(1)فحاشی اور اسلامی تعلیمات (Prof. M. Aqil پروفیسر محمد عقیل)

Download PDF

پروفیسر محمد عقیل

فحاشی اور اسلامی تعلیمات

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے رشتے میں ایک عمومی حرمت قائم کی ہے یعنی عورت اور مرد کے آزادانہ جنسی اختلاط پر پابندی لگائی ہے ۔ اس پابندی کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ایک ایسی سوسائٹی قائم ہو جس کی بنیاد آزادانہ جنسی تعلق کے بجائے نکاح کے اصول پر ہو تاکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کو فروغ دیا جا سکے ۔ اس پابندی کا دوسرا مقصد انسان کو آزمانا ہے کہ کون اپنے نفس کے منہ زور تقاضوں کو لگام دے کرخدا کی اطاعت و بندگی اختیار کرتا ہے اور کون اپنے نفس کو آلودہ کر کے اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے ۔

جونہی انسان کی زندگی کا آغاز ہوا، انسان کے ازلی دشمن شیطان نے انسان پر یلغار کر دی اور اسے راہ راست سے بھٹکانے کے لئے الٹے سیدھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ۔ ان چالوں میں ایک اہم منصوبہ یہ تھا کہ انسان کو بے حیائی اور برہنگی کی جانب راغب کیا جائے ۔ چنانچہ جب حضرت آدم و حواعلیہما السلام کو جنت میں بھیجا گیا تو شیطان نے سب سے پہلے انہیں درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی تاکہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کا ارتکاب کرنے کے ساتھ ساتھ بے لباسی اور برہنگی کا شکار ہوجائیں ۔ اس کے بعد جب حضرت آدم و حوا نے اس درخت کا پھل چکھ لیا تو اس کا نتیجہ اسی برہنگی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ ساری تفصیل قرآن مجید کی سورۃ الاعراف کی آیات 20 تا 22 میں بیان ہوئیں ہیں ۔

پھر جب اللہ نے حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کو اس دنیا میں بھیجا تو انسانیت کو خبردار کر دیا کہ شیطان اس دنیا میں بھی سب سے زیادہ جہاں سے حملہ آور ہو گا وہ یہی بے لباسی اور بے حیائی ہی ہو گی:

’’اے بنی آدم! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنے میں مبتلا کر دے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کے لباس اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں انہیں دکھلا دے ۔ وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔‘‘، (الاعراف 22:7)

عفت کی اہمیت

شیطان کی اس دراندازی اور نفس کے منہ زور تقاضوں کے باعث اللہ تعالیٰ نے فطرت اور وحی دونوں کے ذریعے انسان کو عفت اختیار کرنے کی واضح اور بین ہدایات دی ہیں ۔ فحاشی کی ابتدا مرد و عورت کے غلط روئیے اور طرز عمل سے پید ا ہوتی ہے ۔ اگر ابتدا ہی سے درست اور حیا پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے توبے حیائی کی روک تھام آسان ہے ۔

اسی لیے قرآن میں بیان ہوتا ہے :

’’(اے نبی! مومن مردوں سے کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔ یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے ۔اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگا ہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو از خود ظاہر ہو جائے ۔ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے جو ان کے خاوند، باپ، خاوند کے باپ (سسر)، بیٹے ، اپنے شوہروں کے بیٹے (سوتیلے بیٹے )، بھائی، بھتیجے ، بھانجے ، میل جول والی عورتیں ، کنیزیں یا جن کی وہ مالک ہوں ، اور اپنے خادم مرد جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہوجائے اور اے ایمان والو! تم سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے ۔‘‘(النور 24 : آیات 31-30)

ان آیات میں زنا کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر دئیے گئے ۔ سب سے پہلے مرد اور پھر خواتین کو ہدایت دی گئی کہ میل جول کے وقت اپنی نگاہیں پست رکھیں یعنی ان میں پاکیزگی پیدا کریں ۔ پھر دونوں کو ہدایت دی گئی کہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یعنی انہیں چھپانے ، پوشیدہ رکھنے اور حیا اختیار کرنے کے اقدام کریں اس کے ساتھ ساتھ شرمگاہوں کو صرف شریعت کے بیان کردہ دائرہ میں استعمال کریں ۔ تیسری ہدایت خواتین سے متعلق ہے جس کی وجہ خواتین کی جسمانی ساخت ہے ۔اس میں یہ ہدایت ہے کہ مخلوط جگہوں پر خواتین اپنے سینے کو نامحرموں کے سامنے ڈھانپنے کا اہتمام کریں اور اسی کے ساتھ ایسے کوئی اقدام نہ کریں کہ لوگوں میں جنسی طورپر رغبت پیدا ہو جیسے چھن چھن کرتے ہوئے پائل کے ساتھ مردوں کی محفل سے گذرنا، لگاوٹ بھری باتیں کرنا، متوجہ کرنے والی خوشبو لگانا، نامناسب لباس پہننا وغیرہ ۔

اسی بات کو ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے :

زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہر دین کا ایک وصف ہے اور اسلام کا وصف حیاء ہے ۔( موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 1545)

فحاشی کی ممانعت

عفت وحیا کو مثبت طور پر بیان کرنے کے بعد فحاشی و بے حیائی پر قدغن لگادی گئی تاکہ معاشرے کو اس قسم کے کسی بھی اثر سے پاک رکھا جائے ۔ قرآن و حدیث میں فحاشی کی واشگاف الفاظ میں ممانعت بیان کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام نہ رہے ۔

قرآن:

قرآن میں فحاشی کی مذمت مختلف پیرایوں میں کی گئی ہے ۔

۔ اللہ تعالیٰ نے کسی ابہام کے بغیر یہ بتا دیا کہ فحاشی کو اللہ نے حرام کر دیا ہے خواہ ان کی نوعیت پوشیدہ ہو یا ظاہر کی ہو :

’ فحاشی کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں ‘‘ (الانعام151:6)

۔ جنسی تقاضے کی شدت اور اہمیت کی بنا پراللہ تعالیٰ نے انسان کو خبردار کر دیا کہ شیطان یہیں سے وار کرے گا ۔ اس بات کی اہمیت کی بنا پر قرآن نے جگہ جگہ یہ بتایا ہے کہ شیطان فحاشی و عریانی کے ذریعے انسانیت کو گمراہ کرنے کے درپے ہے ۔

’’وہ (شیطان) تو تمہیں برائی اور فحاشی کا ہی حکم دیتا ہے ۔‘‘، (البقرہ 169:2)

ایک اور جگہ بیان کیا:

’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے ۔‘‘(بنی اسرائل32:17 )

۔ زنا کی شناعت کی بنا پر خود اللہ نے قرآن میں زنا کرنے والوں کی سزا مقرر کر دی جو اسلامی حکومت دے گی:

’’زانی عورت ہو یا مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو درے لگاؤ، اور اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملہ میں تمہیں ان دونوں (میں سے کسی) پر بھی ترس نہ آنا چاہئے ۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کوان کی سزاکے وقت موجود ہونا چاہئے ۔‘‘(النور2:24)

۔ زانی سے اس قدر سخت بے زاری کا اظہار کیا کہ اللہ نے زانی کا نکاح کسی مومن سے کرنے کو منع فرمادیا اور زانی کو مشرک کے برابر لا کھڑا کیا:

’’زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ عورت کے ساتھ، اور زانیہ کے ساتھ وہی نکاح کرے جو خود زانی یا مشرک ہو ۔ اور اہل ایمان پر یہ کام حرام کر دیا گیا ہے ۔‘‘(النور 3:24)

۔ زنا کو اللہ نے شرک اور قتل جیسے دوگنا ہوں کے ساتھ بیان کیا ہے جن کی سزا ابدی جہنم ہے :

’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہیں پکارتے نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص ایسے کام کرے گا ان کی سزا پاکے رہے گا۔‘‘ (الفرقان68:25 )

۔ بڑ ے گناہ اور فحاشی سے بچنے پر اللہ نے مغفرت کی نوید سنائی ہے :

’’جو کبیرہ گنا ہوں اورفحاشی کے کاموں سے بچتے ہیں اِلا یہ کہ چھوٹے گناہ (ان سے سرزد ہوجائیں ) بلاشبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے ۔‘‘ (النجم 32:53)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Posted in Articles By Other Writers, پروفیسر عقیل کے مضامین | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to (1)فحاشی اور اسلامی تعلیمات (Prof. M. Aqil پروفیسر محمد عقیل)

  1. Gul Rayz says:

    Jazak Allah

  2. Hafeez Khan says:

    Fahhashi ki bohat achi tafseer ki hai. Iss se bachao ki tadbeer bhi saath hi bayan kar di gayi hai. Har insaan ko inn tadabeer per kaarbund rehna chahiye.

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair

  4. عامررشید says:

    جزا ک اللہ۔ بہت ہی جامع اور بہترین لکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *