نبی رحمت کی شادیاں : کچھ سوالات (Abu Yahya ابو یحییٰ)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو نشانہ بنانے والے مستشرقین نے ہمیشہ دو چیزوں کو نمایاں کیا ہے۔ ایک آپ کی شادیا ں اور دوسری آپ کی جنگی مہمات۔ یہ مستشرقین زیادہ تر مسیحی رہے ہیں جن کے مذہب میں رہبانیت کی بھرپور آمیزش ہوگئی ہے۔ رہبانیت کے تصورات کے تحت شادی نہ کرنا ایک بہترین عمل اور جنگ و جدل سے بچنا عین عبادت ہے۔ اس پس منظرمیں ان لوگوں کونبی کریم علیہ الصلوٰۃ و تسلیم کی سیرت مبارکہ میں یہی چیزیں سب سے زیادہ قابل اعتراض لگتی ہیں۔ آج کل بھی وقفے وقفے سے مغرب میں توہین رسالت کے جو واقعات کارٹون اور فلموں کی شکل میں سامنے آتے ہیں ان میں انہی دو چیزوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ پیش نظر مضمون میں ہم حضورکی شادیوں کے حوالے سے بعض حقائق پر توجہ دلا رہے ہیں تاکہ اپنے پرائے شادیوں کی تعداد کے بجائے ان حالات کو دیکھ کر حضور کی سیرت کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں۔ جہاد پر تبصرہ کبھی بعد میں کیا جائے گا۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے متعدد شادیاں کیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچیس برس عفیف زندگی گزارنے کے بعد آپ نے حضرت خدیجہ سے نکاح کیا اور پھر اگلے پچیس برس تک آپ نے کسی اور خاتون سے شادی نہیں کی۔ عرب کے کلچر میں کسی مرد کی دوسری تیسری شادی ایک معمولی بات تھی۔ مگر آپ نے نہ صرف ایسا نہ کیا بلکہ جب اعلان نبوت کے بعد قریش کے سرداروں نے آپ کو پیشکش کی کہ عرب کی حسین ترین عورتوں کوآپ سے بیاہ دیا جائے تو آپ نے ایسی کسی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ جو نقشہ مستشرقین کھینچتے ہیں اس نقشے کا انسان جوانی میں شادی سے قبل کیسے بے داغ رہ سکتا ہے؟ شادی کے بعد وہ پچیس برس تک کیسے صرف ایک خاتون سے نکاح پر قناعت کرسکتا ہے؟ جس شخص کی جوانی کی سیرت یہ ہو وہ بڑھاپے میں اچانک شادیوں کا شوق کس طرح خوشی خوشی پال سکتا ہے؟ مزید یہ کہ آپ کی شادیوں کی نوعیت یہ نہیں کہ آپ نے ایک دم عورتوں سے اپنا حرم بھرلیا ہو۔ بلکہ ایک نبی، رسول، لیڈر اور ایک رول ماڈل کے طور پر جب جب ضرورت لاحق ہوئی آپ نے شادیاں کیں۔ پھر جن خواتین سے شادی کی ان میں سیدہ عائشہ کوچھوڑ کر سب بیوہ، مطلقہ اور بال بچے دار خواتین تھیں۔ اس پر بھی آپ پر یہ پابندی تھی کہ آپ اپنی کسی بیوی کو طلاق دے کر خود سے الگ نہیں کرسکتے تھے نہ ایک مخصوص دائرے سے باہر شادی کرسکتے تھے۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت خدیجہ کے بعد بیوی کی حیثیت سے جو خاتون آپ کی زندگی میں آئیں وہ ایک نوجوان کنواری خاتون یعنی سیدہ عائشہ تھیں۔ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں یہ بات واضح ہے کہ سیدہ ہی آپ کے لیے سب سے محبوب ہستی تھیں۔ مگر اس کے باوجود آپ نے جب متعدد شادیاں کیں توعدل کی غرض سے خود پر یہ پابندی عائد کر دی کہ آپ کا وقت تمام بیویوں میں یکساں تقسیم ہو گا۔ گویا محبوب بیوی کے ساتھ جو وقت آپ گزارسکتے تھے اس کا ایک بڑا حصہ اب دوسری خواتین میں تقسیم ہو گیا۔

جس سیرت کا نقشہ یہ مستشرقین کھینچتے ہیں کیا اس نقشے کا انسان اسی طرح بیوہ ، مطلقہ خواتین سے شادیاں کر کے خود پر طرح طرح کی پابندیاں لگاتا ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ جوانی کے تلاطم سے بے داغ گزرنے والا انسان بڑھاپے کی پرسکون لہروں میں اپنی کشتی بے قابو ہونے دے؟ شادیاں جب خواہش نفس کے لیے کی جاتی ہیں تو خوبصورت ترین عورتوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ عرب کے سردار نے جن کے جنبش ابرو پر سب کچھ ممکن تھا کیا ایسی ہی خواتین سے شادیاں کی تھیں؟ اگر ان سب سوالوں کے جواب نفی میں ہیں اور بلاشبہ نفی میں ہیں پھر درود و سلام بھیجئے اس ذات پر جس نے اپنے عائلی سکون کو اللہ کے حکم اور معاشرے کی ضروریات پر قربان کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *