لبرلز کا مسئلہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

سوشل میڈیا کی مقبولیت کے بعد ہمارے ہاں دائیں اور بائیں بازو کی کشمکش عروج پر پہنچ چکی ہے۔ دائیں بازو کے لوگوں کا خیال ہے کہ بائیں بازو والے لبرل اور سیکولر طبقات پاکستان میں مغربیت، مغربی اقدار اور سیکولرازم کوفروغ دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان کا راستہ روکنا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ انہیں دشمن سمجھ کر ان کے خلاف زبردست جنگ جاری ہے۔

دائیں اور بائیں بازو کی بحث سے قطع نظرقرآن مجید اور پیغمبر علیہ السلام کے زاویے سے جب چیزوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہاں کسی انسان کو نہیں بلکہ شیطان کو دشمن سمجھ کر اس سے مقابلہ کرنے کا ذہن بنایا جاتا ہے۔ انسانو ں کو تو اپنے بھائی اور بہن سمجھ کر ان کی خیر خواہی کے جذبے سے درست بات ان تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہمیں اپنے ہاں موجود لبرل طبقات کے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ کرنا چاہیے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اسلام کے حقیقی دشمن ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کی اصل دعوت ان میں سے بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جن تک اسلام کا استدلال نہیں پہنچا ہے۔ انسانی تعبیرات کو جب اسلام کے نام پر پیش کیا جاتا ہے تو ان پر بہت سے جائز سوالات پیدا ہوجاتے ہیں، ایسے سوالات کا جواب دینا ضروری ہے۔

قرآ ن و سنت کی بنیاد پر دینی تعبیرات پر ازسرنو غورفکر وقت کا اہم چیلنچ ہے۔ مگر اس کے بجائے دہشت گردی، فرقہ واریت، تنگ نظری، اختلاف رائے رکھنے والوں کو بدنام کرنا عرصہ دراز سے ہمارا وطیرہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نام پر جو کچھ اس وقت معاشرے میں موجود ہے وہ اسلام اور پیغمبر علیہ السلام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتا۔ چنانچہ اس وقت کرنے کا کام یہی ہے کہ اسلام کی حقیقی دعوت اور استدلال کو بیان کیا جائے اور اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔ اس کے بغیر کی جانے والی ہر کوشش بائیں بازو کو مضبوط کر دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *