شیطان کا طریقہ واردات (Prof. Dr. M. Aqil پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل)

Download PDF

 

ہمارے مذہبی لٹریچر میں شیطان پر کافی بحثیں کی گئی ہیں کہ وہ ازلی ہے یا ابدی، فرشتہ ہے یا جن، شکل و صورت کیسی ہے، رہتا کہاں ہے، کھاتا پیتا کیا ہے وغیرہ۔ لیکن قرآن نے شیطان کے ان پہلوؤں کی بجائے اس بات پر فوکس کیا ہے کہ وہ کس طرح انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن نے اس کا سب سے بڑا ہتھیار وسوسہ انگیزی ہی کو قراردیا ہے۔

یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی زور نہیں اور وہ صرف وسوسہ انگیزی کے ذریعے ہی انسان کو اکسا سکتا ہے۔ یہ وسوسہ انگیزی شیطان ہمیشہ انسان کے ان جبلی تقاضوں کے حوالے سے کرتا ہے جو مادی اور حیوانی پس منظرکی بنا پر انسانی شخصیت کا ایک لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ جیسے جنس کا جذبہ، انانیت، حرص وغیرہ۔ وہ انہیں کمزور پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔

قرآن مجید سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ وسوسے ڈالنے والے شیاطین انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور جنوں میں سے بھی۔ وسوسے انسانی شیاطین کی جانب سے آئیں یا جناتی شیطانوں کی طرف سے۔ ایک انسان ان کو مکمل طور پر رد کرنے پر قادر ہے۔ ان سے بچنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ جونہی ہمیں یہ محسوس ہو کہ شیطان نے وسوسہ انگیزی کی ہے تو ہمیں اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہئے۔ اس پناہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر کی قوتیں یعنی فرشتے ہماری حفاظت پر مامور کر دیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیطان وسوسے ڈالتا ہے تواللہ سے پناہ مانگنے پر فرشتے شیطان کی چالوں کو ہم پر واضح کر دیتے اور ہمارے اندر مزاحمت پیدا کر دیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح ان چالوں کو سمجھ کر جواب دیں۔ اس کے علاوہ فرشتے شیطان کی جانب سے پیدا کی گئی منفی سوچوں کے جواب میں سکینت نازل کرتے اور مثبت سوچیں پیدا کر کے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ لیکن فرشتوں کا یہ ساتھ انہی کو ملتا ہے جو شیطان کو دھتکار کر آگے بڑ ھنا چاہتے ہیں۔

دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ہم علم حاصل کریں۔ اگر ہمیں صحیح و غلط کی تمیز ہو گی تب ہی ہم شیطانی وسوسوں اور چالوں کو پہچان سکتے ہیں۔ تیسرا قدم یہ کہ ہم عمل بہتر بنائیں۔ ایک شخص جو گنا ہوں کی زندگی میں ملوث ہو، شیطان کا باآسانی شکار بن جاتا ہے۔ آخری قدم یہ کہ ہم اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے نقش قدم پر چلیں کیونکہ اللہ کے چنے ہوئے بندوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا۔ اور جب ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ رہیں ۔

وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ ۔ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ

(سورۃ المومنون 23: 98-97)

نیز یہ دعا کرتے رہئے کہ: پروردگار! میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *