مکاتیب – جنوری 2014 – امتحان کی مختلف قسمیں ﴾Abu Yahya ابویحییٰ﴿

Download PDF

مکاتیب

ابو یحییٰ

امتحان کی مختلف قسمیں

[ابو یحییٰ صاحب کی کتاب ’’جب زندگی ہو گی‘‘ کے حوالے سے ایک سوال پر یہ مکتوب تحریر کیا گیا۔ مکتوب الیہ اور بعض دیگر اہل علم کے نام باوجوہ حذف کر دیے گئے ہیں، ادارہ۔]

برادر عزیز

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہماری گفتگو تشنہ رہی۔ لیکن اب یہ ممکن ہے کہ آپ کے اشکالات پر میں اپنا نقطہ نظر تفصیل سے بیان کر دوں۔ یہ ویسے بھی مولانا ۔۔۔۔۔۔ کا مجھ پر ایک ادھار ہے کہ اصل میں یہ اعتراض انہی کا تھا۔ چنانچہ واپس آ کر میں نے ان کی اس تحریرکو تلاش کیا جو ماہ اپریل میں آپ کے توسط سے مجھے ملی تھی، مگر ’’قران کا مطلوب انسان‘‘ اور’’تیسری روشنی‘‘ کی اشاعت اور کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر میں ابھی تک اس تحریر کو نہیں دیکھ سکا تھا۔ آج اسے دیکھا تو وہ اعتراض واضح طور پر سامنے آ گیا جو ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ میں میرے بیان کردہ اس نقطہ نظر پراٹھایا گیا ہے کہ اس دنیا میں اگر انسانیت کے بعض گروہوں کا امتحان جدا جدا ہے تو یہ دراصل ان کا اپنا انتخاب ہے ، (صفحہ 81-80)۔

میں آپ کے یا مولانا ۔۔۔۔۔۔ صاحب کے اعتراضات کا بعد میں جواب دوں گا پہلے اپنا نقطہ نظر کچھ وضاحت سے پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ میرا تاثر ہے کہ میری بات اور دلائل کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں گیا۔ جب بات سمجھی ہی نہیں گئی تو کسی بھی قسم کی تردید اکثراپنے اور دوسرے کے وقت کا زیاں بن جاتی ہے۔ اس گنہہ گار پر اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنی علمی اور تحقیقی زندگی کی ابتدا ہی میں یہ اصول سمجھ لیا تھا کہ جب کسی پر تنقید کرنا مقصود ہو تو پہلے مرحلے پر اس کا نقطہ نظر پوری ہمدردی کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے۔ اس طرح کہ جب ہم اس کا نقطہ نظر بیان کریں تو وہ بھی کہہ اٹھے کہ بالکل درست بات بیان کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے سوال کر کے بات کو سمجھا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے پر ہی اگر سوال کے بجائے اعتراض شروع ہوجائے تو پھر ختم نہ ہونے والی بحث شروع ہوجاتی ہے جس کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس دنیا میں انسانی گروہوں کا امتحان یکساں نہیں۔ یہی وہ بات ہے جس سے میں نے اپنی کتاب میں یہ گفتگو شروع کی ہے۔ مگر اگلی بات جو ایک مسلمہ اور معلوم حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ امتحان میں اختلاف کی نوعیت یہ نہیں کہ جن نمائندہ گروہوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان سب کو بالکل الگ الگ پرچہ امتحان دے دیا ہے۔ بلکہ پہلے گروہ کو جو امتحان دیا گیا ہے، اگلے کو اسی کو مشکل تر کرکے دے دیا گیا ہے۔ یعنی عام انسان جو نبیوں کی امت میں پیدا نہیں ہوئے ان کا امتحان فطرت میں موجودہ عقیدہ توحید اور خیر و شر کے تصورات کے مطابق زندگی گزارنا ہے تو ایسا نہیں کہ اگلے گروہ کو اس ذمہ داری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ بلکہ اگلا گروہ یعنی نبیوں کی امت کو ان کے ساتھ اگلا امتحان شریعت کی پاسداری کا بھی درپیش ہے۔ وہ فطرت کے تقاضوں کے مطابق اخلاقی رویہ کو بھی اپنائیں گے اور شریعت کے ضوابط و قواعد کی پابندی بھی ان کے لیے ضروری ہے۔ اس سے اگلا گروہ یعنی انبیاء کے زمانہ پانے والوں کی اصل ذمہ داری اگر یہ ہے کہ وہ نبیوں کی تصدیق، تائید اور نصرت ہر حال میں کریں تو ساتھ میں اخلاقیات اور شریعت کے مطالبات سے بھی انہیں کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔

اب اپنی بات سمجھانے کے لیے میں تینوں گروہوں کے کاملین کو لے لیتا ہوں۔ یعنی پہلے گروہ کا کامل شخص وہ ہوگا جو اپنے روایتی نقطہ نظر سے اوپر اٹھے گا اور توحید کو مان لے گا پھر ایک اعلیٰ اخلاقی رویے کے مطابق زندگی گزارے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ اس تک شریعت کی رہنمائی پہنچی نہ وہ اس کے مطابق عبادات اور دیگر مطلوب اعمال کو اختیار کرے گا۔ یہی معاملہ نبی کے ایک امتی کا ہوگا کہ وہ کامل درجے پر اخلاقیات اور شریعت کے تقاضوں پر عمل کر بھی لے، اپنے فرقہ وارانہ تعصب سے اوپر اٹھ  کر نبی کی تعلیم کے مطابق زندگی گزار بھی لے، تب بھی اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ نبی کی اس وقت تصدیق کرے جب دنیا اسے گلی بازاروں میں چلنے پھرنے والا، کھانے پینے والا ایک عام بشر مانتی تھی۔ نبی تو اس کا پیدائشی ہیرو اور اس کا تعصب ہے۔ وہ بہت تیر مارے گا تو بہت سے تصورات کی نفی کر کے نبی کی اصل بات تک جاپہنچے گا۔ ساتھ دے گا تو کسی ایسے ہی عالم کا دے گا جو اللہ کے نبی ہی کے نام پر کھڑا ہو گا۔ مگر پھر بھی نبی پہلے دن سے اس کا تعصب اور اس کی محبت ہو گا۔ جبکہ صحابی اس وقت نبی کی تصدیق کرتا ہے جب دنیا اسے کذاب، جادوگر، شاعر اور مجنون کہہ رہی ہوتی ہے۔ جب نبی اس کے تمام معبودوں کو معبودان باطل قرار دے رہا ہوتا ہے۔ نبی اس کے مصدقہ دینی معمولات کو جھوٹ کا پلندہ اور اس کے اسلاف کے طریقے کو گمراہی کا راستہ قرار دے رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں نبی کی تصدیق وہ عمل ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھی بلاشبہ بہت بڑا عمل ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو میرے اور آپ جیسے کسی شخص کے لیے کرنا کسی صورت آج ممکن ہی نہیں الا یہ کہ کوئی نیا نبی آجائے اور یہ دروازہ اب قیامت تک کے لیے بند ہو چکا ہے۔

Posted in Letters - مکاتیب, ابویحییٰ کے آرٹیکز | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

4 Responses to مکاتیب – جنوری 2014 – امتحان کی مختلف قسمیں ﴾Abu Yahya ابویحییٰ﴿

  1. anonymous says:

    thanks for sharing this article. I always wondered about this issue when i read your book. Alhamdulillah you explained it quite well in this article.

  2. Sajjad says:

    Thanks for the details answer . This question was in my mind while reading “When Life begins”
    Jazak ALLAH

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  4. sajjal says:

    jzakallah you gave complete answers….these questions raised in my mind during the study of “jb zindgi shuru hoge”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *