مالک اور بندے کا تعلق (Affaan Rauf عفان رؤف)

‘دو لاکھ کا جرمانہ پڑا ہے۔’

‘وہ کیوں؟’

‘ہم نے اوپر دو کمرے نہیں بنوائے تھے؟’

‘بنوائے تھے’

‘تو ہم نے نقشہ پاس نہیں کروایا تھا’

‘یہ کیا بات ہوئی! ہماری زمین ہے، ہم جو مرضی کریں!’

‘یہ کس نے کہا ہے؟ یہ زمین تو اسٹیٹ کی ہے جو اس نے ہم کو سو سال کی لیز پر دے رکھی ہے۔’

‘اوہ۔۔۔’ 

بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔ جب زمین ہے ہی کسی اور کی ملکیت تو وہ کیوں نہ اس کے بارے میں پوچھنے کا حق رکھے؟ اب زمین کو اسٹیٹ کی شرائط پر استعمال کرنا بھی logical تھا اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ دینا بھی۔ صرف ایک تعلق کو سمجھنے کی دیر تھی۔ اسٹیٹ اور فرد کا تعلق!

آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی اور سزا بھی اتنی ہی logical ہے۔ ہم اپنے اور کائنات کے مالک کی ملک میں تصرف کرتے ہیں تو آپ سے آپ جواب دہ ٹھہرتے ہیں۔ صرف ایک تعلق کو سمجھنے کی دیر ہے۔ مالک اور بندے کا تعلق!

_______***_______

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to مالک اور بندے کا تعلق (Affaan Rauf عفان رؤف)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

  2. Muhammad Usman says:

    andaaz effective hai baat beee achi hai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *