قول سدید اور اہل مذہب (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک عالم دین کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ صاحب کے ایک پروگرام کے حوالے سے تھا جو جوابی بیانیہ کے موضوع پر ہوا تھا۔ اس میں صاحب مضمون نے اپنے نقطہ نظر کے علمی دلائل دیے تھے۔

علم کی دنیا میں ظاہر ہے کہ ہر شخص کو رائے قائم کرنے اور دوسروں سے اختلاف کرنے کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص غلطی کر کے بھی اپنی نیت کی بنیاد پر رب کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکتا ہے۔ مگر اخلاقی حدود کی خلاف ورزی وہ چیز ہے جس پر قیامت کے دن انسان کی پرسش ہو گی۔ خاص کر کسی معاشرے کے بڑے اور نمائندہ لوگ اگر ایسے معاملات میں غیر محتاط ہوجائیں تو پھر عوام الناس پر ایسے ہی قیامت ڈھاتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ڈھائی جا رہی ہے۔

عالم دین نے مضمون کا آغازاس جملے سے کیا تھا کہ 13 مارچ کو جناب شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں، میں نے مختصر بات کی، اس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا۔ اس جملے کا صاف مطلب یہ تھا کہ اینکر پر جانب داری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

جس کے بعد حقیقت جاننے کے لیے اس خاکسار نے یو ٹیوب پر اس پروگرام کی ریکارڈنگ بھی دیکھی۔ جو پہلی بات میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ اس پروگرام میں اینکر نے دونوں علما سے برابر یعنی دو دو سوال کیے۔ عالم دین نے پہلے سوال کا جو جواب دیا وہ پروگرا م ٹائم لائن میں 12:24 سے 15:35 منٹ پر دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا دورانیہ تین منٹ گیارہ سیکنڈ بنتا ہے۔ جبکہ دوسرے جواب کو 15:59 سے 16:30 منٹ پر دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا دورانیہ 31 سیکنڈ بنتا ہے ۔ یوں مجموعی طور پر ان کو تین منٹ اور بیالیس سیکنڈ دیے گئے ۔

اس کے بعد اینکر نے دوسرے شریک گفتگو یعنی جاوید صاحب سے بھی دو ہی سوال کیے ۔ انھوں نے پہلے سوال کا جو جواب دیا وہ پروگرا م ٹائم لائن میں 17:47 سے 20:47 میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس کا دورانیہ تین منٹ بنتا ہے ۔ دوسرے جواب کو21:24 سے 23:00 منٹ میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا دورانیہ ایک منٹ چھتیس سیکنڈ بنتا ہے۔ یوں ان کو دیا گیا مجموعی وقت چار منٹ چھتیس سیکنڈ بنتا ہے ۔

اس تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ اینکر نے دونوں اہل علم سے برابر سوال کیے اور کوئی کمی بیشی نہیں کی۔ پھر دونوں کے سوال کے جواب میں اینکر بیچ میں بالکل نہیں بولے۔ پہلے عالم کو تین منٹ بیالیس سیکنڈ اور جاوید صاحب کو چار منٹ چھتیس سیکنڈ ملے جو عالم دین کے وقت سے گوچون (54) سیکنڈ زیادہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کس اخلاقی معیار پر یہ بات درست ہے کہ اس صورتحال کو اس طرح بیان کیا جائے کہ میں نے مختصر بات کی، اس کے بعد دوسرے عالم کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا؟

اگر صاحب مضمون سے کم سوالات کیے جاتے یا ان کی گفتگو کے بیچ میں مداخلت کی جاتی تو یقینا یہ شکایت بجا ہوتی۔ مگر یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس لیے صاحب مضمون کا یہ دعویٰ ہر اعتبار سے نامناسب ہے ۔

صرف یہی نہیں بلکہ صاحب مضمون نے اپنے ارشادات میں یہ بھی فرمایا کہ اینکر نے غامدی صاحب سے یہ سوال کیا کہ ’’ریاست اپنی ہی ماضی کی پالیسیوں کا شکار بن جاتی ہے ۔‘‘ علامہ غامدی نے اس سوال کا جواب گول کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی غلط بیانی ہے۔ مذکورہ بالا الفاظ اینکر نے ادا تو کیے تھے، مگر یہ سوال نہیں بلکہ ان کا اپنا تبصرہ تھا جو وہ اصل سوال اٹھانے سے پہلے کر رہے تھے۔ اس تبصرے کے بعد ان کا اصل سوال الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ تھا کہ ایسے کیا اہم نکات ہیں جن پر ریاست کام کرے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے علاوہ انتہا پسندی کو بھی کاؤنٹر کرنے کے لیے ریاست نے یہ جوابی بیانیہ ترتیب دیا ہے؟ یہ ساری تفصیل یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ہم اس معاملے کے علمی اور فکری پہلو پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس لیے کہ علمی و فکری مباحث میں آراء قائم کرنا ہرشخص کا حق ہوتا ہے۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس میں کسی سے اجتہادی غلطی ہوجائے تب بھی اجر کی بشارت بعض صحیح روایات میں دی گئی ہے۔

مگر جو دومثالیں ہم نے بیان کی ہیں کہ ان میں کوئی علمی اور فکری بحث نہیں۔ یہ اخلاقی مسئلہ ہے۔ ہر قاری یوٹیوب پر اس پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھ کر صاحب مضمون کی صداقت کو جانچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں مثالیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں ٹاپ کے مذہبی لیڈر بھی اخلاقی حدود سے کتنے بے پرواواقع ہوئے ہیں۔ حالانکہ اہل مذہب کو سب سے بڑھ کر ’’قول سدید ‘‘کا علمبراد ہونا چاہیے ۔’’قول سدید ‘‘ اور ’’اذا قلتم فاعدلوا‘‘ کے قرآنی حکم سے بڑے اہل علم کا یہی وہ اعراض ہے جس کے نتیجے میں عام لوگ انتہا پسندی اور نفرت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی زبان سے، کبھی قلم ، کبھی رویے سے ، کبھی نعروں سے ، کبھی جلسے جلوسوں میں اور کبھی اسلحہ ہاتھ میں اٹھا کر ظلم اور زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں اور پنے لیے غضب الٰہی اور جہنم کی آگ کو بھڑ کادیتے ہیں۔

یہ آگ بلاشبہ عنقریب ان کو جلائے گی، مگر اس کا ایک حصہ ان لوگوں کو بھی برداشت کرنا ہو گا جو جھوٹ، مبالغے اور غلط بیانی سے اس آگ کو بھڑکاتے ہیں۔ جو لوگوں کی نیتوں کو زیر بحث لاتے ہیں۔ جو خود کو آخری حق اور دوسرے کو سراپا باطل سمجھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *