محبت سے غفلت ( Abu Yahya ابویحییٰ )

 رومانویت دنیا کی ہر زبان اور ہر قوم کی شاعری کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ شاعری وجود ہی میں اس لیے آتی ہے کہ اپنے محبوب کے محاسن کوبیان کیا جائے اور اپنی محبت کا نذرانہ اس کے حضور پیش کیا جا سکے ۔ یہ رومانوی شاعری محبت کے اس جذبے سے وجود میں آتی ہے جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ محبت کا یہ اظہار صرف صنف مخالف ہی کے لیے ظہور نہیں کرتا بلکہ اولاد کے لیے بے انتہا شفقت، والدین کی خدمت، بزرگوں کی عقیدت اور دوست احباب کی رفاقت کے ان گنت رنگوں سے زندگی کو سجاتا رہتا ہے ۔

تاہم یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اپنے خالق و مالک اور پروردگار کے معاملے میں یوں لگتا ہے کہ اکثر انسان اس جذبے سے واقف ہی نہیں۔ محبت میں انسان کسی کے جمال کی تعریف میں الفاظ کے تاج محل تخلیق کرتا ہے ، مگر خدا کی زندہ و جاوید حمد تو دور کی بات ہے اس کی ہر نعمت کے مزے لوٹنے والے اس کا شکریہ ادا کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ محبت کسی کی یاد میں تڑپنے اور بے قرار رہنے کا نام ہے ، یہاں حال یہ ہے کہ عین نماز میں خدا یاد نہیں رہتا۔

محبت کسی کے لیے اپنا دل اور اپنی جان نذر کر دینے کا مطالبہ کرتی ہے ، مگر ہم میں سے کسی نے شاید ہی کبھی دو جملے بول کر اللہ تعالیٰ کو یقین دلایا ہوکہ میرا جینا اور مرنا آپ کے لیے ہے ۔ محبت قربانی اور وفا کا تقاضہ کرتی ہے ، ہم فجر میں اٹھنا ناممکن سمجھتے ہیں ۔ محبت اپنی ہستی اور اپنی انا کو فنا کر دینے کا نام ہے ، مگر ہم خدا کے بجائے اپنی انانیت ، فرقہ اور تعصبات کا جھنڈا بلند کرنا دینداری سمجھتے ہیں ۔

آہ! اس کائنات میں انسان واحد ہستی ہے جو خدا سے محبت کرنے اور اظہار محبت کے ہر طریقے پر قدرت رکھتا ہے ۔ مگر آہ کہ انسان ہی اس محبت سے سب سے بڑھ کر غافل ہے ۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to محبت سے غفلت ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. anonymous says:

    thanks for emphasizing such an important requisite of faith …

  2. Amy says:

    Thanks for the ever-needing reminder & Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *