شکرگزار دل (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

میری کوشش ہوتی ہے کہ جہاں ممکن ہو، میں کسی پیدل چلنے والے کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر اس کی منزل تک لفٹ دے دیا کروں ۔ پچھلے دنوں ایک صاحب کو میں نے لفٹ دی ۔ان کا رویہ عام لوگوں سے بہت مختلف تھا۔ انھوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی انگریزی میں میرا شکریہ ادا کیا۔ گرچہ یہ انگریزی غلط تھی ۔اس کے بعد گاڑی میں ان سے مزید گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ گرچہ وہ ایک بہت کم تعلیم یافتہ دیہاتی پس منظر کا نوجوان ہے مگر تہذیب یافتہ ہے ۔ بار بار اس نے مختلف پہلوؤں سے میرا شکریہ اداکیا۔

ایک دیہاتی کم تعلیم یافتہ نوجوان جو شہری کلچر میں ڈھلنے کی کوشش کر رہا ہو اور غیر فصیح انگریزی کا جملہ کہیں سے سن کر بار بار دہرا رہا ہو، بظاہر شہری لوگوں کے ہاں مذاق کا موضوع بن جاتا ہے ۔ مگر اس کے اندر جو شکرگزاری کا احساس تھا وہ اس کی پوری شخصیت پر حاوی ہو چکا تھا۔ میں نے اسے اس کی منزل پر اتارا تو مجھے اس کی گفتگو سے زیادہ اس کی شخصیت کا یہ پہلو یاد رہ گیا۔

اللہ تعالیٰ کے سامنے ہم میں سے ہر شخص کی حیثیت اس نوجوان کی سی ہے ۔ ہم جب اللہ کی نعمتوں کا بہترین طریقے سے بھی شکر ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی شان کے مقابلے میں ہم ایک گنوار، جاہل اور بے وقعت انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ مگر اس کے باوجود وہ قرآن میں یقین دلاتے ہیں کہ میں اپنی شان کو نہیں تمھارے دل کو دیکھتا ہوں ۔

ایسے میں جو بندہ اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرے وہ اس کی ہر کمزوری کو بالائے طاق رکھ کر اسے اپنے محبوب بندے اور بندی کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ وہ اس کی خطاؤں سے چشم پوشی کرتے اور اپنی نعمتیں بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اس کے بے وقعت الفاظ اورشکریہ کونہیں اس کے دل کو دیکھتے ہیں۔ یہی شکر گزار دل خدا کا مطلوب ہے مگر یہی دل اکثر ناپید ہوا کرتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *