(مکاتیب – جولائی 2014) (Abu Yahya ابویحییٰ)

 

مکاتیب

21-05-14

ابویحییٰ

عزیز بہن محترمہ وردہ ہارون صاحبہ

السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ

آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں لیکن ایک اصولی بات یاد رکھیں ۔ دین کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے یعنی خود کو پاک رکھنا۔ اسی پاکیزگی کو جو چیزیں آلودہ کرتی ہیں ان میں سے نمایاں ترین پر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود گفتگو کر کے بتایا ہے ۔ فحش، منکر، ظلم و تعدی، شرک و بدعت یہ سب نفس کو آلودہ کرنے والی چیزیں ہیں ۔

دور جدید میں ٹی وی فواحش پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے لیکن یہ دور جدید کے تمدن کا ایک ایسا لازمی حصہ بھی ہے جس سے بچنا آسان نہیں ۔ اس لیے ٹی وی دیکھتے ہوئے اس اصول کی روشنی میں اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے ۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں ۔

لغو بے مقصد اور بے کار باتوں کو کہا جاتا ہے ۔ لغو قسم وہ قسم ہوتی ہے جو لوگ بلا قصد و ارادہ بلاوجہ کھاتے رہتے ہیں ۔ یہ بے کار باتیں اکثر بے ہودگی، شور و غوغا کی سطح کو جا پہنچتی ہیں جس میں گفتگو مسلمہ اخلاقی معیارات سے گر کر کی جاتی ہے ۔ جملہ بازی، ہوٹنگ، طنز، تضحیک اور تمسخر کے جملہ سامان اس گفتگو کا لازمہ ہوتے ہیں ۔ جس وقت قرآن مجید نازل ہو رہا تھا تو کفار نے جہاں اسلام کی دعوت کو نقصان پہنچانے کے لیے اور حربے اختیار کیے تھے وہیں ایک حربہ مسلمانوں کو بے حوصلہ کرنے کے لیے یہ تھا کہ ان کے خلاف ایک بھرپور پروپیگنڈا مہم چلائی جائے ۔ یہ مہم ان تمام عناصر پر مشتمل تھی جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ لغو کا لفظ قرآن مجید نے اسی پس منظر میں اس پروپیگنڈا مہم کے لیے استعمال کیا ہے اور اس کا جواب دینے کے بجائے اس سے اعراض کرنے اور سلام کر کے گزر جانے کا حکم دیا ہے ۔ اسی لغو کے نہ ہونے کو وہ جنت کی ایک بڑی نعمت گنواتا ہے ۔

قرآن مجید کے ایک مقام پر لغو سے مراد بے مقصد چیزوں کو چھوڑنا بھی لیا جاتا ہے تاہم لغو کو جس معنی میں قرآن مجید میں زیادہ زیر بحث لایا گیا ہے وہ مذکورہ بالا پس منظر میں ہے ۔ قرآن مجید نے ترک لغویات کا حکم نہیں دیا بلکہ اعراض کا حکم دیا ہے ۔ ترک اپنے کسی کام کو کیا جاتا ہے جبکہ اعراض کرنا اس وقت موزوں ہوتا ہے جب کسی خارجی عمل سے بچنا پیش نظر ہے ۔

لھو و لعب سے مراد کھیل تماشہ ہے ۔ اس کو دور جدید کی اصطلاح میں انٹرٹینمنٹ کہتے ہیں ۔ قرآن مجید نے اس کو دنیا کی زندگی کا ایک حصہ قرار دیا ہے ۔ مگر اس کی مذمت اگر کی ہے تو اس پہلو سے جب یہ انسان کو عبادت سے ہٹا دے اور گمراہ لوگ اس کو دین کی دعوت سے دور کرنے کے لیے استعمال کریں ۔ یہ کام اگر بیوی بچے بھی کریں تو وہ بھی قابل مذمت قرارپائیں گے ۔ اپنی ذات میں یہ مباح چیزیں ہیں ۔ البتہ ٹی وی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں معلومات اور تفریحات کے ساتھ فواحش، منکراور لغو اکثر مل جاتے ہیں ۔ ا ن سے بچنا چاہیے ۔ کوئی چیز تفریح اس وقت تک رہتی ہے جب وہ ایک دائرے میں ہو۔ اس سے باہر جب وہ عادت اور مقصد بن جائے تو پھر خود بڑی ناپسندیدہ چیز بن جاتی ہے ۔ اس پر متنبہ رہنا چاہیے ۔

نگاہ کی حفاظت کے حوالے سے جس روایت کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ضعیف ہے ۔ اس معاملے میں اصل اصول قرآن مجید میں زیر بحث آ گیا ہے کہ مرد ہو یا عورت دونوں پر لازمی ہے کہ اپنی نگا ہوں کو آوارہ نہ چھوڑیں ۔ وہ صنف مخالف کو اگر دیکھیں توبطور انسان دیکھیں ۔ نگاہ کو کبھی آوارہ نہ ہونے دیں کہ جنسی لذت کی طلب میں خدو خال کا جائزہ لیتی پھرے بلکہ ایسا کوئی موقع پیش آجائے تو نگاہ جھکالیا کریں ۔ یہ بات کہ کوئی خاتون علی الاطلاق کبھی کسی مرد کو نہ دیکھے ، دین کا مطالبہ نہیں ۔

خواتین کے لیے اپنی محرم رشتہ داروں میں زینت دکھانے پر پابندی نہیں ۔

والسلام

ابو یحییٰ

_____***_____

 

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (مکاتیب – جولائی 2014) (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *