مقام لذت مقام اذیت ( Abu Yahya ابویحییٰ )

Download PDF

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسانوں کے ساتھ فضل و کرم کا عجیب معاملہ کر رکھا ہے۔ یہاں انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام ہی نہیں کیا گیا بلکہ ان ضروریات میں لذت کا ایسا خزانہ رکھ دیا گیا ہے جس کے لمس سے کوئی بھی دوسری مخلوق ناآشنا ہے ۔

مثال کے طور پر انسانوں کی غذا کو لے لیجیے۔ غذا زندگی برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہے۔ یہ ضرورت دیگر جانداروں کی طرح بہت سادہ انداز میں بھی پوری کی جا سکتی تھی۔ مگر انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے ذوق لذت کی تسکین کے لیے دنیا میں انواع و اقسام کے کھانے ، ذائقے اور مشروبات رکھ دیے گئے ہیں۔ کھٹے، میٹھے، نمکین، مصالحہ دار ان لذیذ کھانوں کو انسان اپنے منہ کے ذریعے سے پیٹ تک پہنچا کر توانائی کا خزانہ حاصل کرتا ہے ۔ اس عمل میں زبان جو ذائقہ محسوس کرتی ہے اور ذہن اس سے جس طرح لذت اٹھاتا ہے وہ بلاشبہ ایک معجزاتی عمل ہے ۔

لذتِ کام و دہن کی یہ دنیا ایک عذاب میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کی سادہ ترین مثال یہ ہے کہ جب کسی شخص کے منہ میں چھالے پڑ جائیں ، السریشن سے منہ کے اندر کی جلد خراب ہوجائے، گلے میں تکلیف ہوجائے یا خدانخواستہ منہ یا گلے کا کینسر ہوجائے تو یہی کھانا منہ میں رکھنا اور گلے سے اتارنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسے میں ایک لقمہ اور ایک قطرہ آب منہ سے نیچے اتارنا ایک قیامت خیز مرحلہ ہے۔ جو عمر بھر مقام لذت رہا وہ ایک مقام عذاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ یہی اس دنیا کی باقی لذتوں کی داستان ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ساری زندگی نعمتوں اور لذتوں سے مالامال کیے رکھتے ہیں ۔ مگر جو لوگ یہ نعمت پا کر غفلت اور نافرمانی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک روز ان کے ہر مقام لذت کو مقام عذاب بنا دیا جائے گا۔ یہ دن وہ ہو گا جب قیامت کے بعد تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔ پھر ہر مجرم و سرکش کو جہنم رسید کیا جائے گا۔

شکر گزاری کے بجائے سرکشی کی راہ اختیار کرنے والے ان مجرموں کو کھانے اور پینے کے لیے خاردارجھاڑ یاں، خون، پیپ، کھولتا ہوا پانی، زقوم اور اس نوعیت کی دیگر بدمزہ اور تکلیف دہ چیزیں دی جائیں گی۔ یہ چیزیں ان کے منہ، گلے اور پیٹ کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالیں گے۔ ایک ایک گھونٹ، ایک ایک لقمہ عذاب کی ایک نئی شدت لیے ان کا منتظر ہو گا۔ مگر ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو گا۔ بھوک ان کو مجبور کرے گی اور وہ اس کی اذیت سے بلبلا کر اس کھانے کی اذیت کو گلے لگانے پر مجبور ہوں گے ۔

اس کے برعکس کچھ اور لوگ جنت کی پرکیف بستی میں ہمیشہ کے لیے بسا دیے جائیں گے ۔ ہرلمحہ ایک نئی لذت سے ان کا تعارف ہو گا۔ کھانے اور پینے کی ہر چیز وہاں سرور، کیف، مستی، ذائقے اور لذت کے ایک نئے پہلو سے ان کو روشناس کرائے گی۔وہاں کی شراب ان کے سر میں درد کرے گی نہ ہوش و حواس سے بے گانہ کرے گی۔ وہاں کے کھانے نہ بدہضمی پیدا کریں گے نہ حوائج ضروریہ کا باعث بنیں گے ۔ نہ پیٹ میں گرانی ہو گی نہ سینے میں جلن ہو گی۔نہ کھانا کم پڑ ے گا نہ پیٹ بھرنے کی وجہ سے ہاتھ روکنے پر مجبور ہوں گے ۔

یہ جنت صرف انھی لوگوں کا مقدر ہے جو گزشتہ دنیا میں اپنے تعصبات اور جذبات سے بلند ہوکر ایمان کو اختیار کرنے والے بنے۔ اپنے پیدائشی مذہب، روایتی فرقے اور ابتدائی نظریات سے بلند ہوکر سچ کی پیروی کرنے والے بنے۔ اپنی عملی زندگی میں اعلیٰ اخلاق کی پیروی کرنے والے اور صبر و شکر سے زندگی گزارنے والے بنے ۔ انھوں نے جان لیا کہ ان کا وہ مالک کتنا کریم ہے جس نے ہر مقام اذیت کو مقام لذت بنارکھا ہے ۔ ان کی یہی دریافت حمدو تسبیح کے ان نغموں میں ڈھل جاتی ہے جسے سننے کے لیے آسمان و زمین ترستے ہیں ۔ مگر یہی نغمے آج کا غافل انسان گانے پر تیار نہیں ہے ۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ایمان | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *