غزل (Parveen Sultana Hina پروین سلطانہ حناؔ )

Download PDF

 

غزل

(پروین سلطانہ حناؔ)

تھام کر دامنِ مصطفی اے خدا، میں نے تیری ڈگر پر قدم رکھ دیا

آسماں کی طرف میری نظریں اٹھیں ، سامنے اس نے لوح و قلم رکھ دیا

لوگ سارے یہاں پر ہی مصروف ہیں ، اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں

بالمقابل زمانہ ہے اور سامنے آپ کا میں نے نقش قدم رکھ دیا

اتنی لمبی مسافت سے تھک ہار کے ، لوٹ آئے تو ہو ، ساتھ کیا لائے ہو

میں نے کچھ نہ کہا، ان کی سرکار میں ، اپنا سرمایۂ چشمِ نم رکھ دیا

لوگ پتھر اٹھا کر بھی سرشار ہیں ، سنگ بردار ہیں اور تیار ہیں

روح گھائل ہوئی، پاؤں زخمی ہوئے ، ہر قدم پر زمانے نے غم رکھ دیا

مشکلیں راہ میں یوں تو آتی رہیں ، زخم کھا کر بھی میں مسکراتی رہی

اپنے امکاں تلک حق نبھاتی رہی، راہ میں ، میں نے حق کا عَلَم رکھ دیا

آدمی کے تعاقب میں شیطان ہے ، وہ تو آزاد رو ہے کہ انسان ہے

کہ برا اور بھلا دیکھ کر وہ چل راستے میں اگر پیچ و خم رکھ دیا

زندگی سوز ہے ، ساز ہے ، راگ ہے ، یہ ازل سے ابد تک کا اک راز ہے

ہر نفس سن رہا ہے بڑے غور سے ، وقت نے نغمۂ زیرو بم رکھ دیا

حق نے اعزاز بخشا ہے مجھ کو حناؔ، زیر سایہ رہوں ، اس گھنی چھاؤں میں

اس کی خدمت کروں ، مجھ کو جنت ملے ، یہ صلہ ماں کے زیر قدم رکھ دیا

_______***_______

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to غزل (Parveen Sultana Hina پروین سلطانہ حناؔ )

  1. Amy says:

    Beautiful Ghazal!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *