قرارداد مقاصد (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

پچھلے کافی عرصے سے ہمارے ہاں قرار داد مقاصد پر بہت کچھ بحث و مباحثہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس قضیے کو ہم اہل علم و دانش پر چھوڑ کر اس خاص قرارداد مقاصد پر کچھ گفتگو کرنا چاہیں گے جس پر ہماری نجات موقوف ہے۔ یہ وہ قرار داد مقاصد ہے، جو عالم کے پروردگار نے اپنے ماننے والوں کے سامنے خود رکھی ہے، مگر بیشترمسلمان خود کو اس سے فارغ سمجھتے ہیں۔ یہ قراردادِ مقاصد یا دوسرے الفاظ میں نصب العین کیا ہے ، اسے قرآن نے کئی مقامات پر تزکیہ نفس کے عنوان سے بیان کیا ہے اور پورا قرآن اسی کی تفصیل پر مشتمل ہے ۔

اس قرارداد مقاصد کا پہلا ہدف اپنے نظریات کو پاک کرنا ہے ۔ اصطلاحاً اسے ایمان کہتے ہیں۔ آج کے مسلمانوں کا خیال یہ ہے کہ ایمان لانا غیر مسلموں کا کام ہے یا دوسرے فرقے کے لوگوں کا کہ وہ ان کے فرقے اور اکابرین کی عظمت پر ایمان لے آئیں۔ لے آئیں گے تو ان کے ساتھ فرقہ ناجیہ کا حصہ بنیں گے ، ورنہ کفار کے ساتھ جہنم رسید ہوں گے۔ جو لوگ فرقہ واریت سے کچھ بلند ہیں وہ اپنے نظریات کے متعلق یہی رائے رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید کے مطابق ایمان؛ سچائی کو اپنے تعصبات، مفادات، خواہشات کے خلاف جا کر ماننے کا نام ہے ۔ یہ اپنے فرقے ، اکابرین اور اپنی پسند و ناپسند سے بلند ہوکر حق کا ساتھ دینے کا نام ہے۔ جو ہمارا رویہ ہے قرآن مجید کے مطابق یہ رویہ یا تو کفار مکہ کا تھا یا یہود مدینہ کا۔ مگر بہرحال ہمیں پھر بھی یقین ہے کہ جہنم کفار اوردیگر گمراہ فرقوں کا مقدر ہے ۔ ہمارے لیے تو جنت کی مہمانی تیار ہے ۔

اس قرارداد مقاصد کا دوسرا بنیادی جز عمل صالح کے ذریعے سے اپنی شخصیت اور اخلاق کو ظلم و زیادتی، منکر و معصیت، فحش و بے حیائی اور شرک وبدعت سے پاک کر کے عدل ، احسان ، انفاق، حیا اور بندگی کے اعلیٰ اصولوں پر ڈھالنا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں بھی ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کہیں پر عمل صالح کا اطلاق بدل دیا اور کہیں پر اس کی روح پامال کر دی ہے ۔ نماز سے حج تک دین کے ہر بنیادی رکن کو ہم نے بے حیثیت کر دیا ہے۔ نماز خدا کی یاد کا نام تھا۔ ہم نے اسے بے روح اٹھک بیٹھک میں بدل دیا ہے۔ حج شیطان کے خلاف جنگ تھی ہم نے سے سیر وسیاحت اور نئے گنا ہوں سے قبل ماضی کے گناہ معاف کرانے کا ٹوٹکا سمجھ لیا ہے ۔ باقی جو اعمال صالح بندوں سے متعلق ہیں اور تعداد میں کہیں زیادہ ہیں ، وہ ہمارے ہاں ویسے بھی زیر بحث نہیں آتے ۔ ہمارے لیے یہی بہت ہے کہ ہماری ڈاڑھی اور پائنچہ شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ مجال ہے کہ اس کے بعد کوئی فرشتہ ہمارے نامہ اعمال میں جھوٹ، الزام، بہتان، بدگمانی، غیبت، تجسس، تکبر، خلاف عدل بات کہنے ، بلا تحقیق گفتگو کرنے ، ناپ تول میں کمی، خیانت و بددیانتی، اسراف و حق تلفی، ریاکاری اور بخل، انانیت اور تعصب کا کوئی جرم درج کرسکے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کی ایک ذاتی قراردادِ مقاصد ہے ، مگر اِس کا اسلام کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قراردادِ مقاصد ہمارے فرقے ، گروہ، نظریات، تعصبات، خواہشات اور ہمارے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم اسی کے مطابق جیتے اور اسی کے سانچے میں معاشرے کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سماج میں جو تبدیلی آ رہی ہے وہ اسی ذاتی قراردادِ مقاصد پر مبنی ہے۔ اسی کا ایک عکس ہماری اجتماعی زندگی میں شب و روز نظر آتا ہے۔ اسی پر مبنی اسلام اس ملک میں ہر جگہ ملتا ہے اور اسی کے مطابق ڈھلنے والے مسلمان یہاں ہرجگہ آباد ہیں ۔

چنانچہ آج اس ملک کی جو حالت ہے اور جس طرح کا اسلام ہم کو وطن عزیز میں ہر جگہ نظر آتا ہے ، اس کے پیچھے ہم سب کی وہی قرارداد مقاصد ہے جو ذاتی زندگی میں ہم نے اپنارکھی ہے ۔ جس روز ہم قرآن مجید کی دی ہوئی قرارداد مقاصد کو اپنی زندگی بنالیں گے ، اس روز یہ ملک بدل جائے گا۔ چاہے آئین میں کوئی قرار داد مقاصد لکھی ہو یا نہ لکھی ہو۔

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *