مدینہ کا انتقام (Abu Yahya ابویحییٰ)

مدینہ پاک پر حملہ، سرکارِدوعالم کے شہر پر حملہ، جس نے انسانیت کو امن دیا اس کریم کے گھر پر حملہ۔ ۔ ۔ یہ وہ احساس ہے جو رات سے مجھے بے چین کیے ہوئے ہے۔ اتنی تکلیف تو پاکستان میں مارے جانے والے ہزارہا لوگوں کی شہادت پر نہیں ہوئی جتنی تکلیف یثرب کی حرمت کے پامال ہونے پر ہوئی ہے۔ بے گناہ کی جان تو سب جگہ یکساں محترم ہے، لیکن مدینہ تو شہرِ رحمت ہے ۔ وہاں کی بے حرمتی کیسے برداشت ہو؟ لیکن اب یہ ہو گیا ہے تو پھر اس کے کچھ نتائج نکلیں گے جو ہم میں سے کسی کے حق میں اچھے نہیں ہوں گے۔ آنے والی تباہی سے ہمیں بچنا ہے تو ہمیں ذرا رک کر پوری بات سمجھنا اور ایک مضبوط فیصلہ کرنا ہو گا۔

سرکار دوعالم رسالتماب کے بعد نبوت ختم کر کے امت مسلمہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ اب تمھارے ذریعے سے دنیا کو حق کی شہادت ملے گی۔ جب تک تم ایمان واخلاق کا علم تھامے رہو گے، دنیا میں عزت و سرفرازی تمہارا مقدر ہے۔ جب تک غیرمسلموں کو دعوتِ دین دیتے رہو گے خدا کی رحمت تمھارے شاملِ حال رہے گی۔ اس کے برعکس کرو گے تو ذلت اور بربادی مقدر کر دی جائے گی۔

یہی قانون تھا۔ چار ہزار سال سے یہی قانون چلا آ رہا ہے۔ داؤد وسلیمان علیھما السلام کی عظمتیں ہوں یا خلافت راشدہ کی رفعتیں ، بخت نصر اور ٹائٹس رومی کا عذاب ہو یا چنگیز اور ہلاکو کا قہر، سب اسی قانون کا اطلاق ہے۔ مسلمانوں نے اس قانون کی خلاف ورزی کا پہلا ذائقہ تاتاریوں کے عذاب کی شکل میں چکھا۔ دوسرا موقع دو سو برس قبل اس وقت آیا جب پورا عالم اسلام ایمان واخلاق کی آخری پستی کو چھونے لگا تھا۔ چنانچہ قانون پھر حرکت میں آیا۔ اس دفعہ مغربی اقوام کو بطور عذاب مسلمانوں پر مسلط کر دیا گیا۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں مسلمانوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔ پہلی دفعہ عذاب آنے پر مسلمانوں نے دعوت کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ جس کے بعد ان کاعروج ان کو لوٹا دیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اس دفعہ شیطان نے مسلمانوں میں غیر مسلموں کی شدید نفرت پیدا کر دی۔ جو عذاب الٰہی تھا اس کو غیروں کی سازش کے خانے میں ڈال دیا اور اپنی اصلاح کی سوچ کے بجائے دوسروں کی عداوت کو عام کر دیا۔بدقسمتی سے دوسو برس سے شیطان مسلمانوں میں نفرت کا یہی ذہن عام کیے ہوئے ہے۔ جوشخص توبہ کی منادی کرتا اور صحیح بات بتانے کی کوشش کرتا ہے اس کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو انبیائے بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا تھا۔ یعنی بعض کو قتل کر دیا گیا اور بعض کو جھٹلادیا گیا ۔

مدینہ پر کچھ خود کش حملہ آوروں نے نہیں، نفرت پر مبنی اسی سوچ نے حملہ کیا ہے۔ اس سوچ کے پرستار ہمارے اندر ہر جگہ موجود ہیں۔ ٹی وی پروگراموں، اخبار ی کالموں، فیس بک دیواروں، دینی محفلوں غرض ہر جگہ یہ لوگ اپنی نفرت کا زہر پھیلا رہے ہیں ۔ ان لوگوں کی موجودگی میں آپ ایسے ناپاک حملوں کی جتنی مذمت کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کی نفرت کا زہر اس ملک اور پورے عالم اسلام میں ہزار ہا انتہا پسند اور دہشت گرد پیدا کرتا رہے گا۔

ہم نے ان کو اسی طرح نفرت پھیلانے دی تو یاد رکھیے! خدا کا قانون غیر متبدل ہے۔ یہ مذہب کی آڑ میں شیطان کا سودا بیچ رہے ہیں۔ ہم ان کا سودا اگر ایسے ہی خریدتے رہے تویہ خود بھی مارے جائیں گے اور باقی قوم کو بھی مروائیں گے۔ اس سے پہلے کہ خداوندِ دو عالم مدینہ کا انتقام لینا شروع کرے، ہمیں طے کرنا ہو گا کہ ہمیں ان لوگوں سے جان چھڑانی ہے ۔ ورنہ یاد رکھیے خدا کا غضب ہم میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔

ہماری نجات نفرت میں نہیں ایمان واخلاق اور دعوت کو اپنی زندگی بنانے میں ہے ۔ اسی کو چھوڑنے کی بنا پر ہم دو سو برس سے عالم سزا میں ہیں اور ہماری کوئی بھی کوشش ہمیں غیرمسلموں کے تسلط سے نہیں نکال سکی۔ لیکن اگر ہم ایمان و اخلاق اور دعوت کے اس راستے کو اختیار کر لیں تو ہمارا عروج بمشکل بیس برس کی بات ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ اپنے رب کی بات مانیں گے تو عروج ہمارا مقدر ہے ۔ شیطان کی راہ پر چل کر نفرت کو اختیار کریں گے تو تباہی ہمارا مقدر ہے۔ مدینہ کا انتقام تو لیا جائے گا۔ نفرت کے پجاریوں کو اس کی قیمت دینا ہو گی۔ اب ہمیں اپنے آپ کو اس عذاب سے بچانا ہے ۔

ّ(نوٹ اس مضمون میں سزا و جزا کے جس قانون کو بیان کیا گیا ہے ، قرآن، سیرت اور تاریخ کی روشنی میں اس کی تفصیل ابو یحییٰ صاحب کی دو کتابوں ’’آخری جنگ‘‘ اور عروج وزوال کا قانون اور پاکستان ‘‘میں موجود ہے ۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *