مغرب کیوں بالادست ہے؟ (Zahida Hina زاہدہ حنا)

اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک آتے آتے دنیا کی سیاست یکسر بدل گئی ہے۔ اب سے تین صدیاں پہلے مغرب میں ابھرنے والی عسکری طاقتیں افریقہ، امریکا اور براعظم ایشیا پر اپنی فوجوں اور اپنے بحری بیڑوں کی طاقت کے ذریعے قبضہ کر رہی تھیں، کہیں تجارت کے نام پر سلطنت چھینی جا رہی تھی اور کہیں آزاد افریقی قبائل کے نوجوانوں کو جدید اسلحے کے زور پر غلام بنایا جا رہا تھا اور انہیں بحری جہازوں میں بھر کر امریکا کے ساحلوں پر اتارا جا رہا تھا۔ یہی وہ غلام تھے جنہوں نے گھنے جنگلات کاٹ کر سڑ کیں بنائیں ، دشوار گزار علاقوں میں ریل کی پٹریاں بچھائیں ، تمباکو اور کپاس کی کاشت کی، کوئلے اور ہیرے کی کانوں میں غیر انسانی حالات میں کام کیا۔ ان کی ہڈیوں کی کھاد پر برطانیہ ، بلجیم اور فرانس کی عظمت کے محل تعمیر ہوئے۔ ان استعماری قوتوں کے چنگل سے نجات سب سے پہلے امریکا نے حاصل کی جو ایک برطانوی نو آبادی تھا۔

مئی 2016ء کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے ۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر یہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔ آج سے 159 برس پہلے اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو میرٹھ سے اس عظیم واقعے کا آغاز ہوا تھا جس کی دھمک برصغیر کے طول و عرض میں محسوس کی گئی اور جسے آج بھی ہم 1857ء کی جنگ آزادی کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔

1857ء کی جنگ آزادی کے بارے میں لکھنا ہماری مجبوری ہے ۔ ہم میں سے بہت سے وہ ہیں کہ جن کے خاندانوں نے حسب استطاعت اور حسب توفیق خون کے نذرانے دئیے جس پر ہم ایسے ہزاروں ، لاکھوں افراد اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہیں ۔ اپنے اپنے شہیدوں کا نام غرور سے لینے کے ساتھ ہی اگر ہم تاریخ کے طالب علم ہیں تو یہ بھی ہماری مجبوری ہے کہ اس عظیم واقعہ کو ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں دیکھیں اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہندوستان کا چند صدیوں پر پھیلا ہوا ماضی ہمیں دل گرفتہ کرتا ہے ۔ حال تشویش میں مبتلا کر دیتا ہے او ر مستقبل کے بارے میں بے شمار وسوسے اٹھ کھڑ ے ہوتے ہیں ۔

ہندوستان پر برطانوی تسلط کے بارے میں ہمارے یہاں عموماً ایک جذباتی رویہ پایا جاتا ہے ۔ ہم انگریزوں کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے جو تاجر کے روپ میں ہمارے ساحلوں پر اترے، جنہوں نے ہمارے بادشاہوں سے تجارتی مراعات حاصل کیں اور پھر دیکھتے دیکھتے ہمارے آقا بن بیٹھے۔ یہ تمام باتیں حرف بہ حرف درست ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اور بھی بہت سے حقائق ہیں اور جب تک تمام باتوں کا معروضی انداز میں جائزہ نہ لیا جائے اس وقت تک ہم اپنے حال اور مستقبل کو مستحکم بنیادوں پر غیروں کے تسلط سے آزاد دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔

ہم یہ سوچنے کی زحمت ذرا کم ہی کرتے ہیں کہ 1857ء میں مغلیہ سلطنت کا سقوط آخر کیوں کر ممکن ہو سکا؟ ہم اس پر بھی توجہ نہیں دیتے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے ہزاروں میل دور بسنے والی ایک غیر قوم کے مٹھی بھر افراد کو وہ طاقت بخش دی کہ انہوں نے ہمیں ہماری ہی سر زمین پر شکست دے دی۔ ہم اس ضمن میں اپنے حکمرانوں کی سیاسی غلطیوں، فوجی کمزوریوں اور انتظامی ناکامیوں پر غور کرنے کے بجائے ان کے شاندار دربار، ان کے شاہانہ جلوس اور جنون کی حد تک پہنچی ہوئی ان کی شاہ خرچیوں کا ذکر نہایت فخر سے کرتے ہیں ۔

معروضی حقیقت یہ ہے کہ 1857ء میں دلی کے سقوط کا آغاز، اس سانحے کے رونما ہونے سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔ مغلوں کے زوال کی تمام ذمہ داری عموماً مرہٹوں اور انگریزوں پر ڈال دی جاتی ہے لیکن ایسا کرنے والے اس حقیقت سے آنکھ بند کر لیتے ہیں کہ اورنگزیب نے جنوب کی مسلمان ریاستوں پر مسلسل لشکر کشی کے شوق میں مغل خزانہ خالی کر دیا تھا۔ اس کے بعد زوال آمادہ مغل سلطنت کو اپنی بنیادوں سے ہلا دینے میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ دونوں مسلمان تھے ۔

1757ء میں پلاسی کے مقام پر سراج الدولہ کو جو شکست ہوئی اور برطانوی سامراج جس طور پر مستحکم ہوا، اس کی تمام ذمہ داری میرجعفر کی غداری کے سر ڈال کر ہم اپنے دل کو تسکین دیتے ہیں لیکن اس تاریخی حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اس شکست کے صرف سات برس بعد 1764 ء میں بکسر کے مقام پر نواب بنگال میر قاسم ، نواب شجاع الدولہ اور شہنشاہ ہند شاہ عالم ثانی کے لشکر جرار اور ان کی متحدہ قوتوں کو انگریزوں نے مٹھی بھر برطانوی افسروں اور چند ہزار کرائے کے سپاہیوں کی مدد سے شکست فاش دے کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہندوستانی سلطنت کے دن گنے جا چکے اور ہمارے پاس انگریزوں کے مقابلے کا کوئی بھی جرنیل نہیں ۔

1857ء کی جنگ آزادی کی مکمل ناکامی کی وجوہ جاننے کے لیے ہمیں ان عمومی رویوں کا جائزہ لینا ہو گا جو صدیوں سے ہمارے مشرقی سماج کا روزمرہ ہیں ۔ اس بارے میں آہ و زاری کرتے ہوئے ہمیں اس معاملے کو اس کے آغاز سے دیکھنا چاہئے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی آزادی اور خود مختاری کو کن عیش کوشیوں کے عوض غیروں کے ہاتھوں میں گروی رکھتے آئے ہیں ۔

تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان جس کے مسلمانوں اور ہندوؤں، دونوں ہی نے اپنی عورتوں کو پس دیوار رکھا، اسی ہندوستان کی قسمت کے بنیادی فیصلے دو عورتوں نے کئے۔ برصغیر سے تجارت کا فرمان ملکہ الزبتھ اول کے نوک قلم سے نکلا اور اس کی غلامی پر مہر تصدیق ملکہ وکٹوریہ نے ثبت کی۔ ملکہ الزبتھ اول نے 31 دسمبر 1599ء کو لندن کے چند تاجروں کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے یہ اجازت دی کہ وہ دی آٹریبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے ایک تجارتی ادارہ قائم کر سکتے ہیں اور ہندوستان سے تجارت کا آغاز کر سکتے ہیں ۔

ہم مغل ہندوستان کے جاہ و جلال اور شان و شکوہ پر نظر ڈالتے ہوئے جب دوسری اقوام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وقائع نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ 1599ء سے ایک سو سات برس پہلے 1492ء میں نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہو چکا تھا اور تمام مغربی اقوام شاندار مہمات میں مصروف تھیں۔ ان مہمات کا مقصد نئی سر زمینوں پر اپنا فوجی تسلط قائم کرنا اور سمندری راستوں کے ذریعے ساری دنیا سے تجارت کرنا تھا۔ ایک طرف ان کے تجارتی بحری بیڑے دنیا کے سات سمندروں کی سیاحی کر رہے تھے تو دوسری طرف ان کے بڑے بڑے شہروں میں بینک اور چیمبر آف کامرس قائم ہو رہے تھے ۔ مارسیلز میں پہلے چیمبر آف کامرس کی داغ بیل پڑتی ہے ۔ 1600 ء میں ایمسٹر ڈم بینک قائم ہوتا ہے ۔1600ء میں ہی ستر ہزار پونڈ کے خطیر سرمائے سے ایسٹ انڈیا کمپنی وجود میں آتی ہے۔ یورپ میں بینکاری نظام اس تیزی سے ترقی کرتا ہے کہ 1608ء میں ’’چیک‘‘ سے لین دین رائج ہوتا ہے اور 1610ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی پہلی مرتبہ ’’شیئر‘‘(حصص) کا اجراء کرتی ہے ۔

افراد مہم جوئی پر نکلتے ہیں اور لندن سے جاپان جا پہنچتے ہیں ۔1600 ء میں ایک انگریز انجینئر اور جہاز راں ولیم ایڈمز ٹوکیو (پرانا نام یدو) پہنچتا ہے ۔ اس وقت کے شہنشاہ جاپان کے دربار میں صنعت جہاز سازی کا مشیر و نگراں مقرر ہوتا ہے اور جاپانیوں کے لیے ترقی کی راہیں کھولتا ہے۔ ایجادات کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور 1600ء میں ہی ایک طرف پرتگیزی ٹیلی سکوپ ایجاد کرتے ہیں اور دوسری طرف جرمن میجک لینٹرن۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں سارا یورپ ایک ہماہمی، ایک سرشاری اور مہم جوئی میں مبتلا ہے ۔

اب اگر ہم اسی زمانے میں اپنی تاریخ کی ورق گردانی کریں تو شہنشاہ اکبر ہندوستان سے باہر اپنے تجارتی جہاز بھیجنے کی بجائے اپنے نافرمان ولی عہد شہزادہ سلیم سے لڑائیاں لڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ ادھر جرمنی میں اور مغرب کے دوسرے ملکوں میں روزنامے اشاعت پذیر ہورہے ہیں، عوامی شعور کو بیدار کر رہے ہیں ۔ سائنس اور کلیسا کے درمیان ہونے والی لڑائی میں اخبار سائنس اور خرد افروزی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یورپ میں دانشوروں اور سائنسدانوں کی سرپرستی ہو رہی ہے اور ہمارے یہاں 1601ء میں شہنشاہ اکبر کا اکلوتا بیٹا اور چہیتا ولی عہد، اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم اور دانشور، شیخ ابوالفضل کو قتل کراتا ہے، باپ کی ناراضگی مول لیتا ہے اور پھر اپنی توزک میں اس قتل پر فخر کا اظہار کرتا ہے ۔ 1610ء میں برصغیر کا شہنشاہ جہانگیر نیل گائے اور شیر کے شکار میں مصروف تھا اور عین اسی وقت ہندوستان کی سر زمین پر قدم جمانے کے لیے اور تجارتی کوٹھیاں قائم کرنے کے لیے انگریزوں اور پرتگیزی فوجوں اور بحریہ میں لڑائیاں ہو رہی تھیں اور مغل شہنشاہ کو اس کی پروا نہ تھی کہ اس کی مملکت میں دوسری قوموں کے فوجی کیا کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے دست و گریباں کیوں ہیں ؟

پلاسی، بکسر اور دلی کے سقوط پر زنجیر زنی کرتے ہوئے اور 1757ء ، 1764ء سے 1857ء تک سو برس پر مشتمل ہزیمت کی الم انگیز تاریخ کے اسباب و علل کی بات کرتے ہوئے ہم یہ کیسے بھول جائیں کہ ہمارے مہابلی اکبر کے دربار میں جوزسٹ پادریوں نے جب تحفے کے طور پر کئی زبانوں پر مشتمل متحرک ٹائپ پر چھپا ہوا بائبل کا نسخہ مہابلی کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا لیکن چھپائی کے اس طریقے کے بارے میں ان کے اندر تجسس کی کوئی لہر نہ اٹھی۔ انہیں اس کا گمان بھی نہ گزرا کہ یہ جو لوہے کا بدصورت انگڑ کھنگڑ ہے جسے یہ نصرانی چھاپہ خانہ کہتے ہیں، یہی یورپ کے عوام کی تقدیر بدلنے والا ہے اور کوئی دن جاتا ہے جب ان دور دراز سرد ملکوں کے کسان، موچی ، بڑ ھئی اور گھوڑوں کے سموں میں نعل ٹھونکنے والوں کی نسلیں علم کے چشمے سے سیراب ہوں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے جاہ و جلال اور شان و اقبال کی دنیا سر کے بل کھڑی ہو جائے گی۔

ہم مغلوں سے کہیں رفیع الشان سلطنت عثمانیہ کو یاد کیوں نہ کریں کہ جہاں فقیہوں نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ فرنگی چھاپہ خانے کے ذریعے بہ زبان عربی کوئی کتاب شائع نہیں ہو گی۔ اس حکم کی 1483ء سے 1729ء تک حکمرانی رہی۔ چھاپہ خانہ غیر اسلامی تھا، کفار کا بنایا ہوا تھا اور اس سے عربی کے مقدس الفاظ آلودہ نہیں کیے جا سکتے تھے ۔ اس فتویٰ کی خلاف ورزی کی سزا’موت‘ تھی۔ اس وقت مسلم دنیا میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ جرمنوں کا بنایا ہوا متحرک چھاپہ خانہ مسلم دنیا کے علمی منظر نامے کو یکسر بدل سکتا ہے ۔ تعلیم کو عوام میں عام کر سکتا ہے ۔

ہمارے معاملات و مسائل کچھ اور تھے ۔ 1611ء میں جب شہنشاہ جہانگیر اپنی توزک میں ایک دن کے اندر 330 مچھلیوں کے شکار کا اندراج کر رہا تھا اور ایک سائیس اور دو کہاروں کے سامنے آ جانے پر نیل گائے کے بھڑک کربھاگ جانے کی سزا میں سائیس کو قتل کروا رہا تھا، عین اسی سال انگلستان میں پارلیمنٹ اور شاہ جیمز اول کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی ہو رہی تھی۔

برصغیر کے حکمران اور امراء اپنی دولت، شان و شوکت کے مظاہروں اور قصیدہ خواں شعراء پر لٹا رہے تھے جبکہ یورپ کے امراء سائنسدانوں، نئے بحری راستے تلاش کرنے والے مہم جو جہازرانوں اور عالموں کی سرپرستی کر رہے تھے ۔ غرض 1600ء سے 1857ء تک واقعات و معاملات کا ایک ہجوم ہے اور جب ہم ہندوستان کے معاملات کا موازنہ اس زمانے کے انگلستان سے کرتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے صناع، کاریگر، معمار، نجار اور ہنر کار انگلستان کے ہنروروں سے کم نہ تھے لیکن مسئلہ ان کی سرپرستی اور درست سمت میں ان کی رہنمائی کا تھا۔ ہمارے معمار ایک شہنشاہ کے اشارۂ ابرو پر سترھویں صدی میں ’’تاج محل‘‘ جیسا شاہکار اس کی ذاتی تسکین کے لیے تعمیر کر رہے تھے اور مغرب کے معمار تیرھویں اور چودھویں صدی میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ ان بیشتر کالجوں کی تعمیر مکمل کر چکے تھے جن میں داخلہ ملنے کے خواب ہمارا ذہین نوجوان آج بھی دیکھتا ہے گویا مسئلہ ترجیحات کا تھا، ہمارے شہنشاہ اپنے مقبرے یا محلات تعمیر کراتے تھے ۔ ان کے بادشاہ محلات کے ساتھ تعلیمی ادارے ، سائنسی تجربہ گاہیں ، ہسپتال اور کتب خانوں کی تعمیر پر توجہ دیتے تھے ۔

انگریزوں نے برصغیر کی سرزمین پر قدم رکھنے سے لے کر 1857 ء میں لال قلعے پر اپنا پرچم لہرانے تک ہر آن ہمیں اس بات کا احساس دلایا کہ ان کی بحری بالادستی نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں بے پناہ معاونت کی اور یہ بھی کہ آلات حرب اور دفاعی سائنس میں ان کا اور ہمارا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ان کے فوجی اور سول افسران قواعد و ضوابط کے مکمل طور پر پابند ہوتے اور یہی ڈسپلن وہ اپنی دیسی فوج کو بھی تعلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 1757ء 1764ء اور 1857ء میں جب بھی ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی غیر منظم فوج، کرائے کے منظم اور تربیت یافتہ دیسی فوجیوں کے سامنے آئی تو ٹھہر نہ سکی۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں انگلستان جس صنعتی انقلاب سے دوچار ہوا اور وہاں علم و دانش اور سائنس کا جو ابھار ہوا، اس کے سبب اس کے جرنیلوں کی مہمات، اس کے سائنس دانوں کی ایجادات کے سامنے گرد ہوگئیں۔ نوبل انعام جس کا اجراء 1901ء میں ہوا اسے حاصل کرنے والے 10 سائنسدان اور 9 ادیب 1857ء سے کئی برس پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ ان سے قطع نظر 1857ء کے آس پاس سائنسدانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جو تاج برطانیہ اور انگریز امراء کی سرپرستی میں انگلستان کے لیے ہر گھنٹہ گھڑی کوئی نیا کارنامہ انجام دے رہی تھی۔ انگریزوں کے اندر جستجو کا جذبہ اتنا فراواں تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک معمولی افسر کی بیوی فینی پارکس اپنے شوہر کے ساتھ ہندوستان آئی تو وہ ہندوستان کے طول و عرض میں گھومتی پھری۔ کہیں وہ پہاڑوں کی بلندی ناپ رہی تھی اور کہیں دریاؤں کی گہرائی۔ اس نے ہندوستانی (اردو) سیکھی، کلکتہ ، الٰہ آباد اور دلی کی سیر کی۔ ہندوستانی سماج کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا۔ قنوج میں قحط پڑا تو کمپنی کے افسران کی سنگ دلی دیکھی اور لکھی۔ یہ دیکھا کہ انگریز افسران مسلمانوں اور ہندوؤں کے رسم و رواج کو کس طرح حقیر جانتے ہیں۔ وہ ’زنانہ‘ کا احوال لکھتی ہے اور یہ بھی کہ برطانوی قوانین ہندوستان کی معاشی اور سماجی زندگی کو کس طرح تہ و بالا کر رہے تھے۔ 2 جلدوں پر مشتمل اس کی کتاب انیسویں صدی کے ہندوستان پر حوالے کی اہم کتاب ہے ۔

اٹھارویں صدی میں ہم جب تخت نشینی کی جنگیں لڑ رہے تھے ، ہمارے بادشاہ کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائی جا رہی تھیں اور سماج میں نراج پھیلا ہوا تھا، ایسے میں مغرب نشاۃ الثانیہ، (14ویں صدی) اصلاح مذہب (17ویں صدی) اور انقلاب (18ویں صدی) کے مرحلوں سے گزر رہا تھا۔ شاہ جہاں زچگی میں جان سے گزر جانے والی اپنی چہیتی بیوی کے غم میں کروڑوں روپے سے تاج محل تعمیر کروا رہا تھا جبکہ ٹھیک اسی زمانے میں سوئیڈن کا بادشاہ اڈولف گستاؤ ثانی(1594-1632ء) زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی ملکہ کی یاد میں سوئیڈن میں مڈویفری کے نظام کا جال بچھا رہا تھا تا کہ آئندہ کوئی عورت ماں بنتے ہوئے جان سے نہ گزرجائے ۔

برطانیہ جو 1857ء کے بعد ہندوستان کو اپنی نوآبادیات میں شامل کر چکا تھا، اس کی ترجیحات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ہندوستان میں تعلیمی ادارے ، اسپتال، ڈاک اور تار کا نظام ، آب پاشی کے لیے نہروں کا اور لوگوں کو سفر کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سڑکوں اور ریل کا جال پھیلا رہا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران سڑ کوں اور ریلوں کا یہ نظام اتحادی فوجوں کی نقل و حرکت میں کتنا کام آیا، اس کی تفصیل ان دو عظیم جنگوں کی تاریخ میں درج ہے ۔

ان تمام حقائق پر نظر ڈالی جائے تو اپنے شہیدوں کے لیے گریہ ناک ہونے کے باوجود، سمجھ میں آتا ہے کہ 1857ء میں جو کچھ ہوا، اسے ہونا ہی چاہیے تھا۔ ہم کسی مرحلے پر انگریز کی ذہانت اور ذکاوت کے مقابل نہ آ سکے ۔ نہ ہمارے اندر قوم پرستی کا وہ شدید جذبہ تھا جو ہر انگریز کے سینے میں موجزن تھا۔ ہمارے اندر قوم پرستی کے جذبے کے فقدان کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عوام سیاسی شعور سے بے بہرہ تھے اور جب کسی ملک کے باشندوں میں سیاسی شعور نہ ہو تو ان سے منظم انداز میں کسی انقلاب کے برپا کرنے کی توقع عبث ہے ۔1757ء یا 1857ء کے حوالے سے جب ہم اپنے آج کے معاملات پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم نے نو آبادیاتی تسلط کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ ہماری آپس کی رنجشیں، چش مکیں، ذاتی ہوا و ہوس، خواص میں سیاسی شعور اور قوم پرستی کا فقدان ہمیں ایک بار پھر اغیار کا دست نگر بنانے کے درپے ہے۔ پہلے وہ ہمارے قلعوں پر اپنے پرچم لہراتے تھے ، اب ہماری معیشت اور اقتصادیات کی شہ رگ میں ان کے دانت اترے ہوئے ہیں ۔ پہلے ہمارے کسان انہیں لگان ادا کرتے تھے ۔ ا ب ہمارے نوجوان انہیں اپنی ذہانتوں کا خراج ادا کرتے ہیں ۔

اکیسیویں صدی کی دوسری دہائی میں مغربی سائنسدان زیر زمین بگ بینگ کا تجربہ کر رہے ہیں ۔ ان کے خلائی جہاز مریخ پر جمے ہوئے پانی کی خبر لا رہے ہیں۔ ان کا اس وقت کا سب سے بڑا سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ انسانوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ کرۂ ارض عنقریب رہائش کے قابل نہیں رہے گا اس لیے نئی بستیاں ڈھونڈو جہاں انسانی آبادیاں بسائی جا سکیں لیکن اسے کیا کہئے کہ ہمارے یہاں آج بھی رمضان اور عید کا چاند جس طرح دیکھا اور دکھایا جاتا ہے اس پر بقول ابن انشا ہمارا یہ عالم ہوتا ہے کہ:

ہم چپ رہے ، ہم ہنس دئیے ، منظور تھا پردہ ترا

ایسے میں مغرب کیوں بالا دست نہ ہو؟ ہم پدرم سلطان بود کا آوازہ بلند کرتے رہیں اور نصر من اللہ و فتح قریب کا ورد کرتے ہوئے یہ فرض کریں کہ ہماری ایک پھونک سے تمام کے تمام یہود و نصاریٰ پرکاہ کی طرح ہوا میں اڑ جائیں گے ، تو پھر وہی ہو گا جو ہو رہا ہے ۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *