مذہبی مشینیں (Abu Yahya ابو یحییٰ)

Download PDF

مذہبی مشینیں
قرآن مجید میں آیات کی تعداد چھ ہزار سے اوپر ہے۔ان میں وہ آیات جو براہ راست شرعی احکام بیان کرتی ہیں ، ان کی تعداد میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محققین کے نزدیک ان احکامی آیات کی تعداد ڈیڑھ سوسے لے کر پانچ سو تک ہے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن مجید جو کل انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا اورجس میں اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے لیے ہدایت ہے، اس میں احکامی آیات کا تناسب مجموعی طور پر بہت کم ہے۔جبکہ وہ آیات جن میں اقوام سابقہ کے قصے بیا ن ہوئے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے معاصرین کے درمیان پیش آنے والے حالات کا بیان ہے یا پھر انفس و آفاق کی نشانیوں کی تفصیل کی گئی ہے،یا پھر صفات باری تعالیٰ ، احوال قیامت، اور جنت اور جہنم کا ذکر ہے، ان کی تعداد احکام سے متعلق آیات سے کہیں زیادہ ہے۔
ایسے میں قرآن مجید کے ایک طالب علم کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ کیا سبب ہے کہ قرآن مجید جس کا لفظ لفظ ہدایت ہے، اس میں احکام کا تناسب اس قدر کم ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے،مشینی روبوٹوں کی ہدایت کے لیے نازل نہیں ہوا۔ انسان اور مشین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان اصلاً ایک نفسیاتی وجود ہے۔ جبکہ مشین کا کوئی نفسیاتی وجود نہیں ہوتا۔ اس کا پورا نظام کچھ انسٹرکشنز یا ہدایات پر چلتا ہے۔ جبکہ انسان انسٹرکشن پر نہیں چلتے ۔ پہلے ان کی نفسیات کسی چیز کو قبول کرکے تبدیلی کے لیے آمادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ کچھ انسٹرکشن یا ہدایات کو قبول کرتے ہیں۔
یہی سبب ہے کہ قرآن مجید میں ہزارا ہاآیات موجود ہیں جن میں کوئی شرعی حکم بیان نہیں ہوا۔ ان آیات کا اصل مقصد کسی ضابطے قاعدے اور قانون کا بیان نہیں بلکہ انسان کی نفسیات کومتاثر کرنا ہے۔ان آیات کا مطالعہ انسان کے اندر کو بدلنا شروع کرتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وسیع و عریض کائنات خود اپنے آپ وجود میں آئی ہے نہ اپنی مرضی سے چل رہی ہے۔ اس کا ایک خالق و مالک ہے۔ اس خالق نے ہر دور میں اپنے انبیا کو دنیا کی رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ اور آخری دفعہ یہ منصب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ آپ نے آکر انسانوں کو اللہ کی مرضی سے آگاہ کیا۔ اب جو شخص آپ کی پیروی کرے گا دنیا اور آخرت کی فلاح اس کا مقدر ہوگی۔ اور جو شخص نافرمانی کی راہ اختیار کرے گا، ہلاکت اور بربادی اس کا مقدر ہوگی۔
بدقسمتی سے قرآن مجید کی یہی وہ حکمت ہے جس سے آج کل کے لوگ بالکل ناواقف ہیں۔ وہ دین کے احکام کو ٹھونس دینے اور نافذ کردینے جیسی کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان مشینوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کو کچھ انسٹرکشنز دے دی جائیں تو وہ بدل جاتے ہیں۔ جبکہ ایسی کوششوں کے نتیجے میں اگر کچھ بدلتا ہے تو انسانوں کا صرف ظاہر بدلتاہے۔ ان کی نفسیات، ان کا اخلاقی وجود اور ان کا باطن ایسی ہر انسٹرکشن سے غیر متعلق رہتا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
آج ہم پوری دنیا میں اسلام کے نام پر ایک شور اورہنگامہ دیکھتے ہیں۔ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان دنیا میں موجود ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر ان حاملین اسلام اور قرآن کے وہ اثرات دنیا میں نظر نہیں آتے جو چند ہزار صحابہ کرام نے پیدا کردیے تھے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ صحابہ کرام کی نفسیات کو قرآن مجید نے بدل کر رکھ دیا تھا۔ جبکہ آج ہم لوگوں کو مشین سمجھ کر دیندار بناتے ہیں۔ چنانچہ نتیجے کے طور پر اعلیٰ انسان نہیں بلکہ مذہبی مشینیں ہی وجود میں آتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت کی ابدی بادشاہی کسی قسم کی مذہبی یا دینی مشین کے لیے نہیں ہے۔ یہ اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل اعلیٰ انسانوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ قرآن مجید یہی انسان پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایسے ہی انسان وہ لوگ ہیں جن کی آج دنیا منتظر ہے۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to مذہبی مشینیں (Abu Yahya ابو یحییٰ)

  1. Mrs. syed says:

    کاش کہ یہ بات مجھے کسی نے بهت پہلے سمجہا دی ہوتی تو میں اپنے بچوں کی تربیت زیادہ بہتر کر سکتی تہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *