فلاح کا راستہ (Farah Rizwan فرح رضوان)

 

تو کیا فلاح کا راستہ بس اتنا ہی چھوٹا  سا 10 منٹ کا ہے؟ 2 منٹ میں وضو 4 منٹ جاءِ نماز تک جانے اور آنے کے اور 4 منٹ کی نماز۔ تو یوں پانچ نمازوں کے بنے پچاس منٹ باقی 23 گھنٹے دس منٹ کا کیا بنے گا؟

دعا تو ہم مانگیں کہ اللہ ہمیں متقین کا امام بنا دے اور جو کردار اس کا متقاضی ہے اسے لمحہ لمحہ بنانے کے بجائے ۔ ۔ ۔ لمحہ لمحہ اخلاقی بگاڑ کی نذر کر دیں؟فواحش کے حوالے کر دیں اور فیس بک پراپنی اقدار کی نماز جنازہ پڑھتے رہیں ۔

آپ!۔ ۔ ۔ جی آپ لوگ! جو بھی اس طرز عمل سے گزر رہے ہیں میں ان سے مخاطب ہوں کہ اگر آپ 14 برس سے اوپر کی خاتون ہیں تو میری بیٹی، میری بہن ہیں، اور لڑکے ہیں تو میرے بیٹے، میرے بھائی کی طرح ہیں۔ اور آپ سب ہی کی مسلسل وقت اور ایمان کی یوں بربادی دلی اذیت کا سبب بن رہی ہے۔ حالانکہ نہ کوئی قانون میں نے بنایا ہے نہ ہی میں اس پر پہریدار۔ لیکن چہرے کا پردہ کرنے اور اس پر فخر محسوس کرنے والی خواتین کو جب بے باکی سے فیس بک پر مردوں کی چھوٹی سے چھوٹی اور ذو معنی اورانتہائی بے تکی بات (بکواس) کا جواب دیتے ہوئے دیکھتی ہوں تو بس۔ ۔ ۔

1۔ سب سے پہلے ایک بات گرہ میں باندھ لیں کہ یہ تو فیس بک نے ہر ایک کی ریکویسٹ کو فرینڈ ریکویسٹ کا نام دیا ہوا ہے۔ لیکن اس کامطلب ہرگز ہرگز ’’ہر کسی سے ‘‘ یا ’’ہر کسی کے ‘‘ سامنے، ہنسی مذاق اور گپیں لگانے اور ایک دوسرے  کے ساتھ  لطف اندوز ہو نے والی بچپن کی دوستی نہیں ۔

آپ بڑے ہی نہیں بڑے سمجھدار بھی ہیں، اتنے سمجھدار کہ جانتے بھی ہیں کہ یہ چٹ چیٹ نوک جھونک دلدل تو ہو سکتی ہے فلاح کا راستہ ہرگز نہیں ۔

دوسرا یہ کہ اگر آپ یہی کام مسلسل صرف اپنے محرم رشتوں کے ساتھ بھی کر رہے ہیں تب بھی یہ وقت اور صلاحیتوں کو لغو کاموں میں جھونک ڈالنے کے برابر ہو گا ۔

2۔ اپنی نیت کو بار بار کھنگالیں کہ آپ کی پوسٹ کا مقصد کیا ہوتا ہے ، اس پر آپ سمیت کسی کے بھی وقت یا ایمان کی خرابی کے کتنے امکانات موجود ہیں ۔

3۔ اول تو زیادہ تعداد میں بے مقصد سے تفریحی سٹیٹس ہی ہر تیسری وال پر پڑے ہوتے ہیں، لیکن کیونکہ غیر اخلاقی نہیں تب بھی صرف قریبی دوستوں والے آپشن پر شیئر کر لیا کریں ۔ ضروری نہیں کہ چوراہے پر کھڑ ے ہوکر چورن بیچنے والا کام کیا جائے ۔ اور گلی محلے کے ہر فرد کی ہمت پڑ جائے کہ جو جی کرے بات کر ڈالے ۔

سوچیں تو سہی نا! کہ آپ کے فرشتے آخر کیا لکھتے ہوں گے؟ آپ کے قیامت میں پیش کیے جانے والے نامہ اعمال کے رجسٹر میں؟

اور بالفرض محال یہ سب درست ہو تب بھی بے ضر ر بالکل نہیں۔ کیونکہ آپ گھر یا دفتر کے کسی بھی کام کو کتنی ہی محنت اور احسن طریقے سے کر لیں بمشکل دو چار لوگ ہوں گے جو آپ کو اس پر سراہیں گے اور وہ بھی ایک آدھ بار۔ آپ کے کام پر آپ کو ہزار لائیکس، پانچ سو واہ شاباش خوبصورت عمدہ والے کامنٹس، ڈھائی سو شیئرز کہ بھائی فلاں یا بہن فلانی کا کارنامہ۔ ۔ ۔ والی تھپکی نہیں ملے گی تو آپ کو اپنی اہم ترین ذمہ داریاں بھی بوجھ اور بور لگنے لگیں گی۔اور کسی صورت ادا کر لیں تو ریا اور دکھاوے کے جراثیم اس کا خلوص چوس لیں گے ۔

4۔ نا محرم افراد (خاتون ! مرد) کو ایڈ کرنے کی اصل وجہ؟ا گر واقعی بہت با مقصد اور اصلاحی ہے تو پھر بھی انباکس چیٹنگ سے انتہا درجہ گریز کریں ۔

5۔ میری بات بری لگی ہو تو ہرگز بھی اسے درگزر نہ کریں، بلکہ جتنی بار یاد آئے اپنے پرانے سٹیٹس اور ان کے کمنٹس ملاحظہ فرمائیں۔ اگر میری شکایت میں صداقت محسوس ہو تو پھر سچی توبہ کریں اور اس دل کو جس کا خالق و مالک اللہ ہے، اسی کے کسی مثبت کام میں لگائیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ حی علی الفلاح کی آواز پر بس نمازپڑھ لینا ہی محض اور محدود تنہا فلاح کا راستہ نہیں ۔

اللہ تعالیٰ سچ مچ میں آپ سب کو متقی ہی نہیں بلکہ متقین کا امام بنائے۔ آپ سب ہماری قوم کا فخر ہیں عزت ہیں مان ہیں اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں میں ترقی اور اپنی رضا عطا فرمائے ۔

 

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *