معرفت کیا ہوتی ہے ؟ ( Abu Yahya ابویحییٰ )

’’معرفت کیا ہوتی ہے ؟‘‘، آج عارف کی مجلس میں گفتگو کا آغاز ایک صاحب کے سوال سے ہوا تھا۔ جواب میں عارف کی دلپذیر آواز بلند ہوئی۔

’’معرفت علم کا کمال ہے ۔ علم کا سفر جب شروع ہوتا ہے تو شک، تردید، اضطراب، تصحیح کی منازل سے گزرتا ہے ۔ پھر علم احساس کی وادی میں قدم رکھتا ہے اور آخر کار یقین کے اس پڑ اؤ پر ڈیرہ ڈالتا ہے ، جسے معرفت کہتے ہیں ۔‘‘

’’کسی مثال سے سمجھائیں ؟‘‘، یہ کہتے ہوئے ان صاحب کے چہرے پر سوالیہ نشان تھا۔

’’اللہ تعالیٰ کی صفت الوھاب کا مطلب کیا ہے ؟‘‘، عارف کے سوال پر جواب آیا:

’’دینے والا، عطا کرنے والا۔‘‘

’’ درست فرمایا آپ نے ۔ یہ علم ہے ۔ مگر جس وقت یہ علم اس احساس میں ڈھل جائے کہ پروردگار میری ہر ضرورت کی چیز دے سکتا ہے ۔ اس یقین میں ڈھل جائے کہ اس لمحے بھی میرا رب اپنی دست عطا دراز کیے کسی خالی جھولی کا منتظر ہے ۔ کیوں نہ میں ہی اپنی جھولی پھیلائے اس کی بارگاہ میں پہنچ جاؤں ۔اور اس کے بعد آپ کا وجود سراپا دعا بن جائے ۔ تو پھر یہ علم معرفت میں تبدیل ہو گیا۔

اس لمحے میں آپ کے دل کی آنکھیں آپ کو یہ منظر دکھا دیں گی کہ ہر سوالی جھولی بھر کر چلا گیا۔ سخی داتا کے خزانے ختم نہیں ہوئے ۔ مانگنے والے ختم ہوگئے ، مگر وہ ابھی بھی پکارے جا رہا ہے کہ ہے کوئی سوالی۔ یہ پکار سن کر آپ کو حوصلہ ہوا اور آپ بھی دست طلب دراز کیے دربار اقدس میں آ گئے ۔ اس نے آپ پر نگاہ تبسم فرمائی اور خالی جھول بھردی۔ بس یہی احساس معرفت ہے ۔ یہی یقین معرفت ہے ۔‘‘، عارف کی صدا تھم گئی، معرفت کا ایک اور دریچہ سننے والوں پر کھول گئی۔

 ______***______

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to معرفت کیا ہوتی ہے ؟ ( Abu Yahya ابویحییٰ )

  1. Haroon Zafar says:

    I think this is really an article i was waiting for ,unconsciously.This is true definition of Knowing (Ma,rifat).

  2. sajjal says:

    mashallah.jazakallah.ilm ke bhot kobsorat wzahat pesh ke ha.

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair

  4. ابو حبان عمار says:

    جزاكم الله خيرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *