عشق اور خوف (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

قران مجید کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ خدا کی کتاب اس کے خوف کے بیان سے بھری ہوئی ہے۔ بلا مبالغہ سیکڑوں مقامات پر تقوی یا خوف خدا کا ذکر ہے۔ ان گنت مقامات پر خدا سے ڈرنے کا حکم ہے لیکن ایک مقام پر بھی خدا سے محبت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی محبت تو ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر ہوتی ہے، مگر بیشتر لوگوں کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوتے ہیں ۔ خوف خدا سے خالی شخص اپنے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ اور بہت اطمینان سے یہ امید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیں گے ۔ اسی غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے قرآن میں بے گنتی تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے، مگر حیرت انگیز طور پر ہماری مذہبی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ ہم سب خدا کے خوف سے خالی رہتے ہیں ۔ البتہ عشق و محبت کی حرارت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرجاتی ہے ۔

خدا کے خوف سے خالی محبت کے نتائج کیا نکلتے ہیں ، آئیے اس کو سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کی مثال سے سمجھتے ہیں ۔ کچھ عرصے قبل سلمان تاثیر نے ملک میں نافذ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں سخت کلمات کہے۔ تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انھوں نے جو کچھ کہا ، وہ ملک میں  موجودہ قانون کو کہا۔ ان کے الفاظ سرکار دوعالم کے بارے میں ہرگز نہیں تھے ۔

تاہم عشق کی فضا میں ہر کسی نے اس اہم اور بنیادی فرق کو نظر انداز کر دیا۔ ان کو گستاخی رسول کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ ایک مہم چلائی گئی اور آخر کار ممتاز قادری نے جوش میں آ کر ان کو قتل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ ہماری تربیت اگر عشق کے بجائے قرآن مجید کے اصول خوف خدا پر ہوتی تو ہم سب کاردعمل کیا ہوتا۔

ایسی صورت میں ہم سب کا ایک ہی ردعمل ہوتا۔ ہم سب قرآن مجید کا وہ حکم یاد کرتے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہو، احزاب (70:33)

ہم سب یہ کہتے کہ ہمیں گرچہ ان کی بات سے اختلاف ہے، مگر ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم سیدھی سچی بات کہیں ۔ اور وہ بات یہ ہے کہ انھوں نے جو کہا قانون کو کہا۔ سرکار کی بارگاہ میں کوئی گستاخی نہیں کی تھی۔ یہ بھی سچائی ہے کہ توہین رسالت کا موجودہ قانون نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ۔ بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جس عالم کی یہ آراء پر مبنی ہے یعنی امام ابن تیمیہ ان کو بریلوی اور اہل تشیعہ گویا اس ملک کی اکثریت گستاخ رسول ہی سمجھتی ہے ۔ یہ بھی سچائی ہے کہ اس ملک کی اکثریت جس فقہ کی پیروکار ہے یعنی فقہ حنفی ان کے ہاں توہین رسالت کے حوالے سے قانون ہمارے موجودہ قانون سے مختلف ہے ۔ ان کے نزدیک اس جرم کے مرتکب کو مرتد سمجھا جاتا ہے اور قتل سے پہلے توبہ کا ایک موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کام بھی ریاست کے کرنے کا ہے ۔

یہ وہ حقائق ہیں جو خدا کا خوف رکھنے والا ہرشخص بیان کرنے پر مجبور ہے ۔ اس لیے کہ انسان زیادہ سے زیادہ قتل کرسکتے ہیں ۔ مگر خدا کی پکڑ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے ۔ جب وہ آگ میں ڈالے گا تو انسان کو موت نہیں آئے گی ۔ آدمی چیختا رہے گا، روتا رہے گا، چلاتا رہے ، مگر اس کی فریاد کوئی نہیں سنے گا۔ یہاں تک کہ انسان کی کھال اترجائے گی۔ پھر حکم ہو گا۔ نئی کھال چڑھائی جائے گی اورایک دفعہ پھر اٹھا کر آگ میں پھینک دیا جائے ۔ کوئی رحم نہیں ہو گا۔ کوئی ترس نہیں کھائے گا۔ اس روز آدمی یاد کرے گا کہ رب ذوالجلال سے بے خوف ہونے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ آہ مگر یہ یاد کرنا کچھ کام نہ آئے گا۔

مگر یہ حقائق ہم سب بھول چکے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ حق کی شہادت دینا ہم پر فرض ہے ۔ ہم یہ کام نہیں کریں گے تو ہم پر لعنت کر کے اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے دوسرے لوگوں کو اٹھادے گا۔ اور کوئی اس کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *