غزل (Parveen Sultana Hina پروین سلطانہ حناؔ)

پروین سلطانہ حناؔ

غزل

زندگی سے نبھا کے چلتی ہوں

کام بگڑے بنا کے چلتی ہوں

کوئی پتھر پڑا ہو، را ہوں میں

راستے سے ہٹا کے چلتی ہوں

ایک نسبت رہی اجالوں سے

ظلمتوں کو مٹا کے چلتی ہوں

دل کا دامن الجھ نہ جائے کہیں

خواہشوں کو دبا کے چلتی ہوں

وہ جو مالک نے مجھ سے جوڑے ہیں

سارے رشتے نبھا کے چلتی ہوں

کوئی کانٹے بچھائے رستے میں

اپنا دامن بچا کے چلتی ہوں

اجر پاتے ہیں ، حوصلے والے

زخم دل کے چھپا کے چلتی ہوں

تاجدارِ حرم کی پیرو ہوں

دشمنی کو بھلا کے چلتی ہوں

ہے ہواؤں سے دوستی میری

گردِ غم کو اڑا کے چلتی ہوں

یہ حناؔ وقت کی ضرورت ہے

راستے خود بنا کے چلتی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *