عہد الست (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

قرآن مجید کی سورہ اعراف آیت 171 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی زندگی سے قبل تمام انسانوں کو ایک ساتھ پیدا کیا اور ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ بنایا۔ قرآن مجید کا اسلوب بالکل واضح ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا کوئی تمثیلی پیرایہ بیان نہیں ۔ آیت کا آغاز ہی ’’واذ ‘‘ کے الفاظ سے ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ’’اور یاد کروجب‘‘۔ قرآن مجید میں یہ الفاظ جگہ جگہ تاریخی واقعات کے بیان ہی میں استعمال کیے گئے ہیں ۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اگلی آیت میں قرآن مجید اس واقعہ کو بطور حجت بیان کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے یا یہ کہ شرک تو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا اور ہم اپنے پیدائشی حالات کی بنا پر شرک کا شکار ہوگئے ۔

گویا قرآن مجید یہاں اس عذر کی نفی کر رہا ہے جو کوئی انسان حالات کے جبر کا شکار ہو کر اللہ کی بارگاہ میں پیش کرسکتا ہے۔ یعنی لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ گرچہ خدا کے رسول نے ہمیں واضح عقلی دلائل کی شکل میں توحید کی دعوت دی تھی، مگر چونکہ شرک ہمارے آبائی ماحول کی بنا پر ہماری فطرت کا حصہ بن چکا تھا، اس لیے ہم نے توحید کی اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ تمھاری فطرت میں توحید کا پیغام بھی اِسی قوت کے ساتھ موجود تھا۔ جو تم نے ایک عہد کی شکل میں خود پورے شعور کے ساتھ قبول کیا تھا۔ اس لیے تمھارے پاس خارج کی دعوت حق کو رد کرنے کا کوئی عذر نہیں ہے ۔

اس کے بعد جو بات کہی جا سکتی ہے کہ کسی کو یہ واقعہ یاد ہی نہیں تو یہ حجت کیسے بن سکتا ہے؟ تاہم یہ اعتراض غیر متعلق ہے۔ یہاں ماضی کا کوئی یاد رہ جانے والا واقعہ زیر بحث نہیں بلکہ وہ واقعات زیر بحث ہیں جن سے انسان کے لاشعور کی تشکیل ہوتی ہے۔ دور جدید میں علم نفسیات نے اس چیزکو بہت نمایاں کر دیا ہے کہ انسان کے مزاج و طبیعت کی تشکیل میں ایک بہت اہم عامل ماضی کے وہ واقعات ہیں جو انسان کو یاد نہیں رہتے ۔ یعنی اس کی زندگی کے بالکل ابتدائی چند سال۔ کسی انسان کو یاد نہیں رہتا کہ شروع کے تین چاربرسوں میں اس کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے تھے۔ مگر اس کا مزاج انہی واقعات کا مرہون منت ہوتا ہے ۔

ٹھیک یہی معاملہ اس خاص واقعہ کا ہے ۔ اسے انسانی یادداشت سے مٹا دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اگر اللہ کے حضور پیش ہو کر ایک اقرار کرنے کا واقعہ یاد رہتا تو پھر امتحان ختم ہو جاتا۔ تاہم اس واقعے نے انسانی فطرت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسی کی بنا پر ہر انسان کے اندر ایک برتر ہستی، ایک خالق، ایک رب کی طلب رہتی ہے۔ اسے خدا کے تصور سے اپنے اندر کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ اس فطری پیاس کے جواب میں اسے توحید کے مائِ مصفا کے بجائے شرک کی غیر فطری شراب پلا دیتا ہے۔ مگر اس سے اس کی فطری پیاس نہیں بجھتی۔ انسان متعصب نہ ہو تو توحید کی دعوت کو اپنے دل کی صدا سمجھ کر قبول کرتا ہے ۔

دور جدید میں ایک دوسرے پہلو سے یہ چیز نمایاں ہوئی ہے ۔ انیسویں صدی میں مسیحی انتہا پسندی کے جواب میں مغرب میں رد مذہب کی تحریک پیدا ہوئی اور آخر کار خدا کا انکار کر دیا گیا۔ کمیونزم کا ایک پورا فلسفہ وجود میں آیا جس نے بالجبر مذہب کو انفرادی زندگی سے بھی نکالنے کی کوشش کی۔ مگر دو صدیوں کی تمام کوششوں کے بعد بھی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انسان خدا کے بغیر نہیں جی سکتا۔ ان دو صدیو ں میں یہ انسان کی اندرونی فطرت تھی جو عہد الست سے پیدا ہوئی تھی اور جس نے الحاد کے جبر کا پوری قوت سے مقابلہ کیا۔عہد الست اگر کوئی تمثیل ہوتا تو فطرت سے محو ہو جاتا۔ مگر یہ واقعہ ایک حقیقت تھی اس لیے نہیں مٹ سکا۔ خدا کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ختم ہوگئے ۔ خدا ختم نہیں ہوا۔ وہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ عہد الست اسی حقیقت کا بیان ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *