محکوم اور مظلوم مسلم اقوام کے لیے قرآنی لائحہ عمل (Dr. Irfan Shehzad ڈاکٹر عرفان شہزاد)

Download PDF

حالتِ کمزوری اور محکومی میں مسلمانوں کے لیے قرآن کی کیا ہدایات ہیں، یہ وہ موضوع ہے جسے عصرِ حاضر میں تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اپنے سے کئی گنا طاقتور مقابل کو للکارنا، جدید ٹیکنالوجی کی محیّر العقول طاقتوں سے لیس دشمن کو اپنے فرسودہ ہتھیاروں سے تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے رہنا، اور شکست پر شکست کھا کربھی دشمن کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی قسمیں کھانا، غیرت اور ایمان کا مترادف اور عین جہاد ٹھہرا دیا گیا ہے۔

لیکن دوسری طرف حقائق یہ ہیں کہ ایک جائزے کے مطابق صرف 2014 میں اسرائیل فلسطین تنازع میں 2314 فلسطینیوں کے مقابلے میں صرف 39 اسرائیلی مارے گئے تھے، کشمیر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40,000 اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 80,000 کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں، ان کے مقابلے میں بھارتی آرمی کے ہلاک شدگان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے ۔ افغانستان میں افغان ہلاکتوں اور اس کے مقابلے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناسب کا فرق اس سے بھی زیادہ ہے، یہی حال دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی ہے جہاں مسلمان کسی جارح یا غاصب طاقت سے برسرپیکار ہیں ۔

ادھر جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے اس قسم کی غیرت و حمیت کا کوئی سبق مسلمانوں کو نہیں پڑھایا گیا ہے۔ کمزور مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مکمل لائحہ عمل دیتا ہے۔ ہم وہ لائحہ عمل آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں، آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمنوں سے مسلمانوں کی یہ موجودہ مسلح جدوجہد قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں ۔

عہدِ رسالت کے مکی دور میں مسلمان حالتِ کمزوری میں تھے۔ ان کا جہاد کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر کے ساتھ اپنے عقائد پر جمے رہنا تھا۔ مسلح جہاد کا حکم تو ایک طرف، اس وقت کے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جہاد کا حکم ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد آیا، ملاحظہ کیجیے سورہ حج کی آیت 39 :

’’اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے ۔‘‘ (الحج 39: 22)

یہاں دو نکات قابِل غورہیں ۔ پہلا یہ کہ الفاظ، ’’اجازت دی گئی‘‘ سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے اجازت نہیں تھی، اب جب کہ مسلمان مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اس لیے اجازت دی گئی۔ دوسرے یہ کہ صرف ان کو یہ اجازت دی گئی جن کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر دی گئی تھی، یعنی ریاستِ مدینہ کے مسلمان۔ اہم بات یہ ہے کہ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد بھی مکہ کے مظلوم مسلمانوں پر یہ جہاد فرض نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے دو ہی راستے تھے ۔ ایک یہ کہ مکہ سے ہجرت کر جائیں، جو کہ ان پر فرض قرار دے دی گئی تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔‘‘ (سورۃ النساء آیت 97 )

دوسرا یہ کہ اگر ہجرت نہیں کرتے یا کر نہیں سکتے تو صبر کے ساتھ کسی بیرونی طاقت کا انتظار کریں جو انہیں اس ظلم سے نجات دلائے ۔ اس وقت یہ بیرونی طاقت ریاستِ مدینہ تھی۔ چنانچہ ریاستِ مدینہ کا یہ فرض قرار دیا گیا کہ اپنے مجبور مسلمان بھائیوں کی مدد کو آئے ۔ ارشاد ہوتا ہے :

’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑ و جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔‘‘ ( سورہ النساء ، آیت 75)

لیکن ریاستِ مدینہ پر مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے ایک شرط یہ بھی عائد کی گئی کہ ان کا کفارکے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو۔ اگر معاہدہ ہے ، تو اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، ملاحظہ کیجیے یہ ارشادِ ربانی:

’’رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں ) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے ۔‘‘(سورہ الانفال، آیت72)

قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ ان مظلوموں کو خود سے ہتھیار اٹھا لینے کا کوئی حکم آخر تک نہیں دیا گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر زنجیروں سمیت بھاگ کر آنے والے حضرت ابو جندل کو معاہدہ امن برقرار رکھنے کی خاطر صبر کی تلقین کے ساتھ واپس کفار کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کفارِ مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر جب مکے کے کچھ مسلمانوں نے حضرت ابو بصیر کی قیادت میں ہتھیار اٹھا لیے تھے تو ریاستِ مدینہ نے معاہدہ کی پاسداری کی خاطر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مسلح مدد تو کجا اخلاقی حمایت بھی نہیں کی۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظلوم مسلمانوں کے لیے قرآن کیا لائحہ عمل دیتا ہے ۔ اس بارے میں قرآن کی تعلیمات کس قدر واضح ہیں ۔ اس کے باوجود جارح اور غاصب قوتوں کے خلاف کمزور مسلمانوں کی مسلح جدوجہد ان کا قومی اور نفسیاتی رد عمل تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسلام کا منشاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے اسلام منع نہیں کرتا۔ موسیؑ نے بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے فرعون سے مذاکرات کیے تھے جو قرآن میں تفصیل سے موجود ہیں ، نیز، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے ۔

میرا تاثر ہے کہ دورِ حاضر میں ریاستی ظلم یا قبضے کے خلاف مسلم عوام کی مسلح جدوجہد کا ماخذ اسلام نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام کے دور میں قومیت کے رجحان کے زیرِ اثر مقبوضہ علاقوں میں اٹھنے والی مسلح عوامی تحریکیں ہیں، جن کے ہیروازم نے مظلوم مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے پر ابھارا۔ جہاد کا عنوان اس پر بعد میں قائم ہوا۔

البتہ، اگرکوئی جارح قوت، مظلوموں کی نسل کشی کے درپے ہو جائے تو ہجرت کے علاوہ جان بچانے کے لیے اضطراری طور پر ہتھیار اٹھا لینے کا فطری حق اسلام تسلیم کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے کہ جو اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے ۔

مظلوم و محکوم مسلمانوں کی داد رسی کا طریقہ بس یہی ہے کہ مسلم ممالک اپنی طاقت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، عالمی اداروں کی مدد یا اپنے بل بوتے پر ان کی مدد کو آئیں ۔ اس کی بجائے کمزوروں کو معمولی سے ہتھیار تھما کر، ہلاشیری دے کر اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں دھکیل دینا اور پھر ان کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر سیاست کرنا درحقیقت ان کے ساتھ مزید ظلم کرنا ہے ۔ کمزور مسلمانوں کی کمزور سی مسلح جدوجہد مخالف کو طیش دلانے کے سوا کوئی مفید کام سر انجام نہیں دیتی۔ اگر اس کی بجائے پر امن احتجاج اور مذا کرات کے طریقے پر اکتفا کریں تو ان محکوموں کے مصائب میں کافی کمی آ سکتی ہے۔ غاصب قوتیں بھی درحقیقت پر امن ہی رہنا چاہتی ہیں ۔ چاہے پر امن طریقے سے معاشی اور سیاسی استحصال کرنا ہی ان کا مقصود کیوں نہ ہو۔ ان کو آمادہ ظلم کرنے میں مسلمانوں کے مسلح جتھوں کا بھی بہت کردار ہے ۔ مسلح جدوجہد کا فرض مسلم ریاستوں کا ہے ۔ وہ اگریہ فرض ادا کریں تو نتیجہ آور ہو سکتا ہے ، ورنہ انفرادی جتھوں کی کاروائیاں دہائیاں گرزنے کے بعد بھی خون بہانے کے سوا کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکیں ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *