غلامی کا خاتمہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

غلامی دور جدید میں ایک ناقابل تصور چیز بن چکی ہے ۔ تاہم معلوم انسانی تاریخ میں یہ انسانی معاشروں کا ایک لازمی حصہ رہی ہے ۔ ایک جدید تعلیم یافتہ شخص جب قرآن مجید میں غلامی کا ذکر دیکھتا ہے تو اسے سخت حیرت اور صدمہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ چیز اسلام کی حقانیت پر شبہ کا سبب بن جاتی ہے۔

جو لوگ اس حد تک نہیں جاتے ان کے ذہن میں بھی اس حوالے سے بہت سے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایک سوال یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس طرح شراب اور سود کو بتدریج حرام قرار دیا غلامی کو بھی صراحت کے ساتھ حرام قرار دے دیا جاتا۔ اس میں کیا حرج تھا۔

یہ ایک بہت معقول سوال ہے۔ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ایسا نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ غلامی نہ صرف انسانی معاشرے کی لازمی ضرورت بن چکی تھی بلکہ اس کے عرف میں داخل ہوکر فکری جواز حاصل کر چکی تھی۔

غلامی کا آغاز تاریخ میں اس وقت ہوا جب انسان زرعی دور میں داخل ہوا۔ جنگ و جدل میں جو قیدی پکڑے جاتے وہ قتل کر دیے جاتے۔ وقت کے ساتھ لوگوں کو احساس ہوا کہ قیدیوں کو قتل کرنے کے بجائے اگر ان کو زندہ رکھ کر زرعی زمینوں اور گھروں میں کاموں کے لیے استعمال کر لیا جائے تو قیدیوں کو زندگی کا حق مل جائے گا اور فاتحین ان کی خدمات سے فائدہ اٹھالیں گے۔ چنانچہ غلامی کا سلسلہ ظلم کی ایک کم تر شکل کے طور پر شروع ہو گیا۔ یہیں سے اسے فکری اور اخلاقی جواز مل گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ لونڈی غلام خدمت گزاروں کے طور پر معاشرے کی ناگزیر ضرورت بن گئے۔ جس کے بعد بردہ فروشی شروع ہوگئی۔ قبائلی دور میں جو مرد یا عورت اپنے قبیلے سے جدا ہوتی یا جو قبیلہ کمزور ہوتا اس کے افراد کو پکڑ کر غلام بنا لیا جاتا اور بڑے شہروں میں فروخت کر دیا جاتا۔ قبائلی عصبیت اور حمایت سے محرومی کے بعد کسی لونڈی غلام کے لیے یہ سوچنا بھی ممکن نہ تھا کہ وہ دوبارہ ایک آزاد زندگی گزارسکے۔ وہ کسی طرح آزاد ہو بھی جاتا تو تنہا نہ اپنے تحفظ پر قادر تھا نہ اس دور میں ایسے معاشی مواقع دستیاب تھے کہ وہ خود سے آزاد زندگی گزارنے کا سوچ سکتا۔ اس کا مالک اس کے ساتھ جو کچھ بھی سلوک کرتا، اس کی واحد پناگاہ اور واحد کفیل تھا۔ بردہ فروشی کے علاوہ تاوان اور قرض کی عدم ادائیگی، قتل کی دیت اور کسی جرم کی سزا کے طورپر بھی فرد کی آزادی سلب کر کے اسے کسی کی غلامی میں دے دیا جاتا۔ یوں سماج نے ہر پہلو سے غلامی کو اپنالیا۔

ایسے میں غلامی کے مکمل خاتمے کے لیے انسانوں کے سماجی، معاشی اور فکری نظریات میں تین تبدیلیاں آنا ضروری تھیں ۔ پہلی یہ کہ آزادی کو انسان کا سب سے بڑا حق مان لیا جائے اور ہر قیمت پر اس کا تحفظ کیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ معاشرہ اس بات کو یقینی بناتا کہ ہر شخص کے روزگار کا یقینی انتظام کیا جاتا۔تیسرا یہ کہ دنیا قبائلی تمدن سے نکل کربین الاقوامی معاہدات کے اس دور میں پہنچ جائے جہاں دنیا ایک بین الاقوامی قانون بنانے کے قابل ہوجاتی۔

ان تینوں تبدیلیوں کے بغیر اگر سارے لونڈی غلام ایک حکم سے رہا کر دیے جاتے تو بیشتر غلام خود ہی رہائی لینے سے انکار کر دیتے۔ خاص کر ایک اسلامی معاشرے میں جہاں غلاموں کے ساتھ حسن سلوک ایک دینی مطالبہ تھا۔غلاموں کے نزدیک آزادی سے زیادہ ایک دولت مند مالک کی خدمت کر کے چھت، لباس اور خوراک کی یقینی فراہمی زیادہ اہم تھی۔ وہ آزادی حاصل کر لیتے تو روزگار نہ ملتا اور کسی اور علاقے میں جاتے تو دوبارہ غلام بنا لیے جاتے ۔

اس لیے اسلام نے ایک فطری انداز اختیار کیا۔ اور یہ حق غلاموں کو دے دیا کہ وہ معاوضہ دے کر آزادی حاصل کر لیں۔ اسلام کے اس حل میں یقینا مسلمانوں کے اخلاقی انحطاط کے ساتھ کچھ عملی خرابیاں در آئیں ۔ لیکن مذکورہ بالا تینوں تبدیلیوں کے بغیر ایسا کوئی حکم دینا کار لاحاصل تھا۔

دور جدید میں مغرب کے علمی اور صنعتی انقلاب نے ان تینوں پہلوؤں سے سماج کو بدل دیا۔ آزادی دور جدید میں سب سے بڑی انسانی قدر قرار پا گئی۔ یہ اسی فکری تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج لوگ غلامی کا نام سن کر پریشان ہوجاتے ہیں ۔ورنہ زمانہ قدیم میں اسے ہر طرح کا اخلاقی اور قانونی جواز حاصل تھا۔ چنانچہ اسی پس منظر میں دنیا نے غلامی کو عظیم ترین ظلم سمجھنا شروع کر دیا۔ دوسرے یہ کہ صنعتی انقلاب نے بڑے پیمانے پر ملازمت کے مواقع پیدا کر دیے ۔ہر غلام کے لیے موقع تھا کہ وہ آزادی کے بعد کسی نہ کسی طرح اپنی گزر اوقات کا بندوبست کر لے ۔ تیسرے یہ کہ بین الاقوامی ریاستی معاہدات نے رفتہ رفتہ پوری دنیا کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے ہاں غلامی کو ختم کر دیں ۔

اس لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر کسی قسم کا اعتراض اٹھانا قرآن مجید ہی سے نہیں اس بات سے بھی بے خبری کا ثبوت ہے کہ انسانی معاشرے کیا ہوتے ہیں اور کن اصولوں پر چلتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *