غیر متعلقہ گفتگو (Abu Yahya ابویحییٰ)

میری دعوتی زندگی پر اب کم وبیش ربع صدی کا وقت گزر چکا ہے ۔ اس طویل عرصہ میں ہدایت کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ میں نے دیکھی ہے وہ کسی معقول بات کے جواب میں غیر متعلقہ گفتگو کرنے کی عادت ہے۔ یہ عادت کیا ہوتی ہے، اس کی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ لیکن دو حالیہ مثالیں میں ذاتی تجربے سے قارئین کے سامنے پیش کیے دیتا ہوں جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مرض کیا ہوتا ہے ۔

کچھ عرصے پہلے میں نے فیس بک پر اپنا ایک تاثر درج کر دیا کہ خواتین پر مسجد کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔ لوگوں نے اس بات کو بہت پسند کیا لیکن کچھ لوگوں کی طرف سے ایک غیر متعلقہ بحث چھیڑ دی گئی۔ وہ یہ کہ خواتین کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ میرے تاثرات میں اس بات کا کوئی ذکر نہ تھا کہ خواتین کے لیے نماز کہاں پڑھنا افضل ہے ۔ بحث یہ تھی کہ اس کا کیا شرعی جواز ہے کہ خواتین پر مساجد کے دروازے بند کر دیے جائیں ۔ جبکہ یہ کام اللہ اور اس کے رسول نے نہیں کیا۔ بلکہ صحیح ترین روایات میں عید میں خواتین کی حاضری کو لازمی کیا گیا ہے اور عام نمازوں میں حکم ہے کہ خواتین مسجد جانا چاہیں تو ان کو نہ روکا جائے ۔ مگر یار لوگوں نے اصل بات کا کوئی جواب نہ پا کر قارئین کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دوسری بحث اٹھا دی۔

ایک دوسری مثال پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے لکھے گئے اس مضمون کی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ویزہ کی پابندیوں کے لحاظ سے پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں افغانستان کے بعد سب سے کم وقعت رکھتا ہے ۔ اور یہ کہ دنیا کے کسی اہم یا غیر اہم ملک میں پاکستانیوں کو بنا ویزہ داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔ پھر اس صورتحال کی وجوہات پر کچھ گفتگو کی گئی تھی۔

یہ مضمون فیس بک پر شائع ہوا تواس پر ایک صاحب نے ایک دفعہ پھر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دی۔ یعنی جس ادارے نے یہ رپورٹ بنائی اس پر لعن طعن، مغربی ممالک کو برا بھلا کہا یا یہ کہ پھر تو انڈیا چلے جانا چاہیے ۔ اس طرح کی غیر متعلق اور لا یعنی گفتگو کرنا ہمارے ہاں کے جذباتی لوگوں کاعام طریقہ ہے ۔ حالانکہ معقول جواب یہ ہوتا کہ اعداد و شمار پیش کر کے یہ بتایا جاتا کہ فلاں فلاں ممالک میں پاکستانیوں کو بغیر ویزہ داخلے کی اجازت ہے اور مصنف کی بات خلاف حقیقت ہے ۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

اس طرح کی غیر متعلق گفتگو کرنے والے لوگوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ دلیل وہ سمجھتے نہیں ہیں اور اپنی غیر متعلق اور لایعنی گفتگو کو گلا پھاڑ کر اور بار بار پورے اعتماد سے دہرا دینے کو دلیل کے قائم مقام سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک مدلل بات کو اپنی بے معنی چیخ و پکار سے متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کسی معقول بات کو غیر متعلق اعتراضات سے متنازعہ بنانے کی یہ ٹیکنیک پرنٹنگ پریس کے دور تک تو بہت کامیاب تھی، مگر اب انفارمیش ایج میں فیس بک وغیرہ پر جب نامعقولیت کا نامعقولیت ہونا فوراً واضح کیا جا سکتا ہے تو یہ ٹیکنیک زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ کیونکہ ایک تیسرے قاری کے سامنے دونوں طرف کی باتیں فوراً آ جاتی ہیں اور وہ ایک واضح فیصلہ کر لیتا ہے ۔ تاہم اس کا ایک نقصان ابھی بھی ہوتا ہے ۔

وہ نقصان یہ ہے کہ اس طرح کی غیر متعلقہ باتوں کا جواب دینے میں وقت بہت ضائع ہوتا ہے ۔ خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں اس طرح کی لایعنی گفتگو پورے اعتماد کے ساتھ کرنے والے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد موجود ہو۔ ایسے میں سنجیدہ لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر ایسی فضولیات کی غلطی واضح کر دیا کریں ۔ ایسے مواقعو ں پر خاموش رہنا دراصل شیطان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to غیر متعلقہ گفتگو (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Waqas Malik says:

    Please write on the Female can also wist to the Masjid for Prayer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *