مدر ڈے پرلکھی گئی سچی کہانی (Parveen Sultana Hina پروین سلطانہ حنا)

پروین سلطانہ حنا

مدر ڈے پرلکھی گئی سچی کہانی

 

یہ بھی اِک کہانی ہے وقت کی زبانی ہے

اِس زمیں کے بیٹوں نے یہ ستم بھی ڈھایا تھا

اپنے گھر کے آنگن سے اس کو جب نکالا تھا

جس نے اس کو پالا تھا

ایک ایک کے در پر اس نے جا کے دستک دی

تیز آندھیاں اٹھیں موجِ خون در آئی

دشتِ بے رخُی میں تھے زخمِ آبلہ پائی

سنگدل مکانوں کے بے نوا دریچوں سے

آہ بھی پلٹ آئی

کیسی بے حسی تھی یہ کیسی بے بسی تھی یہ

ماں نے جب پکا را بے کسی کے لمحوں میں

ایدھی ہوم ہی اس کا آخری سہارا تھا

کاش ایسا ہو جاتا آسمان گرجاتا

اور زمین پھٹ جاتی

اس میں ماں سما جاتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers | Tags , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *