(1) صفائی اور طہارت (M. Safeer ul Islam محمد سفیر الاسلام)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ پاک ہے اور نظافت و صفائی کو پسند کرتا ہے ، وہ کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، جواد ہے سخاوت کو پسند کرتا ہے پس تم اپنے آپ کو صاف رکھو اور یہودیوں جیسے نہ بنو، ۔ (ترمذی)

مسلمان کا اپنے آپ ، اپنے گھر اور گھر کے دائرے میں امتیاز اس کی نظافت (صفائی) ہے ، نظافت کے اہتمام میں غیر مسلم بھی مسلمان کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے ۔ لیکن مسلمان طہارت کی وجہ سے اور زیادہ ممتاز ہوتا ہے ۔ طہارت حکم شرعی ہے جو بعض اسباب کے ساتھ مربوط ہے کبھی اس کے لیے نظافت ضروری ہوتی ہے اور کبھی نہیں ۔ مثلاً الکوحل نظیف تو ہو سکتی ہے مگر وہ پاک و مطہر نہیں ہوتی، اس لیے طہارت اور نظافت میں بہت بڑا فرق ہے ، مسلمان ایک وقت میں نظافت و طہارت دونوں کا حامل ہوتا ہے ۔ یہی چیز انسانوں کی اصناف میں اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ گندگی اور نجاست سے دور بھاگتا ہے ۔ چاہے یہ حقیقی ہو یا غیر حقیقی۔ ایک مسلمان نظافت کے ساتھ اس بات کا بھی پورا اہتمام کرتا ہے کہ اس کا جسم پاک ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وضو کی حفاظت مومن کے سوائے کوئی نہیں کرتا، ، ۔ (احمد، ابن ماجہ)

ٔ بدن کے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ مومن لباس کی پاکی کا بھی حریص ہوتا ہے اس کے علاوہ ایک مومن بدن و لباس کے ساتھ ساتھ گھر کی طہارت و نظافت کا بھی متمنی ہوتا ہے ۔ وہ گھر اور اسمیں موجود سامان کی طہارت و نظافت کا پورا اہتمام کرتا ہے ، پھر مزید یہ کہ وہ گھر میں جہاں نماز پڑھتا ہے اس مقام کی پاکیزگی کا زیادہ اہتمام کرتا ہے ۔ وہ گھر میں گندگی اور کوڑا کرکٹ نہیں پھیلنے دیتا۔ باتھ روم اور باورچی خانہ تو خاص توجہ طلب ہوتے ہیں جن پر مومن کی نظر رہتی ہے ۔ گرد و غبار کو جھاڑا جاتا ہے ، گویا گھر میں کسی ایسی چیز کو برداشت نہیں کرتا جو گھر کو بدنما بنا رہی ہو۔

اس سلسلے میں وہ ان امور کو مدنظر رکھتا ہے :

٭ اس بات کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ استعمال شدہ اشیا میں جو بے کار ہو گئی ہیں ان کو کوڑا دان میں ڈالا جائے ۔ خاص طور پر باتھ روم میں استعمال ہونے والا ٹشو وہاں پر موجود کوڑا دان میں پھینکا جائے ناکہ ادھر ادھر پھینکا جائے ، باورچی خانے کا کچرا بھی ادھر ادھر نہ پھیلنے دیا جائے اور اس کو مخصوص مقام پر رکھی ہوئی ٹوکری میں ڈالا جائے یہ ٹوکری ڈھکی ہوئی ہونا چاہیے تاکہ بچے اس میں سے کوئی چیز نکال کر کھانا شروع نہ کر دیں ، اس ٹوکری کو صاف اور خالی کرتے رہنا چاہیے ۔

٭ گھر کے تمام افراد کو یہ دیکھنا چاہیے کہ جن چیزوں پر گرد پڑ گئی ہو ان کی صفائی اور جھاڑ پونچھ کر دیں ۔

٭ گھر میں جھاڑو لگانے کا وقت مقرر ہونا چاہیے ۔

٭ گھر میں رہنے والے لوگوں کو ممکن ہو تو ہر روز ورنہ ہر ہفتے میں ایک بار غسل ضرور کرنا چاہیے ویسے جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے ۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کے لیے مسواک کا اہتمام کیا جائے ٹوتھ پیسٹ اور برش بھی کیا جا سکتا ہے ۔

٭ برآمدے اور صحن کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے اسی طرح بیت الخلا اور باورچی خانے کی صفائی تو خوب توجہ مانگتی ہے اور کہا جاتا ہے کسی خاندان کی صفائی پسندی کا اندازہ اس کے بیت الخلا اور باورچی خانے کی صفائی سے کیا جاتا ہے ۔

بعض اوقات گھر کے کسی ایک فرد کو یہ وسوسہ پڑ جاتا ہے کہ اس نے نظافت و طہارت حاصل کی یا نہیں ۔ وہ اس میں افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وسوسہ اسراف کی طرف لے جاتا ہے ، اس لیے اس کا علاج ضروری ہے ۔ اس میں مالکیہ کے نزدیک رخصت یہ ہے کہ اگرچہ پانی تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اگر اس میں نجاست گر جائے اور اس کے رنگ، ذائقے اور بو میں تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو تو وہ پاک ہے ، مذہب حنفیہ میں یہ رخصت ہے کہ جائے نماز اگر زمین سے چپکی ہوئی ہے تو اس کا حکم زمین کا ہے ، اس پر نجاست خشک ہو جائے اور اس کا اثر محسوس نہ ہو تو وہ پاک ہے ، امام ابوحنیفہ کے مذہب میں یہ رخصت بھی ہے کہ اگر لباس یا کسی جگہ پر نجاست لگ جائے لیکن اس مقام کا تعین نہ ہو رہا ہو تو جہاں غالب گمان ہو اس جگہ یا حصے کا دھو لینا اسے پاک کر دیتا ہے ۔ آپ کے مسلک میں یہ بھی موجود ہے کہ جائے نماز یا بوریے پر اگر نجاست لگ گئی ہو اور خشک ہو گئی ہو یا کسی کے پاؤں پر پیشاب لگا ہو لیکن نجاست پاؤں پر نظر آ رہی ہو تو پھر یہ جائے نماز یا بوریے کو ناپاک نہیں ہو گی۔ مذہب امام شافعی کے نزدیک یہ رخصت ہے کہ اگر نجاست جذب یا خشک ہو گئی ہو تو اس پر پانی بہا دیا جائے یوں نجاست طہارت میں بدل جائے گی اور پانی پاک رہے گا۔ اس مسئلے کے فروع بہت زیادہ ہیں ۔ اگر مذکورہ صورت ہو تو اس پر پانی بہا دینے سے یہ پاک ہو جائے گی۔ پانی جسم اور لباس پر بہا دینے سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔ یہ تو وسوسے کے شکار کی بات تھی مگر متساہل کے لیے ضروری ہے کہ وہ عملی طور پر نظافت اور طہارت کا اہتمام کرے ۔

[نوٹ یہ سلسلہ مضامین سعید حویٰ کی تصنیف ’’البیت المسلم، ، کی تلخیص و ترجمہ پر مشتمل ہے ۔]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (1) صفائی اور طہارت (M. Safeer ul Islam محمد سفیر الاسلام)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *