شیخ صاحب نماز کیا جانیں (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

مراز داغ دہلوی (1905-1831) کلاسیکل اردو شاعری کے دور متاخرین کا نمایاں ترین نام ہیں۔ وہ غالب اور میر کی طرح اردو غزل کے اصل امام تو نہیں ہیں ، مگر جذبات، بیان اور احساس کی وہ ساری خوبیاں ان کی شاعری میں جمع ہیں جو انھیں اپنے دور کا بہت بڑا شاعر بناتی ہیں۔ ان کی عظمت یہ ہے کہ اقبال جیسے لوگ ان سے اصلاح لیتے تھے ۔

اردو شاعری کو داغ نے متعدد شاندار غزلیں دیں ۔ ان کی ایک بہت خوبصورت اور مشہور غزل کا مقطع اردو زبان و ادب کے کس طالب علم کو یاد نہ ہو گا۔

جو گزرتے ہیں داغ ؔ پر صدمے

آپ بندہ نواز کیا جانیں

اس غزل کا ایک اورشعر اس طرح ہے :

کب کسی در کی جبہ سائی کی

شیخ صاحب نماز کیا جانیں

یہ شعر بظاہر ایک دنیا دار شاعر کا اہل مذہب پر ایک طنز ہے ، مگر یہ نماز کی حقیقت کو جتنی خوبی سے بیان کرتا ہے بڑا سے بڑا عالمانہ خطبہ بھی یہ کام نہیں کرتا۔ شعر کا سادہ ترین مطلب یہ ہے کہ مذہب کی نمائندگی کرنے والے شیخ صاحب نماز کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انھوں نے کبھی کسی اور در کے سامنے ماتھا ہی نہیں ٹیکا۔

بظاہر یہ ایک نامعقول اور کسی قدر گستاخانہ بات لگتی ہے کہ کسی نمازی کی نماز پر اس طرح طنز کیا جائے کہ اس نے کبھی کسی اور کے سامنے تو ماتھا ہی نہیں رگڑا تو وہ نماز کو کیا جانے گا۔ مگر درحقیقت یہ شعر کمال خوبی سے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ عام  نمازیوں کی نماز میں کوئی کیفیت ، کوئی زندگی اور جذبات کی کوئی گرمی اس لیے نہیں ہوتی کہ ان کی نماز ایک یکطرفہ عمل ہوتی ہے ۔

جبکہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے نماز ایک دو طرفہ عمل ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جب کوئی شخص کسی بادشاہ یا بڑے آدمی کے سامنے جا کر اس کے سامنے پیشانی رگڑنا شروع ہوجاتا ہے تو یہ نفسیاتی سطح  پر اس کے لیے بہت بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی زندہ اور باشعور ہستی کے سامنے سر جھکا رہا ہے اورپیشانی ڈال رہا ہے۔ آدمی یہ کام عام حالات میں کرتا ہے نہ عام لوگوں کے سامنے کرتا ہے ۔ وہ بڑی بے کسی اور بے بسی میں مبتلا ہوکر جب کسی بادشاہ کے حضور پیش ہوتا ہے تو اپنی تڑپ کے اظہار کے لیے اس کے قدموں میں گرجاتا ہے۔ کسی کے سامنے پیشانی ٹیکنا اتنا بڑا عمل ہے یہ عمل انسان اگر کسی بت کے سامنے بھی کرے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے اس نے اپنا سب کچھ کسی کے قدموں میں لا ڈالا ہے ۔

اس کے برعکس بدقسمتی سے عام نمازی خدا کے سامنے ایسے نماز پڑھتے ہیں کہ گویا وہ تنہا کھڑے ہیں اور سامنے کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ نماز ایک رسم اور ایک عادت کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ مگر درحقیقت نماز جن اعمال کا مجموعہ ہے ان کی حقیقت کو اسی وقت سمجھا جا سکتا ہے جب وہ کسی اورکے سامنے کیے جائیں ۔ کسی کے سامنے سر جھکانا، ہاتھ باندھ  کر کھڑا ہونا، دو زانو ادب سے بیٹھ جانا، کمر کے بل جھک جانا اور سب سے بڑھ کر اس کے سامنے ماتھا رگڑنا تعظیم اور عاجزی کی انتہا ہوتی ہے ۔ یہ کسی در سے گہری عقیدت، محبت اور اپنی مجبوری اور بے بسی کے بیان کی آخری شکلیں ہوتی ہیں ۔ مگر ہم سب یہ کام اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے کرتے ہیں کہ ہماری روح اندر سے ہر احساس سے خالی ہوتی ہے ۔ ہماری نفسیات پر اس نماز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اسی لیے داغ کا یہ شعر ہم سب کے بارے میں ٹھیک ہے ۔

کب کسی در کی جبہ سائی کی

شیخ صاحب نماز کیا جانیں

——***——

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to شیخ صاحب نماز کیا جانیں (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. saima says:

    MashaAllah very true analysis of our ibadah.May Allah tala reward us all with the real nmaz.ameen

  2. Amy says:

    point to be noted and taken seriously. Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *