غزل (Parveen Sultana Hina پروین سلطانہ حنا)

Download PDF

پروین سلطانہ حنا

غزل

کتنا سچّا ہے تو، کتنا پیارا ہے تو

سارے ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے تو

اس جہاں میں اگر، غم کے مارے جئے

تو اسی آس پر کہ ہمارا ہے تو

مجھ کو طوفاں سے لڑنے کا یارا نہ تھا

ڈوبنے جب لگی تو کنارا ہے تو

جس نے ساحِل پہ کشتی کو پہنچا دیا

بہتی لہروں میں وہ تیز دھارا ہے تو

جب بھی مشکل سے تو نے نکالا مجھے

دل نے بے ساختہ یہ پکارا ہے تو

تو نے ظلمت سے بخشے اجالے مجھے

میری راتوں میں روشن ستارا ہے تو

تیری رحمت نے بڑھ بڑھ کے تھاما مجھے

باخدا، باخدا میرا یارا ہے تو

تو نے رنگِ حناؔ کو کیا معتبر

اس کا ہر ہر قدم پر سہارا ہے تو

خوشبوؤں کا حسیں ، استعارا ہے تو

پھول، شبنم، کرن اور شرارا ہے تو

کون کہتا ہے یہ، تجھ کو دیکھا نہیں

اس زمیں تا فلک آشکارا ہے تو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *