مکاتیب – فروری- 2014 – حرام کھانے کا علم اور حدیث جبرائیل کا مطلب – ﴾Abu Yahya ابویحییٰ﴿

Download PDF

 مکاتیب

ابویحییٰ

حرام کھانے کا علم اور حدیث جبرائیل کا مطلب

محترم نجیب احمد صاحب

السلام وعلیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

آپ کا یہ فرمانا بظاہر درست محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں تو خور و نوش کے حوالے سے نام لے کر انہی چیزوں کی حرمت بیان ہوئی ہے جن کا ذکر آپ نے سورہ مائدہ (5:3) کے حوالے فرمایا ہے۔ اس کے بعد ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ دنیا بھر میں جو ان گنت چیزیں ہیں ان میں سے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں ۔اس سوال کا جواب اسی سورہ مائدہ کے آ غازمیں ’’ الیوم احل لکم الطیبات، (المائدہ 5:4) یعنی آج تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حرال کر دی گئیں ہیں ، کے الفاظ سے دے دیا گیا ہے ۔

قرآن کریم کے اس بیان کا مدعا یہ ہے کہ انسان جس فطرت پر پیدا ہوا ہے اس کی بنا پر دنیا میں پائی جانے والی ان تمام چیزیوں کو نہیں کھا لیتا جنھیں اس کے جبڑے چبا سکیں یا جسے اس کا معدہ ہضم کرسکے ۔ انسانیت نے ہر دور میں کچھ خاص چیزوں کو پاکیزہ سمجھ کر کھایا ہے اور باقی چیزوں کو خبیث یا ناپاک سمجھ کر اپنے دسترخوان کی زینت نہیں بنایا۔

انسان جانتے ہیں کہ شیر اور چیتا، چیل اور گدھ، سانپ اور بچھو وغیرہ جیسی چیزیں کھانے کی نہیں ہوتیں ۔انسان سمجھتے ہیں کہ گھوڑے  گدھے اصلاً سواری کے جانور ہیں ۔ اسی طرح بول براز جیسی چیزیں لذت طعام نہیں بن سکتیں۔ چنانچہ ہر دور اور ہر نسل کے لوگوں نے ہمیشہ کھانے پینے کی اشیا میں ایک دائرہ مقرر کر کے اپنے دستر خوان کی حدود کو اس دائرے تک ہی محدود کیے رکھا ہے۔

انسانی تاریخ میں اس اصول سے صرف دو استثنا ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ کچھ چیزوں کے بارے میں ابہام پیدا ہوا اور انسانیت کی ایک بڑ ی تعداد نے ان کو کھانے پینے میں شامل کر لیا، اس کی ایک مثال شراب ہے جس کا پینا بظاہر خبیث نہیں لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے یقینا نجس ہے۔ چنانچہ قرآن نے اس حرکت کو موضوع بنا کر ا سکے پینے سے اسی سورہ مائدہ میں روکا ہے ۔(5:90)۔ اس کی ایک اور مثال لحم خنزیر یعنی سور کا گوشت ہے ۔ چنانچہ اسے بھی موضوع بنا کر خاص طور پر اس کی حرمت واضح کی گئی ہے ۔ یہی معاملہ ان کچھ اور چیزوں کا ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں حرمت کے پہلو سے بیان ہوا ہے۔

انسانی تاریخ کا دوسرا استثنا وہ ہے جس میں انفرادی طور پر بعض افراد یا کسی علاقے کے لوگوں میں محدود طور پر کھانے پینے میں وہ چیزیں در آئیں جو خبیث ہیں ۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ بعض علاقوں کے کچھ لوگ سانپ کھا لیتے ہیں۔ کچھ افریقی قبائل درندوں کا گوشت کھا جاتے ہیں ۔ انفرادی طور پر بعض لوگ بول وبراز کی نجاست کو بھی ہضم کرجاتے ہیں ۔ مگر یہ سب محدود درجے کے انحرافات ہیں ، اور انسانیت کا مجموعی خمیر ان چیزوں کے خلاف ہی رہا ہے۔ اسی پر قرآن مجید نے احل لکم الطیبات کہہ کر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اس ضمن کا آ خری سوال یہ ہے کہ اگر کبھی شبہہ ہوجائے کہ طیب کیا ہے اور خبیث کیا تو کس علاقے کے لوگوں کی خورونوش کی عادات فیصلہ کن ہوں گی۔ ہمارے نزدیک یہ حیثیت ملت ابراہیم کو حاصل ہے جس میں پچھلے چار ہزار سال سے پیغمبر مسلسل آ رہے ہیں ۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ وحی و نبوت کی اس رہنمائی کی بنا پر ان کے ہاں کسی بھی خبیث چیز کا در آنا بہت مشکل ہے ۔

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

5 Responses to مکاتیب – فروری- 2014 – حرام کھانے کا علم اور حدیث جبرائیل کا مطلب – ﴾Abu Yahya ابویحییٰ﴿

  1. Mohmad Sultan says:

    Ok

  2. sajjad says:

    amazing. I am frightened after reading this

  3. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  4. mrs.hassan says:

    Jazak Allah

  5. Ch. Ghulam Rasool says:

    Subhan allah. I have read the book Jab zindgi shuru ho gi and Hadees-e-dill. Kia naqsha khaincha hae maujoodah zindgi ka aor ane wali zindgi ka.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *