لینے اور دینے کے پیمانے (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

قرآن مجید کی سورہ مطففین کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کے لیے ہلاکت کا فیصلہ سنایا ہے۔ عام طور پر ان آیات کو ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں سے خاص کیا جاتا ہے۔ یعنی ہلاکت ان لوگوں کے لیے ہے جو پیسے پورے لیتے ہیں مگر ناپتے اور تولتے وقت ڈنڈی مارکر لوگوں کو کم دیتے ہیں ۔

تاہم اصلاً اس جگہ ایک خاص عمل نہیں بلکہ ایک خاص فکر زیر بحث ہے۔ یہ فکر اچھی طرح جانتی ہے کہ کسی کو مجھے کچھ دینا ہے تو اسے پورا دینا چاہیے۔ ہاں اسے دیتے وقت اپنے مفاد کے لیے وہ ڈنڈی مار دیتی ہے۔ یہی فکر اگر غصے اور انتقام میں کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کم دے گی تب بھی غلط ہو گا۔ یہ فکر کاروباری ناپ تول کے علاوہ کسی اور پہلو سے یہ کام کرے گی تب بھی اسی وعید کی مستحق ہو گی۔

اس کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ گروہی اور فرقہ وارانہ تعصبات میں مبتلا لوگ جب دوسرے گروہوں یا افراد کو نشانہ بناتے ہیں تو معمولی سی رعایت بھی نہیں دیتے ۔ رعایت دینا تو دور کی بات ہے، جھوٹ، الزام، بہتان، بات کو کچھ سے کچھ کرنا اور اس جیسی بہت سی چیزیں معمول ہوتی ہیں۔ مگر جب معاملہ اپنا آجائے تو رویہ ایک دم مختلف ہوجاتا ہے۔ پھر کفِلسان بھی یاد آ جاتا ہے۔ حق اختلاف بھی زیر بحث آ جاتا ہے ۔ عذر و تاویل کا دروازہ بھی پوری طرح کھل جاتا ہے۔ شرح و وضاحت بھی شروع ہوجاتی ہے۔ وسعت و برادشت کا درس بھی دہرایا جاتا ہے ۔

مگر یہ درحقیقت وہی چالاکی ہے جس پر قرآن مجید نے ہلاکت کی وعید سنائی ہے۔ جس شخص کے لینے اور دینے کے پیمانے جدا ہیں، وہ قرآن مجید کے مطابق جہنم کی سزا کا حقدار ہے۔ چاہے یہ کام مفادات کے لیے کیا جائے یا تعصبات کے لیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جہنم کی آگ دونوں طرح کے لوگوں کو یکساں طور پر جلائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *