مطالعہ اور ذہنی صحت (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

ہمارے ہاں مطالعے کا رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ جو کچھ مطالعہ کیا جاتا ہے وہ زیادہ تر اخبارات پڑھنے اور سوشل میڈیا پر آنے والی مختصر تحریروں تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ بیشتر لوگ اب ٹی وی دیکھنے یا یوٹیوب وغیرہ کی وڈیو دیکھنے ہی کو عمومی معلومات کے حصول کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ مطالعے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ سوشل میڈیا یا الیکٹرونک میڈیا سے جو معلومات ملتی ہیں وہ عام طور پر انفارمیشن بمباٹمنٹ کی شکل میں مسلسل برستی رہتی ہیں۔ جس کے بعد وہ یادداشت اور شعور کا حصہ نہیں بن پاتیں۔ ایک چیز ذہن میں بیٹھتی بھی نہیں ہے کہ دوسری چیز آ کر اسے نکال دیتی ہے۔ جبکہ کتاب کا مطالعہ معلومات کا ایک تسلسل ہوتا ہے۔ کتاب سے پڑھی ہوئی چیزیں پوری نہ سہی کچھ نہ کچھ یاد ضرور رہ جاتی ہیں۔ مطالعہ کے اور بھی دیگر کئی فوائد ہیں مگر اس کا ایک اہم مادی فائدہ ذہنی صحت کے پہلو سے ہے۔

یہ معلوم بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی یادداشت کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ابتداء میں انسان کا نئی چیزیں یاد کرنے اور یاد رکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ انسان جتنی تیزی اور آسانی سے بچپن میں چیزیں یاد کر لیتے ہیں جوانی میں اس طرح نہیں کرپاتے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ بہت غیر محسوس طریقے پر شروع ہوتا ہے۔ اس میں انسان یاد رکھی ہوئی اور معلوم چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ چھوٹی چھوٹی اور روزمرہ کی باتیں یاد رکھنا بھی کٹھن ہوجاتا ہے۔

مطالعہ اس مسئلے کے حل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مطالعہ کا عمل ورزش کی طرح کام کرتا ہے۔ جس طرح ورزش کرنے کی عادت انسان کو جسمانی طور پر فعال رکھتی ہے، اسی طرح مطالعہ کرنے کا عمل انسان کے دماغ کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ مطالعہ میں ہمیشہ نئی باتیں سیکھی جاتی ہیں۔ نئی معلومات ملتی ہیں۔ انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ انہیں سمجھتا ہے۔ پھرکتاب کا اصول یہ ہوتا ہے کہ آگے پڑھنے کے لیے پیچھے کی بات یاد رکھنا پڑتی ہے۔ یہ مشقت انسان کی ذہنی صلاحیت کو مضبوط بنانا شروع کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ایک دوسرے پہلو سے مطالعہ ذہن کو آرام و راحت بھی دیتا ہے۔مطالعہ کرنا ہمیشہ انسان کو نئی چیزوں اور نئی دنیا سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ ذہنی دریافت ایک نوعیت کی ذہنی سرشاری، خوشی اور سرور کا باعث بنتی ہے۔ اس سے انسان دماغی طور پر تروتازہ اور فریش محسوس کرتا ہے۔ یہ چیز بھی ذہنی صلاحیت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔

اس ضمن کی ایک آخری بات یہ ہوتی ہے کہ مطالعہ کرنا ابتدا میں بہرحال ایک مشقت کا کام ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ پہلے ان چیزوں کا مطالعہ کرنے کی عادت ڈالی جائے جن کا مطالعہ باعث دلچسپی ہو۔ یعنی کہانی یا ناول وغیرہ لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ اسی طرح مختصر مگر موثر تحریریں بھی مطالعہ کی عادت ڈالنے میں بہت مفید ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ جب مطالعہ کی عادت ہوجاتی ہے تو پھر انسان اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ پھر انسان ہر روز اچھی کتابوں یا تحریروں کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ عمل انسان کی علمی اور ذہنی استعداد میں مسلسل اضافے کا سبب بنتا ہے۔

اس ضمن کی آخری بات یہ ہے کہ مطالعہ سیکھنے کا ایک عمل ہے۔ سیکھنے کا عمل انسان کی ترقی کا ایک بنیادی سبب ہے۔ جو لوگ زندگی میں سیکھتے رہتے ہیں وہی دنیا میں مسلسل ترقی کرتے ہیں۔ جو لوگ سیکھنا بند کر دیتے ہیں وہ اپنی ترقی کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔

ایسے میں ہم میں سے ہر شخص کی یہ عادت ہونا چاہیے کہ وہ مطالعہ کو معمول بنالے۔ ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بھی اس کی تلقین کرے۔ ان کو اچھی کتابیں خرید کر دے اور ان میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرے۔ اس سے وہ تعلیمی عمل میں اپنے ساتھیوں سے بہت آگے نکل جائیں گے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, اخلاقیات | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *