مدد کی تھی۔

اگر یہ شخص محض زبانی شکریے کو کافی سمجھے اور اس کے بعد عملی اقدامات نہ کرے تو وہ خود کو کتنا ہی شکر گذار سمجھتا رہے لیکن اصل میں وہ ایک ناشکرا، احسان فراموش اور خود غرض انسان ہے جس نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ خدا کے ساتھ شکر گذاری کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ خدا کی عنایت کردہ نعمتیں بے شمار ہیں جن میں زندگی کا ملنا، شعور، روٹی، کپڑا، مکان، سورج کی روشنی، چاند کی ٹھنڈک، بارش سے ملنے والا پینے کا پانی، آنکھیں، کان، زبان، صحت غرض ان گنت چیزیں شامل ہیں۔ انسان کو جب جب ان چیزوں کی اہمیت کا ادراک ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ دل سے احسان مندی کے جذبات کے تحت خدا کا شکر زبان اور عمل دونوں سے ادا کرے۔ چنانچہ شکر گذاری کی تعریف کی جائے تو یوں ہے:

شکر گذاری = نعمت کا علم ہونا + دل سے شکر ادا کرنا (جو زبان پر بھی جاری ہو سکتا ہے ) + عمل سے شکر ادا کرنا۔

[جاری ہے ]

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *