مضامین قرآن (28) – دلائل نبوت و رسالت (Abu Yahya ابو یحییٰ)

مضامین قرآن (28)

ابو یحییٰ

دلائل نبوت و رسالت:صحف سماوی اور یہود نصاریٰ کی تصدیق

مذہبی تاریخ کی ایک عجیب بات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت مذہب کی تاریخ کا ایک عجیب و غریب واقعہ ہوتا ہے۔ یہ واقعہ انتہائی غیر معمولی ہے، مگر بالعموم اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ لیکن اس کو سمجھ لیا جائے تو آپ کی نبوت کا ثبوت بڑے عجیب طریقے سے دنیا کے سامنے آتا ہے ۔

وہ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل یہود ونصاریٰ دونوں ایک نبی کی آمد کے منتظر تھے جس کا واضح ذکر ان کی کتابوں میں تھا۔حضور نے یہی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ مگر آپ کے مخاطب یہود ونصاریٰ نے آپ کا انکار کر دیا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کے بعد پوری عیسائی اور یہودی دنیا نے کسی آنے والے نبی کا انتظار کرنا چھوڑ دیا۔ ان کے مذہبی طبقات آج بھی اپنے اپنے مسیحا کے منتظر ہیں ۔ مگر اب وہ ایک نبی کا انتظار نہیں کرتے۔ کیا اس سے بڑا کوئی ثبوت ہو گا کہ حضور ہی وہ نبی ہیں جن کا وہ انتظار کر رہے تھے اور آپ کے آنے کے بعد ان کو یہ معلوم ہو گیا کہ اب کسی نبی نے نہیں آنا، اس لیے ان کا انتظار ختم ہو گیا۔ تاہم ہماری یہ بات اپنا ایک پس منظر رکھتی ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے ۔ آئیے اس پس منظر کو سمجھتے ہیں ۔

حضور اورحضرت ابراہیم سے شروع ہونے والی مذہبی روایت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو ایک نبی اور رسول کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ نبوت و رسالت کا دعویٰ معاشرے میں کھڑے ہوکر مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنمائی کرنے سے الگ ایک کام ہوتا ہے ۔ یہ اپنے آپ کو ہدایت کے خدائی نظام کے ایک جز کے طور پر پیش کرنے کا نام ہے۔ خاص طور پر جس دور میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ کیا، اس دور میں ہزار ہا برس سے جاری نبوت و رسالت کی ایک مدون ، مستقل اور مسلسل تاریخ وجود میں آ چکی تھی۔ یہ تاریخ سنی سنائی کہانیوں پر مشتمل نہ تھی بلکہ بعثت کے وقت ڈھائی ہزار برس سے دنیا میں ایک تسلسل کے ساتھ موجود تھی۔ یہ تسلسل اس وقت شروع ہوا جب عراق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ اپنی قوم کو دعوت حق پہنچانے کے بعد حضرت ابراہیم فلسطین میں مقیم ہوگئے۔ ان کی اولاد کا ایک حصہ فلسطین میں آباد ہوا۔ جبکہ دوسرے حصے کو یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس بسا دیا گیا۔عرب انھی کی اولاد تھے۔ ان کا آغاز بھی توحید خالص سے ہوا تھا ، مگر چونکہ ان میں کوئی نبی یا رسول نہیں آیا اس لیے رفتہ رفتہ ان میں شرک جڑ پکڑتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ڈھائی ہزار برس بعد اس قوم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت کیا۔

حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہ لوگ فلسطین سے مصر چلے گئے اور رفتہ رفتہ ایک پوری قوم بن گئے ۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں اس قوم کو فرعون سے نجات دی گئی اوردنیا کی امامت اور رہنمائی کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اس کے بعد پے در پے بنی اسرائیل میں نبی آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں ۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں یہود پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور ان کو ان کے منصب امامت سے معزول کر دیا گیا۔ حضرت عیسیٰ کے پیروکار نصاریٰ کہلائے اور ایک دوسری امت بن گئے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہ تین گروہ عرب میں موجود تھے۔ ان سب کے پیچھے ڈھائی ہزار برس کی مسلسل اور متواتر مذہبی تاریخ تھی۔ خاص کر یہود و نصاریٰ کے ہاں تو کتابوں اور نبیوں کا ایک مستقل سلسلہ جاری رہا تھا۔ وہ عربوں سے کہیں بڑھ کر یہ جانتے تھے کہ نبوت کیا ہوتی ہے ۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کی کتابوں میں ایک نبی کی پیش گوئی پوری صراحت کے ساتھ موجود تھی۔ وہ صدیوں سے اس نبی کے منتظر تھے ۔

نبی کے لیے پچھلی کتابوں کی تصدیق کی اہمیت اور ضرورت

یہی وہ صورتحال تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا۔ آپ کا اعلان نبوت کوئی سادہ معاملہ نہیں تھا۔ نبوت کی اس تاریخ کی موجودگی کی بنا پر آپ پر لازمی تھا کہ آپ خود کو ہدایت کے اس خدائی نظام اور نبوت و رسالت کی اس تاریخ کا حصہ ثابت کریں۔ اس بات کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ آج ایک شخص دعویٰ نبوت لے کر اٹھتا ہے تو کیا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ایسا دعویٰ کرنے والے شخص پر لازمی ہو گا کہ وہ اپنے بارے میں یہ ثابت کرے گا کہ وہ اسی نبوت و رسالت کے نظام کا حصہ ہے جو ہزاروں برس سے چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا فوراً دین اسلام اس کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجائے گا۔

ختم نبوت اور کسی نئے نبی پر ایمان سے قرآن کا خالی ہونا

اسلام کا بنیادی اور اصل ماخذ یعنی قرآن مجید یہ صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ سلسلہ نبوت پر مہر لگ چکی ہے۔ جس طرح کسی چیز پر مہر یا سِیل لگنے کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا اسی طرح اب نبوت کے سلسلہ میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید نے نہ صرف یہ منفی نوعیت کا بیان بالکل واضح طورپر دیا ہے بلکہ جگہ جگہ مثبت طور پر نجات کی شرائط کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان میں نبوت پر ایمان لازمی شامل ہے ۔ ان بیانات میں یہ تو واضح ہے کہ حضور کے ساتھ آپ سے پہلے نبیوں پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ آپ کے بعد کے کسی نبی پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ یا یہ کہ جب نبی آئے گا تو لوگوں کے لیے اس کا ماننا ضروری ہو گا۔ کسی ایک مقام پر صراحتاً تو کجا اشارتاً بھی کسی آنے والے نبی کا ذکر نہیں ہے۔ یہ تمام چیزیں اس بات کی جڑ کاٹ دیتی ہیں کہ حضور کے بعد کسی نبی کی کوئی گنجائش مانی جائے۔ ہاں ایک شخص اسلام کی روایت سے بالکل جدا ہوکر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو بات اس کی پھر بھی غلط ہی ہو گی لیکن کم از کم اس سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سے پھر گفتگو اس کی نبوت پر نہیں ہو گی بلکہ اس بات پر ہو گی کہ اسلام غلط کیسے ہو سکتا ہے اور وہ شخص ہزاروں برس کی نبوت کی تاریخ سے الگ ہوکر نبوت کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے ۔ مگر ایک شخص اگر قرآن پر ایمان رکھتا اور اس کو اللہ کی کتاب بھی سمجھتا ہو اورپھر بھی دعویٰ نبوت کرے، یہ بات کسی طور سے کوئی اخلاقی، علمی یا عقلی جواز باقی نہیں رکھتی۔

مصداق کا مفہوم

اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضور پوری قوت سے اپنے آپ کو اسی سلسلہ نبوت و رسالت کی ایک کڑ ی قرار دیتے ہیں جو حضرت آدم سے چلی آ رہی ہے ۔ آپ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو تورات وانجیل میں موجود ان خبروں کا مصداق قرار دیتے ہیں ، جن کے مطابق عربوں میں ایک نبی آنا تھا۔

یہاں خیال رہے کہ ہمارے ہاں لوگ مصداق کی اس پیش گوئی کا جو بکثرت قرآن میں آئی ہے یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ حضور پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتے ہیں ۔ مگر ان مقامات پر یہ اس کا مفہوم نہیں ہے ۔ سابقہ کتب کے آسمانی کتب ہونے کی تصدیق تو لاکھوں لوگ کرتے ہیں ۔ کیا وہ اس بنا پر نبی بن جاتے ہیں؟ کیا کوئی شخص اس تصدیق کو اپنی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ دراصل اس لفظ یعنی مصداق کا وہی مفہوم یہا ں مراد ہے جو سورہ سبا آیت 20 میں ابلیس کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ اس نے اولاد آدم کے بارے میں اللہ کے حضور ایک گمان ظاہر کیا تھا کہ ان کی اکثریت ابلیس کی پیروی کرے گی، آنے والے دنوں میں اس نے یہ گمان سچا ثابت کر دکھایا ( وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْْہِمْ إِبْلِیْسُ ظَنَّہُ )۔ یعنی مصداق کا مطلب یہ ہے کہ حضور کی بعثت نے پچھلے صحف سماوی کی پیش گوئیوں کو سچا ثابت کر دیا۔ یا آپ عین ان کے مطابق مبعوث ہوئے یا دوسرے الفاظ میں ان کا مصداق بن کر آئے ۔

چنانچہ انفرادی طور پر یہود و نصاریٰ میں سے متعدد لوگوں نے ایمان قبول کیا۔ حضور کے بعد مشرق وسطیٰ کے تمام یہود و نصاریٰ نے اسی بنیاد پر اسلام قبول کر لیا کہ انھوں نے آپ کے ذریعے سے ان ساری پیش گوئیوں کی تصدیق پالی تھی، جو ان کی کتابوں میں موجود تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کے اولین مخاطب یہود ونصاریٰ کی راہ میں ان کے تعصبات حائل ہوگئے ۔ مگر انھوں نے ایک دوسرے پہلو سے آپ کی رسالت کی تصدیق کر دی۔ نہ صرف انھوں نے بلکہ باقی مسیحی اور یہودی دنیا نے بھی۔ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہود ونصاریٰ نے اب کسی آنے والے نبی کا انتظار چھوڑ دیا ہے ۔

ان کی کتابوں میں آج تک ایک آنے والے نبی کا ذکر ہے ۔ اسی بنیاد پر حضور سے پہلے کے یہود ونصاریٰ ایک نبی کے منتظر تھے ۔ مگر حیرت انگیز طور پر یہود و نصاریٰ اب کسی نبی کے منتظر نہیں ہیں ۔ یہود کے ہاں ان کے مسیح اور نصاریٰ کے ہاں ان کے مسیح کی آمد کا تصور تو ہے ۔ مگر وہ اب کسی نبی کا انتظار نہیں کر رہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی پیش گوئی کے باوجود ان کی پوری تاریخ بھی اس بات سے خالی ہے کہ ان کے ہاں کسی شخص نے اس نبی کے ہونے کا دعویٰ کیا ہو جس کی پیش گوئی کی جا چکی ہے ۔

چنانچہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ثبوت ہے کہ آ پ سابقہ کتاب کی ہزار ہا برس کی تاریخ میں واحد ہستی ہیں جس نے ان کتابوں میں موجود نبی ہونے کا دعویٰ اور خود کو وہی نبی ثابت کر دیا اور ان پیش گوئیوں کا مصداق بن کر دکھایا جبکہ آپ کے سوا آج تک کسی کو یہ دعویٰ کرنے کی جرات بھی نہیں ہوئی۔

تورات وانجیل کے بیانات

گرچہ سابقہ کتب میں اس پہلو سے بہت تبدیلی کر دی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صریح ترین پیش گوئیوں کو بدل دیا گیا ہے ، تاہم بہت سی پیش گوئیاں ابھی بھی ان میں موجود ہیں ۔ اختصار کے پیش نظر ہم ذیل میں ایسی ہی ایک پیش گوئی تورات اور ایک انجیل سے نقل کر کے یہ بتائیں گے کہ ان کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ پہلے ہم تورات کی ایک اہم پیش گوئی کو لیتے ہیں ۔

خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری (یعنی موسیٰ علیہ السلام) کی مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ ۔ ۔ میں ان کے لیے ان کے ہی بھائیوں میں سے تیری (یعنی موسیٰ علیہ السلام) مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس کو حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ ۔ ۔ پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اس کے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خدواند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اس نبی نے وہ بات خود گستاخ بن کر کہی ہے تو اس سے خوف نہ کرنا۔[استثناباب 18:15-22]

اس مقام پر نہ صرف حضور کی واضح پیش گوئی کی گئی ہے بلکہ کسی جھوٹے نبی کی پہچان بھی بتادی گئی ہے۔ پہچان یہ ہے کہ نبی کاذب کی کوئی بات سچی ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس ہم تفصیل سے نبوت کی پچھلی دلیل میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جو پیش گوئیاں مشرکین اور یہود  و نصاریٰ کی مغلوبیت اور اپنے ماننے والوں کے غلبے کے حوالے سے کی تھیں وہ آپ کی زندگی ہی میں بعینہٖ پوری ہوگئیں ۔

اب ہم اس پیش گوئی میں موجود چند ایسی باتوں کی تفصیل بیان کریں گے جن کا مصداق سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نہیں ہو سکتا۔ پہلی یہ کہ آنے والے نبی کے بارے میں بنی اسرائیل کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ وہ نبی ان کے اندر سے نہیں اٹھے گا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے اٹھے گا۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق کے بھائی اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب کے تایا تھے ۔ گویا حضرت اسماعیل کی اولاد یعنی عرب حضرت یعقوب کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لیے بھائیوں کی حیثیت رکھتی تھی۔ دنیا میں ان کے سوا کوئی اور گروہ ان کے بھائی کہلانے کا مستحق نہیں۔ چنانچہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ یہود میں ان گنت نبی آئے لیکن عرب یا اسماعیلیوں میں سوائے حضور کے کوئی نبی نہیں آیا۔ اس لیے حضور ہی اس پیش گوئی کا واحد مصداق ہیں ۔

دوسری بات یہ کہی گئی کہ عرب ہونے کے باوجود وہ نبی ان یہود کے لیے بھی نبی ہو گا۔ اس بات کی اہمیت یہ ہے کہ انبیائے بنی اسرائیل عام طور پر اپنی قوم ہی میں نبوت کرتے تھے۔ جبکہ حضور اس پیش گوئی کے عین مطابق اپنی قوم عرب کے ساتھ یہود ونصاریٰ کی طرف بھی بھیجے گئے ۔

حضور اور حضرت موسیٰ

تیسری اور اہم ترین بات یہ بیان ہوئی کہ یہ نبی حضرت موسیٰ کی مانند ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی خصوصیات کیا تھیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی تھے ۔ ان کے علاوہ یہود میں کبھی بھی کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آیا۔ حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ بھی نہیں۔ یہ صرف حضور تھے جو حضرت موسیٰ کی مانند ایک مستقل شریعت لے کر آئے۔ آپ کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے سامنے آپ کی مخاطب قبطی قوم کی کافر لیڈر شپ یعنی فرعون اور اس کے ساتھی بطور سزا مارے گئے ۔ ٹھیک یہی حضور کے ساتھ ہوا کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کی قوم کی کافر لیڈر شپ جنگ بدر میں ماری گئی۔ آپ کا تیسرا وصف یہ تھا کہ آپ کی پوری قوم بنی اسرائیل آپ پر ایمان لے آئی۔ ٹھیک اسی طرح حضور پر بھی آخر کار آپ کی ساری قوم یعنی عرب ایمان لے آئے۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے مخاطب وہ لوگ جو آپ کی قوم کے نہیں تھے، یعنی قبطی وہ آپ پر ایمان نہیں لائے ۔ حضور کے مخاطبین میں سے بھی وہ لوگ جو آپ کی قوم یعنی عرب سے نہیں تھے یعنی یہود و نصاریٰ وہ آپ پر ایمان نہیں لائے۔ پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے ماننے والوں کے ہمراہ دوسرے علاقے میں ہجرت کی اور یہی معاملہ حضور کا رہا۔ چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ دونوں انبیا پر ایسی کتابیں اتریں جنھوں نے پچھلی ساری شرائع اور کتابوں کو منسوخ کر دیا اور ایک نئی تاریخ کا آغاز کیا۔ یعنی تورات اور قرآن۔ ان تمام مشترکہ اوصاف کی بنیاد پر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد تاریخ میں حضور کے سوا کوئی نبی نہیں آیا جسے ان جیسا کہا جا سکے ۔ چنانچہ اسی اہمیت کی بنا پر قرآن نے بھی سورہ مزمل میں اسی پیش گوئی کا حوالہ دیا ہے ۔

کلام الٰہی

اس پیش گوئی میں اگلی اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عام انبیا پر وحی اترتی تھی جو وہ اپنے الفاظ میں قوم تک پہنچاتے تھے ۔ مگر قرآن میں وحی کے ساتھ الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ یہ اعزاز صرف قرآن کے حصے میں آیا ہے کہ یہ صرف وحی نہیں بلکہ باعتبار الفاظ بھی کلام رب ہے ۔ یہی اس بات کا مطلب ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ پیش گوئی کی اگلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ وہ نبی میری باتوں کو میرا نام لے کر پیش کرے گا۔ یہ اشارہ ہے قرآن کے شروع میں لکھی ہوئی ایک مستقل آیت یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کی طرف۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ کلام اللہ کی سند اور اس کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے جو رحمن بھی ہے اور رحیم بھی۔ خیال رہے کہ یہی وہ دو صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہود ونصاریٰ میں بہت عام تھیں۔ پیش گوئی کی آخری بات یہ ہے کہ جو کوئی میری ان باتوں کو جو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صرف دعوت دے کر رخصت نہیں ہو گا بلکہ یہود ونصاریٰ میں سے جو کوئی اس کی بات نہیں مانے گا حضور اس کے خلاف گواہی دیں گے اور پھر اسی بنیاد پر دنیا وآخرت میں ان کی گرفت ہوجائے گی۔ چنانچہ عرب کے یہود ونصاریٰ پر اسی گواہی یا حساب کی بنا پر ذلت اور جزیے کے عذاب کو بطور سزا نافذ کیا گیا جبکہ آخرت کی پکڑ اس کے علاوہ ہے ۔

Posted in مضامینِ قرآن | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *