مذہب کا المیہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

  

’’مذہب کا اصل المیہ کیا ہے ، کیا کوئی صاحب بیان کرسکتے ہیں ؟‘‘، عارف نے سوال دہرایا۔ مگر خاموشی رہی۔ اس سے پہلے کئی جواب دیے جا چکے تھے ، مگر عارف نے کسی جواب پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا۔ آخر کو وہ خود ہی جواب دینے لگے ۔

’’مذہب ایک عقلی دعوت ہے ۔ مگرسانحہ یہ ہے کہ مذہب کی اس عقلی دعوت کے حصے میں معقول لوگ نہیں آتے بلکہ اکثر وبیشتر جذبات کے مارے ہوئے لوگ اسے اپنی دلچسپی کا موضوع اور اپنی زندگی بنالیتے ہیں ۔ یہی مذہب کا اصل المیہ ہے ۔‘‘

لوگوں کے لیے یہ جواب حیرت انگیز تھا۔اس حیرت کو ان کے چہروں پر پڑھا جا سکتا تھا۔ ایک صاحب سے رہا نہ گیا۔ وہ سوال کربیٹھے ۔

’’مگر اس کا سبب کیا ہے ؟‘‘

’’سبب یہ ہے کہ عام طورپر لوگ مذہب کو بطور ایک سماجی ورثہ اپناتے ہیں جو ماں باپ اور ماحول سے خود بخود مل جاتا ہے ۔ اپنی وراثت سے انسان کا جذباتی تعلق ہوتا ہے ۔ یوں مذہب سے ایک جذباتی تعلق پیدا ہوجاتا ہے ۔‘‘

’’مگر یہ المیہ کیسے بن گیا؟‘‘، ایک اور صاحب نے سوال کیا تو عارف بولے :

’’المیہ اس لیے بن جاتا ہے کہ ایسے لوگ معاشرے میں مذہب کی بدترین ترجمانی کرتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے میرے سوال کے جو جوابات دیے تھے یعنی فرقہ واریت، انتہا پسندی، تعصب، عدم برداشت، دہشت گردی، مذہب کے نام پر استحصال ، پیری مریدی کا سلسلہ؛ یہ سب چیزیں دراصل بے لگام جذباتیت کے شاخسانے ہیں ۔ایسے جذباتی لوگ جب مذہب کی ترجمانی کرتے ، اس کو اپناتے ، اس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں تو پھر یہ سارے مسائل وجود میں آ جاتے ہیں۔‘‘

یہ بات لوگوں سے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایک اور صاحب نے اعتراض کیا۔

’’انسان تو جذبات کے سہارے جیتا ہے اورمذہب بھی تو جذبات کی طرف بلاتا ہے۔‘‘

’’نہیں یہ تصور درست نہیں کہ مذہب جذبات کی طرف بلاتا ہے ۔ قرآن اول تا آخر پڑھتے چلے جائیں ، اس نے اپنی دعوت کوخالص عقلی بنیادوں پر اٹھایا ہے۔ ہاں عمل پر ابھارتے ہوئے وہ کبھی جذباتی اپیل کر دیتا ہے مگر وہ دعوت عقلی دلائل کی بنیاد پر دیتا ہے ۔ یہی حقیقت اس نقطہ نظر کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ باقی رہے انسان تو بے شک وہ جذبات کے سہارے جیتا ہے ، لیکن زندگی کے بیشتر فیصلے وہ عقلی بنیادوں پر کرتا ہے ۔ یہ ستم وہ صرف مذہب پر ڈھاتا ہے کہ جذباتی انداز سے اس کے حق و باطل کا فیصلہ کر کے مطمئن ہوجاتا ہے ۔‘‘

آخری بات کہتے ہوئے عارف کے لہجے میں جلال آ گیا تھا۔

’’یاد رکھیے مذہب کے حق و باطل کے سنگین ترین مادی نتائج آخرت میں نکلیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی غلط عقیدے کو اس بنا پر برداشت نہیں کریں گے کہ یہ آپ کے جذبات کو سکون دیتا تھا۔ یا آپ کی اس سے جذباتی وابستگی تھی۔آپ لوگوں کو معقولیت کے ساتھ صحیح غلط کا فیصلہ کرنا ہو گا ورنہ اس کے بدترین نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں ۔ جذبات میں آ کر آپ کسی ٹرین کے سامنے کھڑے ہوجائیں تو وہ آپ کے لیے نہیں رکے گی۔ کچل کر نکل جائے گی۔ یہی معاملہ قیامت کی ٹرین کا ہے ۔ قیامت کی ٹرین بھی آپ کو آپ کے جذباتی انداز فکر سمیت کچل ڈالے گی۔ اس لیے مذہبی تصورات میں ہمیشہ عقل سے مدد لیجیے ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیے ۔ ‘‘

’’مگر ہم جذبات کیسے چھوڑ دیں ۔ مذہب اسلام میرا تعصب ہے ۔ میری اس سے جذباتی وابستگی ہے ۔ میں کسی عقلی دلیل پر اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘، ایک صاحب نے جوش میں آ کر کہا۔

’’اسلام چھوڑنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ واحد مذہب ہے جو عقل وفطرت کی بنیاد پر کھڑ ا ہے ۔ مگر کیا آپ کے مخصوص فرقے اور خاص قسم کے نظریات کی بھی یہی حیثیت ہے کہ قرآن ان کی تائید کے لیے نازل ہوا تھا۔ قرآن اسلام کی کتاب ہے کسی فرقے کی نہیں ۔ ہاں مگر ہم اپنے نظریات کو اسلام اور دوسروں کے نظریات کو گمراہی سمجھتے ہیں ۔ یہ وہی جذباتی پن ہے جو مذہب کا اصل المیہ ہے اور جس کے نتیجے میں مذہب بدنام ہوجاتا ہے ۔

حقیقی مومن وہ ہے جو مذہبی تصورات ، نظریات اور عقائد کوجذباتیت کے بجائے عقل سے سمجھے ، بصیرت کی آنکھ سے پرکھے اور پھرجو سمجھا اس پر پورے جذبے سے عمل کرے ۔ اور اس کے لیے تیار رہے کہ کسی اور نے زیادہ بہتر بات سمجھادی تو وہ اسے اختیار کر لے گا ۔ یہ راستہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ۔ یہ جنت کا راستہ ہے ۔ ‘‘

عارف لمحے بھر کے لیے رکے اور مسکراتے ہوئے بولے ۔

’’آپ کا اپنے بیوی بچوں سے جذباتی تعلق ہو سکتا ہے ۔ آ پ ان سے ملنے کے لیے جذباتی ہو سکتے ہیں ۔ مگر جذبات کے سہارے آپ گھر تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے لیے ہر موڑ پر عقلی فیصلہ کرنا ہو گا۔ یہی طریقہ جنت کی منزل تک پہنچنے کا ہے ۔اس راہ کا ہر موڑ عقلی فیصلہ کر کے اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہر دوسرا طریقہ جہنم میں جاتا ہے ۔‘‘

عارف کی مجلس میں آج ایک اورسمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to مذہب کا المیہ (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Muhammad Usman says:

    اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ اسلم عقلی دلیلیں نہیں مانتا اس بات کا کیا جائے حوالے میں چند احادیث بھی بیان کی جاتی ہیں ۔ گزارش ہے اس موضوع کو ذرا کھول کر بیان کیا جائے اور دیگر اعتراضات کا بھی جائزہ لیا جائے اللہ پاک آپ کے حامی و ناصر ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *