مکاتیب (Abu Yahya ابویحییٰ)

مکاتیب

ابویحییٰ

محترمہ ۔۔۔۔۔۔ صاحبہ 2016-12-13

آپ کے طویل ای میل میں مرکزی سوال ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ہر ماہ ماہواری کے ایام اور زچگی کی تکلیف میں کیوں ڈالا۔ پھر یہ کہ اس تکلیف میں جسمانی طور پر ڈالنے کے ساتھ نماز روزہ نہ کرنے کا حکم دے کر اسے ایک روحانی اذیت میں بھی ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا۔ جبکہ وہ اس کے بغیر بھی پورا نظام بنا سکتے تھے۔

اس بات کے جواب میں پہلی اور اصولی بات یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورتوں کو دی گئی کوئی سزا نہیں ہے۔ جس طرح کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہو رہا ہے۔ نہ ہی یہ بات ہے کہ اللہ نے صرف عورتوں پر مشقت ڈالی ہے اور مرد کوئی ان کے لاڈلے ہیں ان کو ہر طرح کی مشقت سے بری رکھا ہے۔

دیکھیے یہ نسوانی تکالیف اس مجموعی خدائی اسکیم کا حصہ ہیں جس کے تحت امتحان کی اس دنیا میں کوئی نہ کوئی تکلیف ہر کسی کو لاحق ہوتی ہے۔ عورتوں کو اگر ایام و زچگی کی تکلیف لگی ہے تو مردوں کو ہر دور میں اپنے خاندان کی کفالت اور ان کی حفاظت کے لیے زبردست جسمانی اور ذہنی مشقت جھیلنے کی مشقت لگا دی گئی ہے۔ انھی مشقتوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ان کی اوسط عمر عورتوں سے ہمیشہ کم رہی ہے۔ ساتھ ساتھ وہ جان جانے، زخمی ہوجانے، حادثات کا شکار ہوجانے جیسے اندیشوں سے نہ صرف دوچار رہتے ہیں بلکہ تازیست عورتوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ، زیادہ درد اور زیادہ اسٹریس برداشت کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔

جو مرد اس مشقت کو مشقت سمجھتے ہیں، ان کی زندگی عذاب بنی رہتی ہے مگر جو مرد اسے خدائی اسکیم کا حصہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

اس لیے اصل مسئلہ انداز فکر کا ہے، خدائی نظام میں کسی خامی یا کمزوری کا نہیں۔ اگر حیض و زچگی کے مراحل ایسے ہی ناقابل برداشت اور تکلیف دہ ہوتے تو اس دنیا میں کوئی خاتون زندہ نہیں ہوتی اور سب اس تکلیف کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو چکی ہوتیں۔

تاہم اس کے باوجود ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا ساری تکالیف ختم کر دی جائیں؟ ایسا ہوا تو پھرآپ کا امتحان بھی نہیں رہے گا۔ اور امتحان نہیں تو پھر جنت ملنے کا امکان بھی نہیں رہے گا۔

آپ کے سوال سے دوسری بات یہ عیاں ہے کہ آپ انسانی سماج میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے غیر مساویانہ سلوک پر ناخوش ہیں۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ یہاں بارہا خواتین کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے۔ مگر اس میں اصل قصور انسانوں کا ہے۔ انسان ہر کمزور کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔ خود خواتین بھی جب طاقت کے مقام پر آتی ہیں تو دوسرے کمزوروں کے ساتھ اکثر یہی سلوک کرتی ہیں۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دنیا بنا کر ایسے ہی لوگوں کو ڈھونڈرہے ہیں جو اختیار کے باوجود زیادتی نہ کریں اور جن پر زیادتی ہو وہ منفی سوچ کا شکار ہونے کے بجائے صبر سے کام لیں۔ چنانچہ دنیا کی اس خرابی میں بھی یہی حکمت ہے کہ اس خرابی کے بغیر وہ اعلیٰ انسان نہیں مل سکتے جو جنت میں بسائے جائیں جہاں کوئی حیض ہو گا نہ دیگر تکالیف۔

آپ کے سوال کا یہ پہلو بھی جواب طلب ہے کہ خواتین کو اس میں نماز روزہ سے کیوں منع کیا گیا ہے ۔ دیکھیے یہ ہدایت ایک ڈسپلن کا حصہ ہے۔ لیکن اس ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے بھی خواتین خود کو روحانی طور پر اللہ سے قریب کرسکتی ہیں۔ سب سے بڑی اور بنیادی عبادت اللہ کی یاد ہے۔ اس پران دنوں میں کس نے پابندی لگا رکھی ہے۔ اللہ کو یاد کرتی رہیں آپ کی روحانیت بالکل اسی سطح پر رہے گی۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم جس امتحان میں ہیں اس میں ہر طرح کے حالات میں ہم کو اپنے انداز فکر کو درست رکھنا ہے۔ ایسا کریں گے تو ہمیں کوئی چیز خراب نہیں لگے گی۔ انداز فکر منفی کر لیں گے تو کوئی چیز بھی ہمیں ٹھیک نہیں لگے گی۔

آخر میں ایک واقعہ سن لیجیے جس میں اس طرح کے سارے سوالات کا جواب اللہ کے ایک جلیل القدر نبی حضرت عیسیٰ نے دے دیا تھا۔ ان سے ایک دفعہ شیطان نے اسی نوعیت کا ایک سوال کیا تھا۔ یعنی خدا تو جو چاہے کرسکتا ہے آپ خدا سے بات کر کے اس سے اپنی مرضی کا معاملہ کیوں نہیں کراتے۔ آنجناب نے جو جواب دیا اسے یاد کر لیجیے۔ یہ ہر مسئلے کی کنجی ہے ۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ خدا نے یہ دنیا ہمارے امتحان کے لیے بنائی ہے۔ اس لیے نہیں بنائی کہ ہم خدا کی حکمت اور قدرت کو چیلنج کر کے خدا کا امتحان لینا شروع کر دیں۔

والسلام علیکم

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to مکاتیب (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Gul Rays says:

    Jazak Allah Sir jee. There is no doubt about the injustice with women in majority of human societies. And this is fault of humans. But your answer cleared the confusion and helped us understand Allah’s way of running this universe. May Allah give strength and patience to women, and in general to all people. Ameen. Thank you.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *