قطعی الدلالۃ (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کواللہ تعالیٰ کے کلام اور اپنی لائی ہوئی ہدایت کے طور پر دنیا کو منتقل کیا ہے۔ علمی طور پر یہ وہ مسلمہ ترین کلام ہے جو آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر اللہ اور رسول کی نسبت سے پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ قرآن مجید کی اس حیثیت کوتسلیم کیا ہے اور اس کی بیان کی ہوئی ہر بات ان کے ہاں ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔

تاہم اہل علم کے سامنے ایک مسئلہ یہ آتا رہا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی بات اگر کسی دوسرے ذریعہ علم سے حاصل ہونے والی کسی مسلمہ حقیقت کے خلاف سامنے آجائے تو کیا کیا جائے۔ جب یہ مسئلہ سامنے آیا تو اس کا ایک جواب یہ دیا گیا کہ قرآن کو قطعی الدلالۃ نہ مانا جائے۔ یعنی یہ مان لیا جائے کہ بعض اوقات قرآن مجید کے الفاظ سے جو معنی ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ مراد نہیں ہوتے۔ ایسے میں قرآن مجید کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنوں سے پھیر کر کچھ اور مراد لیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، (البقرہ 286:2)۔ لیکن ہم صبح و شام دیکھتے ہیں کہ لوگوں پر ان کی بساط سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ موت کا واقعہ اس کی سب سے عام مثال ہے۔ موت آتی ہی اس لیے ہے کہ انسان پر اس کی استعداد سے زیادہ بڑی بیماری یا آفت آ جاتی ہے ۔

اس نقطہ نظر نے ایک مسئلہ تو بظاہر حل کر دیا لیکن ایک اور زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر دیا۔ وہ یہ کہ کوئی بھی گروہ کسی بھی وجہ سے قرآن مجید کے ظاہری الفاظ کو مانتے ہوئے اس کا کوئی بھی مطلب بیان کرسکتا ہے جو اس کے ظاہری الفاظ کے بالکل خلاف ہو۔ اس کی ایک مثال زمانہ قدیم کے باطنی نقطہ نظر کی تفاسیر ہیں۔ اس کی ایک اور مثال انیسویں صدی کی اس سائنسی ترقی سے متاثر ہوکر لکھی گئی تفاسیر ہیں جس کے مطابق مادہ آخری حقیقت تھا۔ چنانچہ ان تفاسیر میں قرآن مجید میں بیان کردہ ہر خلاف عادت اور غیر مادی حقیقت کی وہ توجیہہ کی گئی ہے جسے اس کے الفاظ قبول نہیں کرتے۔ مگر چونکہ یہ اصول علمی طور پر مان لیا گیا ہے کہ قرآن قطعی الدلالۃ نہیں ہے، اس لیے ایسے لوگوں کے خلاف فتوے تو دیے جا سکتے ہیں، کوئی مدلل علمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ جب ایک اصول کو آپ اپنی وجوہات کی بنا پر مان چکے ہیں تو دوسرے شخص کواُس کی اپنی وجوہات کی بنا پر یہ اصول استعمال کرنے پر کیسے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے؟

ایک ایسے دور میں جب اہل اسلام کی سیاسی اور تہذیبی برتری ختم ہو چکی تھی اور سوائے معقول دلیل کے قرآن کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ایک محقق امام فراہی کو استعمال کر کے اس مسئلے کو علم کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے حل کرادیا۔

امام فراہی نے اس بات کو واضح کر دیا کہ قرآن مجید اپنے آپ کو فرقان اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یعنی یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر دوسری چیز کو پرکھ کر اس کے صحیح و سقم ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا اور یہ وہ ترازو ہے جس پر تول کر ہر دوسری چیز کا وزن کیا جائے گا۔ کوئی دوسری چیز قرآن کو پرکھ کریا تول کر اس کے صحیح و غلط ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ تاہم یہ بات واضح رہے کہ خود قرآن کریم قریش کی ادب عالیہ کی زبان میں نازل ہوا ہے اور امت تک منفرد آیات کے بجائے سورتوں اور کتاب کی شکل میں منظم کر کے منتقل کیا گیا ہے۔ ان دو حقیقتوں کو سامنے رکھ کر ہی قرآن کے الفاظ سے معنی اخذ کرنا چاہیے۔ ہم دو مثالوں سے اسے واضح کرتے ہیں۔

اوپر ہم نے قرآن کی وہ بات نقل کی ہے کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس بات کو مجرد کر کے پڑھا جائے تو یقینا یہ خلاف واقعہ ہے۔ لیکن جیسے ہی نظم کلام کی روشنی میں پڑھا جائے گا تو معلوم ہو گا کہ اگلا جملہ اللہ تعالیٰ یہ بیان کر رہے ہیں کہ اُس جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور وہ وہی بھرے گا جو کرے گا۔ اس دوسرے جملے نے پہلی بات کا موقع محل واضح کر دیا۔ یعنی کسی جان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کا تعلق عام زندگی سے نہیں بلکہ شریعت کے احکام سے ہے جن پر عمل کرنے یا نہ کرنے پر آخرت میں جزا و سزا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی وجہ سے مثال کے طور پر حج بشرط استطاعت اور زکوۃ بشرط نصاب فرض ہوتی ہے۔ اسی اصول کی بنا پر بیمار کو غسل اور وضو کی جگہ تیمم کی اجازت ہے۔ اس طرح دیکھنے سے ہر چیز اپنی جگہ درست بیٹھ گئی۔

دوسری مثال اس جملے کی ہے جو سورہ کہف آیت 86 میں ذوالقرنین کے حوالے سے بیان ہوا کہ جب وہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے دیکھا کہ وہ ایک سیاہ چشمے میں ڈوبتا ہے۔ یہ بیان بظاہر سائنسی لحاظ سے غلط ہے۔ جدید سائنس کے علم کے مطابق سورج نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب ہوتا ہے۔ یہ صرف بصری دھوکہ ہے۔ اصل میں زمین کی محوری گردش ہے جس سے یہ واقعہ پیش آتا ہے۔

تاہم یہ بات اگر ذہن میں رہے کہ قرآن مجید ادبی اسلوب میں کلام کرتا ہے تو کوئی اشکال نہیں رہتا۔ ادب اور مکالمہ کی زبان میں آج بھی سورج ڈوبنا اور غروب ہونا ہی بولا جاتا ہے۔ ذوالقرنین مغربی سمت فتوحات کرتا ہوا موجودہ ترکی کے مغربی ساحل پر بحیرہ ایجین تک آپہنچا تھا۔ بحیرہ ایجین کے خلیجی علاقوں میں سمندر میں سورج ڈوبنے کا جیسا منظر ذوالقرنین کو نظر آیا قرآن نے بعینہٖ بڑے خوبصورت ادبی پیرائے میں اسی بات کو بیان کر دیا۔

خلاصہ بحث یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالۃ نہ ہونے والی بات قرآن نے ہرگز نہیں کی نہ علم و عقل اس کو قبول کرنے کو تیار ہیں بلکہ قرآن کے بیانات تواس کے عین برعکس ہیں۔ یہ بات ہمارے اہل علم نے ایک مسئلے کے حل کے لیے بیان کی تھی۔ اللہ نے ایک خادم قرآن سے اس مسئلے کو حل کرا دیا تو اللہ کا شکر کرنا چاہیے نہ کہ خلاف قرآن اور خلاف عقل باتوں پر اصرار کر کے اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرنا چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ایمان | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to قطعی الدلالۃ (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Haroon Zafar says:

    آپ نے ایک بہت بڑے مسئلے پر بہت خوبصورتی سے روشنی ڈالی۔ اللہ آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو پھر اس طرح کی تعبیرات ہمارے علماء کیوں کرتے ہیں؟ کیا وہ قطعی الدلالۃ ہونا تسلیم نہیں کرتے۔ اور میرے خیال میں تو وہ تسلیم بھی کرتے ہیں۔ لیکن پھر اس طرح کی تعبیرات کی کیا وجہ ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *