علم اور اخلاق (Abu Yahya ابو یحییٰ)

جن احباب نے اس خاکسار کی کتاب ’’تیسری روشنی‘‘ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ فقیر سچائی کی جستجو رکھنے والا ایک طالب علم ہے۔ یہی جستجو اسے فرقہ وارانہ تعصبات سے اٹھا کر قرآن مجید کی اس آخری اور حتمی سچائی تک لے کر آ گئی جو اس دنیا میں رب العالمین اور اس کے آخری پیغمبر کی بات جاننے کا سب سے مستند ذریعہ ہے۔

مذاہب عالم اور مسلمانوں کے باہمی فرقوں کے اختلافات کی تاریخ سے گزرتے ہوئے اس طالب علم کو جو چیز سب سے زیادہ اہم محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ علم کی دنیا میں اختلاف رائے کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس لیے اہل علم میں اختلاف رائے ہوتا بھی رہتا ہے۔ اس سے کبھی کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی بلکہ سوچ وفکر کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لوگ مسلمہ اخلاقی اصول پامال کر کے علمی اختلاف کو عناد میں بدلتے اور الزام، بہتان، غلط بیانی اور اپنے سے جدا رائے رکھنے والوں کی بات کو بدل کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ سننے والا ان سے نفرت کرنے لگے۔ یہ رویہ کچھ تو جذباتی لوگ اختیار کرتے ہیں جو صاحب علم ہونے کے باوجود جذباتیت کا شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی سمجھ اور علم بہت سطحی ہوتا ہے لیکن شوق یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ان کی بھی دھوم ہو۔ کسی معروف اور بڑے آدمی پر کیچڑ اچھال کر سستی شہرت حاصل کرنا ایسے لوگوں کے لیے آسان نسخہ ہوتا ہے۔

ایک مومن سے یہ مطلوب ہے کہ ایسے تمام معاملات میں وہ علمی اختلاف اور اخلاق کی پامالی میں فرق کرنا سیکھے۔ اختلاف جب تک علمی ہے، اسے سنا اور پڑھا جائے۔ جب معاملہ اخلاق کی پامالی یعنی الزام وبہتان، جھوٹ و غلط بیانی تک پہنچ جائے تو ایک مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ ایسی گندگی سے فوراً خود کو دور کرے۔ ایسی چیزوں کا پڑھنا، پھیلانا اور ان کی تصدیق کرنا آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بن جائے گا۔ حبیبِ خدا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح اصول بتادیا ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے۔ معاملہ اگر ثقہ آدمی، کسی عالم یا محقق پر الزام و بہتان کا ہے تو اور سنگین ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید نے واقعہ افک کے موقع پر سورہ نور میں یہ واضح اصول بتادیا ہے کہ ایسے کسی بھی موقع پربندہ مومن پر لازمی ہے کہ بدگمانی کرنے کے بجائے حسن ظن سے کام لیں ۔(النور12:24)

اگر کوئی رائے قائم کرنا ضروری ہے تو پھر پہلے پوری تحقیق کریں۔ الزام لگانے والے سے واضح ثبوت مانگا جائے۔ اس کے بعد جس پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس سے وضاحت لی جائے۔ اس کے بعد ہی انسان کا یہ حق ہے کہ کسی کے بارے میں کوئی منفی رائے قائم کرے ۔اس سے ہٹ کرجس کسی نے کوئی رویہ اختیار کیا وہ قیامت کے دن بری طرح ذلیل کیا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر لوگوں منفی باتیں اسی لیے کرتے ہیں کہ معاشرے میں ایسی باتوں کے سننے، داد دینے اور سنی سنائی بات کو پھیلانے والے لوگ موجود رہتے ہیں۔ ایسے لوگ پہلوں سے کم مجرم نہیں ہیں ۔

عام اور درمیانی علمی سطح کے لوگوں کو اپنی توجہ علمی اختلافات کے بجائے ایمان واخلاق کی اصل دینی دعوت تک محدود رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اسی پر ان کی نجات کا انحصار ہے۔ ایسے لوگوں کی یہ استعداد ہی نہیں ہوتی کہ وہ علمی معاملات کی باریکیاں سمجھ سکیں۔ علمی معاملات میں اختلاف رائے علماء و محققین کا کام ہوتا ہے۔ وہ یہ کرتے ہیں تو ان کو صحتِ فکر حاصل ہوتی ہے۔معاشرہ علمی طور پر ترقی کرتا ہے۔ مگر عوام اور اوسط درجہ کے لوگ جیسے ہی اپنی سطحی علمی حیثیت کے ساتھ علمی معاملات میں چھلانگ لگاتے ہیں، وہ اپنی خرابی کا خود ہی سامان کر دیتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *