(مکاتیب – جون 2014) (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

مکاتیب

ابویحییٰ 

[مئی کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول کے حوالے سے زبور اور انجیل کی ایک پیش گوئی پر ایک مضمون شائع ہوا تھا۔اس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام نے آنے والے نبی اور ان کے اصحاب کی امامت کی پیش گوئی کر دی تھی۔ یہ خط اسی حوالے سے اٹھائے گئے ایک اشکال کے جواب میں لکھا گیا ہے ۔ادارہ]

برادر محترم کاشان اقبال صاحب 22 اپریل ، 2014

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

آ پ کا ای میل اور تبصرہ موصول ہوا جس کے لیے آ پ کا بہت شکر گزار ہوں ۔

جس امکان کا آ پ نے ذکر فرمایا ہے کہ سیدنا مسیح کا اشارہ اپنی امت کی طرف تھا کہ یہود کے عزل کے بعد وہ منصب امامت پر فائز کیے جا رہے ہیں یقینا وزنی ہے ۔ تاہم اپنی تحقیق کے دوران ہی دو وجوہات کی بنا پر مجھے اس امکان کو رد کرنا پڑا۔ پہلی یہ کہ پیش گوئی اصلاً سیدنا داود نے دوران حج کی تھی۔ وہاں نہ صرف اس کونے کے پتھر والی پیش گوئی کی گئی تھی بلکہ ساتھ ہی ایک آنے والے کی خوش خبری یہ کہہ کر دی گئی تھی :

“مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آ تا ہے”

یہی نہیں بلکہ اگلے جملے میں وہ اس موقع پر بنی اسماعیل کو یہ کہہ کر دعا دیتے ہیں:

“ہم نے تم کو خداوند کے گھر سے دعا دی ہے”

چنانچہ حج کا موقع اور بنی اسماعیل کو دی جانے والی دعا اس با ت کی گنجائش کم ہی چھوڑتے ہیں کہ کونے کے اس پتھر سے مراد جسے معماروں نے رد کر دیا تھا بنی اسماعیل کے سوا کوئی اور لیے جائیں ۔

مزید یہ کہ اگر مراد امت مسیح ہوتے تو اس پیش گوئی کو بیان کرتے وقت سیدنا مسیح، مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آ تا ہے کہ الفاظ دہرا کر یہ بھی واضح کر دیتے کہ یہ پیش گوئی ان کے بارے میں کی گئی ہے ۔ مگر وہ اس کا ذکر نہیں کرتے ۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ اس کا مصداق خود کو نہیں بلکہ نبی عربی کو سمجھتے تھے اور آ گے بھی ان ہی کی قوم یعنی بنی اسماعیل کا تذکرہ ہے ۔

دوسری وجہ تاریخی ہے جس کا ذکر میں نے اپنے اصل مضمون میں کر دیا ہے ۔ وہ یہ کہ سیدنا مسیح کی امت کسی طور پر وہ پتھر نہیں تھی کہ جس پر آ نجناب کے یہ الفاظ صادق آ سکیں کہ جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن وہ جس پر گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔

مسیحیوں کو یہودیوں پر تو غلبہ رہا ہے لیکن تاریخ میں ابتدائی تین صدیوں تک رومی مشرک انھیں کچلتے رہے اور پھر اسلام کے بعد اگلے 1200 برس تک وہ مسلمانوں کے ہاتھوں بری طرح پٹتے رہے ہیں ۔ ایسے میں وہ کسی طور پر سیدنا مسیح کے ان الفاظ کا مصداق نہیں جو آنجناب نے ارشاد فرمائے ۔ جبکہ نبی کریم کے ساتھیوں سے جو ٹکرایا یا جس کسی سے وہ ٹکرائے سب کا انجام ایک ہی ہوا۔ اس لیے تاریخی طور پر عیسائی کسی پہلو سے اس پیش گوئی کے مصداق نہیں ہو سکتے ۔

تاہم یہ میری رائے ہے ۔ اس پر آ پ غور کیجیے ۔ میں بھی غور کرتا رہوں گا۔

والسلام

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (مکاتیب – جون 2014) (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Amy says:

    Jazak Allah khair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *